تازہ ترین

مقامی صحافت:ماضی اور حال کے آئینے میں۔۔۔۔ قسط دوم

سوزِ دروں

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


منظور انجم
 گزشتہ ہفتے مقامی صحافت پر ’’ سرکار نوازی ‘‘کے الزامات کے موضوع پر بات شروع کرتے ہوئے صحافت کے ماضی اور حال کا تذکرہ اس کا لازمی حصہ بن گیا تھا اور مین سٹریم لیڈر شپ ،جو آج مقامی صحافت پر یہ الزامات عاید کرنے میں پیش پیش ہے ،کی جمہوری سرکاروں نے مقامی صحافیوں اور اداروں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ،اس کا تذکرہ کرتے ہوئے بات اس موڑ پر پہنچ گئی تھی جہاں صحافت مجبوری ، بے بسی اور لاچاری کا عنوان بن گئی تھی ۔عسکری دور شروع ہونے کے بعد صحافت کا احوال بیان کرنے سے پہلے اس بات کی مختصر سی وضاحت کرنا بھی موضوع کا تقاضا ہے کہ صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دینے والوں نے کسی ترنگ میں آکر ایسا نہیں کیا بلکہ انہیں معلوم تھا کہ جمہوریت کی روح کو آلودگیوں سے بچانے اور وقت کی گرد شو ںسے محفوظ رکھنے میں جو چند ایک ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ان میں صحافت کا کردار بہت معنی رکھتا ہے ۔
بیسویں صدی حقیقت میں صحافت کی صدی رہی ہے ۔اس صدی میں قوموں کو بیدار کرنے اور تہذیبی و تمدنی قدروں کو استحکام بحشنے ، جمہوری اداروں کو تقویت دینے اور علم و عمل کا شعور بیدار کرنے میں صحافت کا کردار بہت ہی نمایاں رہا ہے ۔نو آبادیاتی نظام کے خاتمے میں صحافت کے کردار کو کون نظر انداز کرسکتا ہے ۔انسانی قدروں کی سربلندی کیلئے صحافت نے دنیا کے ہر خطے میں بھرپور لڑائی لڑی ۔جن قوموں نے صحافت کو وہ مقام عطا کیا جو اس کے رہنمایانہ کردار کے لئے ضروری تھا، وہی قومیں ترقی اور سربلندی کی اونچا ئیوں کو چھونے میں کامیاب ہوئیں ۔دوسری جنگ عظیم کی تباہیوں کے بعد بھی مغرب کی تیز تر ترقی میں صحافت نے بنیادی کردار ادا کیا ۔مسلم دنیا میں صحافت کو نہ ترقی کا بہتر موقع حاصل ہوسکااور نہ ہی وہ اہمیت حاصل ہوئی جو اسے کوئی اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتی۔ اس لئے وسائل سے مالا مال اس دنیا میں وہ شعور پیدا نہیں ہوسکا جو قوم یا ملت کے ارتقائی عمل کی بنیاد ہوتا ہے ۔ہندوستان میں گاندھی سے لیکر مولانا آزاد تک سب نے آزادی کی تحریک کو معتبر اور بامقصد بنانے میں صحافت کا ہی سہارا لیا اور آزادی کے بعد بھی صحافت کو ایک مضبوط ادارے کی شکل دینے میں قیادت نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اسی کا نتیجہ یہ تھا کہ ہندوستان کی آئرن لیڈی شریمتی اندرا گاندھی نے جب ایمرجنسی عاید کرکے مطلق العنانیت کی راہ اختیار کی تو صحافت اس کے مقابلے پر کھڑی ہوگئی ۔
 کشمیر میں بھی آزادی کی تحریک کو مضبوط اور بامقصد بنانے کیلئے شیخ محمد عبداللہ کو پریم ناتھ بزاز کے ساتھ ہفت روزہ ہمدرد شروع کرنا پڑا۔لیکن یہ اخبارپریم ناتھ بزاز اور شیخ صاحب کے سیاسی اختلافات کی نذر ہوکر بند ہوگیا۔اس کے بعد صحافت کا سفر بھی ارتقائی عمل سے گزرنے کے بجائے ان سیاسی تضادات کی لپیٹ میں آگیا جو کشمیر کی تاریخ اور تقدیر کا حصہ بنا ہوا ہے ۔جمہوری حکومتوں نے صحافت کو دھونس دبائو اور مراعات سے اپنا حامی بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ۔ کسی حکومت نے بھی صحافت کو ایک قومی ادارے کی حیثیت سے مضبوط اور مستحکم بنانے کا وہ کام نہیں کیا جو اس قوم کو بہت سی آفتوں سے نجات دلانے کا سبب بن جاتا ۔لیکن اپنی کمزور حالت اور بے پایاں مجبوریوں کے باوجود بھی مقامی صحافت نے پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو نبھانے کی مقدور بھر کوشیں کیں۔
