تازہ ترین

اب بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا!

طنز و مزاح

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


ساحل احمد لون
روزگار کا غم کسے نہیں ہوتا۔جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ایک انسان کو روزگار کی فکر دامن گیر ہوجاتی ہے،گویا کہ غمِ روزگار اور جوانی کا آپس میں ایک اٹوٹ رشتہ ہے،چولی دامن کا ساتھ ہے۔روزگار کی تلاش میں ہم کیا کچھ نہیں کرتے ۔والدین کی عمر بھر کی جمع پونجی اولاد کی تعلیم پرخرچ ہوتی ہے۔ وہ یہ آس لگائے ہوتے ہیں کہ پڑھ لکھ کر اولاد خود کمانے کے قابل ہوجائے گی اور اُن کے کندھوں سے ایک بہت بڑا بوجھ اُترے گا۔کچھ رقم بچ بھی جائے تو وہ پھر افسران کو رشوت کھلانے میں صرف ہوتی ہے تاکہ اولاد کے ہاتھ چھوٹا موٹا ہی سہی،کوئی روزگار آجائے۔ مگر ان ساری چیزوں کے باوجود بھی نتیجہ ندارد۔یہ سب باتیں تو آپ سب جانتے ہی ہیں مگر میں جس بات کا خلاصہ کرنے جارہا ہوں ممکن ہے کہ وہ آپ کے لیے سونے پہ سہاگا ثابت ہو ۔میں آپ کو ایک نسخہ دینے والا ہوں جو راتوں رات آپ کو لَکھ پتی بنا سکتا ہے اور آپ کے روزگار کا مسئلہ حل کرسکتا ہے۔آپ کے ذہن میں ضرور یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ آخر جو کام پوری دُنیا کے لیڈر ان آج تک مل کر نہیں کرپائے، میں ایک اکیلا بندہ کیسے کرسکتا ہوں؟کیا میرے پاس کوئی جادوئی چھڑی یا پھر اللہ دین کا چراغ ہے؟ تو سنئے۔
 چند روز قبل میں اپنے ایک عزیزشعبان کاک کے گھرگیا تھا۔شعبان کاک ہے تو عمر رسیدہ مگر(Up To Date) اتنے کہ ایک نوجوان کو بھی مات دے۔اُن کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے۔پوری دُنیا کے حالات کی خبر گھر بیٹھے رکھتے ہیں۔ ہاں یہ بات الگ ہے کہ جس طرح دُنیا کے لوگ ان حالات کو سمجھتے ہیں وہ ویسے نہیں سمجھتے۔اُن کے سمجھنے کا انداز ذرا مختلف ہوتا ہے۔مثال کے طور پر اگر آپ کے ٹی وی سکرین پر یہ خبر نشر ہورہی ہے کہ ’ملک کی فضائیہ میں دو سو جنگی جہازوں کی کمی ہے‘ تو وہ اس خبر کو اس طرح سمجھیں گے کہ’ ملک کی فضائیہ کے دو سو جہاز دشمن کے ہاتھوںمار گرائے گئے‘۔اتنا ہی نہیں بلکہ اُن کے پاس دُنیا کے ہر مسئلے کا حل بھی ہوتا ہے۔میں اگرچہ عمر میں اُن سے کافی چھوٹا ہوں مگر میری اُن سے خوب جمتی ہے اس لیے اُن کے گھر آنا جانا رہتا ہے۔خیر جب میں اُن کے گھر پہنچا تو وہ اپنے کمرے میں گُم سُم بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔کچھ دیر تک ہم نے بات چیت کی تو اتنے میں ہی اُن کے شاطر دماغ نے اس بات کو بھانپ لیا کہ میں اُداس ہوں۔مجھ سے اداسی کی وجہ پوچھی تو میں نے جواباً کہا کہ کاکا !جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے جارہا ہوں اور روزگار کی ابھی تک کوئی سبیل نہیں ہوئی،سوچتا ہوں کہ کیا کروں۔کچھ دیر تک خاموش رہے،کسی گہری سوچ میں غوطہ زن ،پھر حقے کی نلی منہ سے نکالی اور کہنے لگے’’میرے پاس بے روزگاری کے خاتمے کا ایک بہترین نسخہ ہے۔انسان اگر سچے من سے کام کرے تو اس نسخے پر عمل پیرا ہوکر راتوں رات لَکھ پتی بن سکتا ہے۔مگر مجھے یہ بات بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر میں یہ نسخہ بتادوں تو آجکل کے لونڈے مجھے پاگل اور جنونی سمجھ بیٹھیں گے۔تم بھی شائد میرے اس نسخے کو ہنسی مذاق امیں ٹال دو گے اس لیے جانے دو میں نہیں بتاتا۔‘‘
’’ارے نہیں نہیں کاکا! میں دوسرے لڑکوں کی طرح نہیں ہوںمیں آپ پر مکمل بھروسہ کرتا ہوں ۔آپ بتائیں تو سہی۔‘‘میں نے تجسس سے کہا۔اُس نے پہلے دائیں بائیں غور سے دیکھا اور پھر رازداری سے کہنے لگیں،’’تعویذ ٹوٹکے کا کام!‘‘’’لا حول ولا قوۃ،مطلب۔۔۔مطلب پیری مُریدی کا کام؟‘‘
