ریاست کا بٹوارہ منظور نہیں

دفعہ370کی منسوخی کے بعد عمر عبداللہ کا پہلا دورئہ کرگل

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید+غلام نبی زضیاء

۔ 5اگست کا فیصلہ ٹھونسا گیا، پیپلز الائنس اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کا اعلان

 سرینگر+کرگل// پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے جموں و کشمیر میں چار اگست 2019 کی پوزیشن کی بحالی کے لئے قانونی و سیاسی لڑائی مل کر لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔'کرگل ڈیموکریٹک الائنس' لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع کرگل میں مختلف سیاسی، مذہبی و سماجی تنظیموں کے اتحاد کا نام ہے۔ جمعے کو یہاں پیپلز الائنس اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے اراکین کے درمیان بند کمرے میں ہونے والی میٹنگ کے بعد عمر عبداللہ اور کرگل کے سینئر سیاست دان اصغر علی کربلائی نے میٹنگ کے تمام شرکاء کی موجودگی میں میڈیا سے خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کا ایک مشترکہ اور یکساں مطالبہ چار اگست 2019 کی پوزیشن کی بحالی ہے جس کیلئے ہم مل کر قانونی و سیاسی لڑائی لڑیں گے۔ عمر عبداللہ نے کہا: 'ہم کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے سبھی اراکین کے شکر گزار ہیں کہ آج ان سب نے وقت نکالا اور ہم سے ملاقات کی۔ ہم پیپلز الائنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر محبوبہ مفتی کے کہنے پر کرگل آئے ہیں'۔ انہوں نے کہا: 'سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم دونوں کا ایجنڈا یکساں ہے۔ ہم دونوں پانچ اگست 2019 کے فیصلوں کو نہیں مانتے ہیں، ہم جموں و کشمیر کے بٹوارے کو نہیں مانتے ہیں، ہم دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کی منسوخی کے خلاف ہیں، ہم چار اگست 2019 کی پوزیشن کی بحالی چاہتے ہیں، ہم نے بڑے خوشگوار ماحول میں ایک دوسرے سے بات چیت کی، ہماری یہی کوشش رہے گی کہ تال میل بنا رہے'۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی ہم سب کے خلاف سازش رچ رہی ہے اور وہ ہر ایک معاملے کو مذہبی رنگت دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا: 'جو چار اگست 2019 کی پوزیشن کی بحالی کی بات کرتے ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کا ایجنڈا ہے، یہ پاکستان کا ایجنڈا ہے، یہ اینٹی نیشنل ایجنڈا ہے'۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہماری لڑائی ملک کے خلاف نہیں بلکہ ہماری لڑائی بی جے پی اور اس کی سوچ کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا: 'بی جے پی ہندوستان نہیں ہے اور ہندوستان بی جے پی نہیں ہے، ہم جس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ ملک کے آئین میں درج تھی، ہم اس لڑائی میں پیچھے نہیں ہٹیں گے، آپ کو آج جموں میں بھی وہ لوگ ملیں گے جو دبے الفاظ میں ہی صحیح پانچ اگست 2019 کے فیصلوں کی مخالف کر رہے ہیں'۔ ان کا مزید کہنا تھا: 'جس طرح کرگل کے لوگ پانچ اگست کے فیصلوں کو نہیں مانتے ہیں اسی طرح آپ کو لیہہ میں بھی وہ لوگ ملیں گے جو پانچ اگست کے فیصلوں کے مخالف ہیں، ہمارا ایجنڈا مذہبی ایجنڈا نہیں ہے، یہ سابقہ ریاست جموں و کشمیر کے سبھی لوگوں کا ایجنڈا ہے'۔ عمر نے کہا کہ چار اگست کی پوزیشن کی بحالی کے لئے قانونی لڑائی لڑنے کے ساتھ ساتھ سیاسی لڑائی بھی لڑی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا: 'ہم مختلف سطحوں پر لڑائی لڑ رہے ہیں،ایک قانونی لڑائی ہے، سپریم کورٹ میں ہماری عرضی زیر سماعت ہے، ہم سیاسی لڑائی بھی لڑ رہے ہیں، ہم اپنی لڑائی پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہاں کا امن وامان خراب ہو'۔ عمر عبد اللہ نے بتایا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ لیہہ،کرگل اور جموں کشمیر کے لوگ مل کر اس جد و جہد میں شامل ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر ریاست کے بٹوار کا فیصلہ، ہم پر ٹھونسا گیا ، یہ فیصلہ ہماری اسمبلی کا نہیں تھا ،یہ فیصلہ ہمارے پارلیمنٹ کا نہیں تھا ، دستخط ہمارے وزیر اعلیٰ نے نہیں کئے  ، یہ اختیارغیر قانونی طور سابق گورنر نے بنا ہم سے پوچھے کر دیا اور ہمیں ڈی گریٹ کرکے ریاست کے بجائے یو ٹی کا درجہ دیا گیا،لیکن یہ فیصلہ ہم تسلیم کرنے کیلئے بالکل تیار نہیں ہیں اور اس لئے آج ہم سب نے اپنی سیاسی مخالفت کو ترک کر دیا‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا’’ ایک وہ دور تھا جب ہم سب آپس میں سیاست کرتے تھے، ایک دوسرے پر ہر وقت تنقید کرتے تھے ، لیکن آج ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اُن تمام چیزوں کو بھول جائیں، کوئی الیکشن نہیں، کوئی حکومت نہیں، کوئی کرسی نہیں ،کوئی طاقت نہیں، آج ہم ایک پلیٹ فارم پر آئے ہیں، اور ہمارا مقصد 5اگست 2019کو جو کالا قانون لاگو کر کے لداخ کے لوگوں کو جموں وکشمیر سے الگ کیا گیا ،اُس کو واپس کر کے آپ لوگوں کو پھر سے اپنے ساتھ جوڑدیں ،اور انشااللہ آپ لوگوں کا تعاون رہا ،ہم اس لڑائی میں پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں، اپنے مقصد تک پہنچ کر ہی رہیں گئے ‘‘۔ انہوں نے کہاہم کرگل کی عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ آپ اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھیں ،بے شک ہم زوجیلا پار رہتے ہیں، لیکن ہمارے دل اور دماغ ایک ہیں ، اور آپ کیلئے لڑتے رہیں گے، آپ کی آواز بننے کیلئے ہمیں جو بھی دروازہ کھٹکھٹانا پڑے، ہم کھٹکھٹائیں گے اور تب تک ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک نہ 5اگست 2019کا فیصلہ واپس کر کے ریاست کو دوبارہ بحال کریں ۔  اصغر علی کربلائی نے نامہ نگاروں کو بتایا: 'عمر صاحب کی سربراہی میں پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن کا ایک وفد یہاں تشریف لایا۔ وہ یہاں کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے اراکین کے ساتھ ملنے اور ان کے خیالات سننے کے لئے تشریف لائے ہیں۔ ہم تہہ دل سے ان کا استقبال کرتے ہیں۔ پانچ اگست سے پہلے اور ما بعد پانچ اگست 2019 سے متعلق امور پر خیالات کا تبادلہ ہوا'۔ ان کا مزید کہنا تھا: 'ہم سب کا ایک مشترکہ مطالبہ ہے کہ چار اگست 2019 کی پوزیشن بحال کی جائے۔ یہ کرگل ڈیموکریٹک الائنس اور پیپلز الائنس کا مشترکہ مطالبہ ہے۔ ہم کسی بھی قیمت پر اس سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ ہم جموں و کشمیر کے بٹوارے کے خلاف تھے اور رہیں گے'۔

تازہ ترین