عسکری تحریک شروع ہونے کے وقت کشمیر میں محض درجن بھر ارد واخبارات شائع ہوا کرتے تھے ۔جن کی اشاعت محدود تھی کیونکہ دن میں پچاس روپے کے سگریٹ پھونکنے والاکشمیری جو مشرقی پاکستان کے سیلاب زدگان کی امداد کے لئے دل کھول کر چندہ دیتا تھا اورواعظوں اور لیڈروں کے ایک اشارے پردولت کے ڈھیر جمع کرتا تھا دوروپے کا اخبار خریدنے پر تیار نہیں تھا۔ چنانچہ صحافتی ادارے پوری طرح سے سرکاری اشتہارات پر ہی زندہ رہ سکتے تھے ۔آج بھی یہی صورتحال ہے ۔عوام کبھی اس بات پر راضی نہیں تھے کہ اپنے بل بوتے پر کسی ایک صحافتی ادارے کو بھی اقتصادی طور خود مختار بناتے ۔وہ سب سے سستا اخبار خریدتے ہیں اور سستا اخبار وہی ہوتا ہے جسے حکومت کی طرف سے زیادہ سپورٹ حاصل ہوتا ہے ۔عسکری تحریک کے آغاز میں ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ اخبارات پڑھنے والوں میں اضافہ ہوا ۔اس سے پہلے مرحوم خواجہ ثناء اللہ بٹ کی وادی بھر میں اخبارات کی ترسیل کے لئے ایجنسیاں قائم کرنے اوراخبار گھرکی دہلیز تک پہنچانے کی بے پناہ کوششوں سے مشکل سے اخبارات کی اشاعت سینکڑوں سے ہزاروں تک پہنچی ۔سرینگر ٹائمز کے کارٹونوں نے بھی اخبارخریدنے والوں کی تعداد بڑھادی لیکن جب صراف کدل میں حاجی گروپ نے پہلی عسکری کاروائی کرتے ہوئے سی آر پی ایف پر کلاشنکوف سے گولیاں برسائیں تو خبر کی تفصیل جاننے کے لئے اخبار کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تھا، اس لئے اخبارات کی اشاعت میں اضافہ ہونے لگاحالانکہ اس وقت عام تاثر یہ تھا کہ یہ سب کچھ کانگریس کروا رہی ہے، اس لئے وہ جوش و خروش نہیں تھا جو اس وقت سے پیدا ہونا شروع ہوا جب خانقاہ معلی کے آستانے کے قریب نیشنل کانفرنس کے ایک کارکن محمد یوسف حلوائی کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا اور اس کی پیٹھ پر لبریشن فرنٹ کی مہر لگادی گئی ۔ اس واقعہ کی خبر نے تہلکہ مچادیا اور اخبارات کی اشاعت میں دوگنا اضافہ ہوا ۔لوگ عسکری سرگرمیوں کی جانکاری حاصل کرنے اور عسکریت پسندوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے دھڑا دھڑ اخبارات خریدنے لگے ۔ہری سنگھ ہائی سٹریٹ میں اُس جج کا قتل ہوا جس نے مقبول بٹ کو سزا سنائی تھی ۔دیکھتے ہی دیکھتے حاجی گروپ کے پانچ ارکان ہیرو بن گئے اور لبریشن فرنٹ کا طوطی بولنے لگا۔ اس دوران نئے اخبارات بھی جاری ہونے لگے جن میں قابل ذکروادی کا پہلا انگریزی روزنامہ ’’ گریٹر کشمیر ‘‘ جو فیاض احمد کلو نے کئی سال پہلے ہفت روزہ کی حیثیت سے جاری کیا تھا اور’’ الصفاء نیوز جو سیلو سوپور کے محمد شعبان وکیل نے جاری کیاتھا ہیں ۔ مفتی محمد سعید جو مرکز میں وزیر داخلہ تھے، کی بیٹی روبیہ سعید کا اغوااور ان کی رہائی کے بدلے عبدالحمید شیخ نامی لبریشن فرنٹ کے سرکردہ رکن سمیت کئی عسکریت پسندوں کی رہائی عمل میں آنے سے جوش وخروش کا ایک طوفان برپا ہوا ۔