’’ہاں‘‘
’’نہیں نہیں شعبان کاکا !مجھ سے نہیں ہوپائے گا یہ کام،اس کے لیے ایک انسان کو مذہب کا پابند بننا پڑتا ہے ،خدا کی قربت حاصل کرنی ہوتی ہے۔۔نہیں نہیں مجھ سے ہر گز یہ سب نہ ہوگا‘‘۔’’ ارے لونڈے ! سُنو تو سہی اتنے بھی جوکھم کا کام نہیں ہے یہ جتنا تم بتا رہے ہو ،مذہب پر چلنا ،خدا کی قربت حاصل کرنا۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔‘‘
’’تو؟‘‘
’’بس مہینہ ڈیڑھ مہینہ کمرے میں بند رہو،داڑھی اور بال بڑھاؤ،چوبیس گھنٹے تسبیح ہاتھ میں رکھو۔۔۔بس ہوگیا کام۔ہاں اس کام میں قدرے احتیاط بھی کرنی ہوگی کیونکہ کام ذرا رِسکی(Risky) بھی ہے۔‘‘
’’اچھا تو کس طرح کا رسکی(Risky) کام ہے یہ؟ اور تمہیں اس کام کے بارے میں اتنی گہری علمیت کیسے ہے؟‘‘
’’کیونکہ بہت پہلے میں خود بھی یہ کام کیا کرتا تھا!‘‘
’’ Oh my God۔۔۔مجھے تو یقین ہی نہیں ہوتا کہ تم۔۔۔کہ تم نے کبھی یہ کام کیا ہوگا۔۔۔اور اگر کیا بھی ہے تو پھر چھوڑا کیوں ؟‘‘
’’سب نصیبوں کا کھیل ہے،جب قسمت کا تارا غروب ہوجاتا ہے تو پھر کوئی کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا۔‘‘
پھر شعبان کاک نے ساری کہانی سُنادی اور میری آنکھو میں آنسو آگئے۔۔۔۔
’’بہت پہلے کی بات ہے لونڈے!۔میرے چرچے دور دور تک تھے۔لوگ مجھے بڑا خدا ترس اور پہنچا ہوا ولی اللہ سمجھتے تھے۔اُنہیں مجھ پر بڑا اعتقاد تھا۔ایسا کوئی کام نہیں تھا جسے نکلوانے کے لیے لوگ میرے پاس نہ آتے ۔کوئی گائے کے کم دودھ دینے کا مسئلہ لے آتا،کسی کو نوکری ملنے کی تعویذ درکار ہوتی،کسی کو جن بھوت کا سایہ دور کرانا ہوتا،ساس کو بہو قابو کرنی ہوتی یا پھر بہو کو ساس، غرض ایسا کوئی مسئلہ نہ تھا جو لوگ میرے پاس نہ لاتے اور میں بھی انہیں مایوس نہ کرتا تھا۔پھر ایک دن قسمت نے میرا ساتھ چھوڑ دیا اور میرا سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔ہوا یوں کہ ایک دن میرے خاص مریدوں میں سے ایک میرے در پر حاضر ہوا اور میرے قدموں میں سر ڈال کرکہنے لگا کہ میرے مکان کی دوسری منزل کے ایک کمرے کو جنوں اور بھوتوں نے اپنے حصارمیں لیا ہے،خدا را اُنہیں وہاںسے بھگا دیجیے۔اُس وقت کمرہ مریدوں سے بھرا پڑا تھا اس لیے انکار کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ عزت کا سوال تھا اور پھر سائل بھی کھاتے پیتے خاندان سے تھا اس لیے موٹی رقم ملنے کی اُمید بھی تھی۔خیر میں نے حامی بھرلی اور اگلے روز اُن کے گھر چلا گیا۔سب وہاں سہمے ہوئے تھے۔کوئی میرے ساتھ دوسری منزل پر آنے کے لیے تیار نہ تھا اس لیے مجھے اکیلا ہی جانا پڑا۔ خوف کی وجہ سے دل بہت گھبرا رہا تھا،حلق خشک ہورہا تھا اورہاتھوں میں کپکپاہٹ طاری ہوگئی تھی۔کسی طرح میں نے ہمت جٹائی اور اُس آسیب زدہ کمرے کا دروازہ کھولا۔وہاں کوئی نہیں تھا۔سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا۔میں نے گھبراہٹ کے عالم میں ہی اب جلدی کمرے کا دروازہ بند کیا اور وہاں سے نکلنے لگا۔دروازہ بند کرنے کی دیر تھی کہ کسی نے مضبوطی سے میرے کُرتے کو کھینچ لیا۔میرے منہ سے بے ساختہ ایک زوردار چیخ نکلی۔چیخ نکلنے کی دیر تھی کہ سارا محلہ خوف اور ڈر کوایک طرف چھوڑ کر مجھے بچانے دوسری منزل پر اُمڈ آیا۔میں ابھی اپنے ہواس سنبھال ہی نہیں پارہا تھا کہ اتنے میں ایک نوجوان نے کہا کہ پیر صاحب! آپ کو کسی جن اور بھوت نے نہیں پکڑا ہے،دراصل آپ کا کُرتا دروازے میں بند ہوگیا ہے!‘‘
رابطہ۔برپورہ پلوامہ کشمیر
ای میل۔lonesahilahmadkmr@gmail.com