یہ جنگجوئوں کی پہلی بڑی کامیابی تھی جس نے عوام میں یہ اعتبار پیدا کیا کہ عسکری تحریک کی کامیابی یقینی ہے ۔ا سی یقین نے انہیںجوق در جوق سڑکوں پر لایا ۔میلوں لمبے جلوس نکلنے لگے ۔ مسجدوں کے لائوڈسپیکروں سے نعرے گونجنے لگے ۔احتجاج ہونے لگے ۔نئی دہلی میں کھلبلی مچ گئی اور جنگجوئوں کے ساتھ رابطے کی کوششیں شروع ہوئیں۔مرکزی وزیر جارج فرنانڈیز کئی بار کشمیر پہنچے ۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ جوش و خروش بڑھتا جارہا تھا اور اخبارات کی اشاعت میں بھی کئی گنا اضافہ ہورہا تھا۔
عوام لمحے لمحے کے واقعات اور حالات جاننے کے لئے بے تاب تھے ۔ایک طرف یہ سب کچھ ہورہا تھا تو دوسری طرف نئی عسکری تنظیمیں سامنے آرہی تھیں ۔عسکری تنظیموں کے اندر سے نئی تنظیمیں نکل رہی تھیں ۔اس دوران العمر مجاہدین کے نام سے مشتاق احمد زرگر، جو حاجی گروپ کے رکن تھے اور لبریشن فرنٹ میں شامل تھے ،کی قیادت میں ایک تنظیم وجود میں آچکی تھی ۔حزب المومنین کا جنم بھی ہوا اور حرکت المجاہدین کا بھی ۔المدد یلغار علی کے نام سے بھی ایک تنظیم بنی ،پیپلز لیگ کے عسکری گروپ مسلم جانباز فورس کا بھی قیام عمل میں آیا تھا اوراللہ ٹائیگرس بھی ظاہر ہوئی ۔اس کے بعد عسکری تنظیموں کا ایک سیلاب آیا ۔قدرتی طور پر ہر تنظیم اپنے آپ کو دوسری تنظیم سے زیادہ طاقتور اور برتر ثابت کر نا چاہتی تھی اس طرح مقابلہ آرائی کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے بعد میں خونریزی کی شکل بھی اختیارکی ۔اس مقابلہ آرائی کا سارا دبائو اخبارات پر آگیا۔ہر تنظیم روز اپنا بیان جاری کرتی تھی اور ہر تنظیم یہ چاہتی تھی کہ اس کا بیان سب سے نمایاںاورجلی سرخی کے ساتھ شائع ہو۔اخبار کا پہلا صفحہ جو خبروں کے لئے ہی مخصوص ہوتا تھا ،تنظیمی بیانات سے بھرگیا اور خبریں اندر کے صفحات میں منتقل ہوگئیں ۔اخبار کا ایڈیٹر بے کار کی چیز ہوگیا کیونکہ وہ کسی بیان کا ایک لفظ بھی ایڈٹ نہیں کرسکتا تھا ،یہاں تک کہ زبان کی غلطیاں بھی درست نہیں کرسکتا ۔اخبار میں کیا شائع ہونا چاہئے اور کیا نہیں، اس کا فیصلہ بھی عسکری رہنما ہی کرنے لگے ۔کسی مین سٹریم لیڈر یا تنظیم کا کوئی بھی بیان چاہے وہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو، اخبار میں شائع نہیں ہوسکتا تھا ۔ایک بار سرینگر ٹائمز میں بیگم شیخ محمد عبداللہ کاایک بیان شائع ہوا ۔اس پر ایک ہنگامہ برپا ہوا۔اسے ایک غدارانہ فعل سمجھا گیا اور اس پر اخبار کے ایڈیٹر صوفی غلام محمد کی طلبی ہوئی ۔اسے آیندہ ایسی غلطی نہ کرنے کا عہد کرنا پڑا تب اس کی جان چھوٹی ۔چونکہ الصفاء نیوز کے ایڈیٹر محمد شعبان وکیل کا قتل ہوچکا تھا ۔انہیں ان کے دفتر کے اندر دن دھاڑے سینے میں گولیاں پیوست کرکے مار ڈالا گیا تھا، اس لئے صحافت پر خوف طاری تھا ۔ اس مرحلے پر حریت کانفرنس، جو عسکری تحریک کا سیاسی بازو تھا، اس قومی ادارے کو بحران سے بچانے اور پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کی آزادی دینے میں اہم کردار ادا کرسکتی تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس اگر کبھی کسی بات پر کسی حریت تنظیم یا لیڈر پر کوئی تنقید ہوئی تو اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈیٹر کو بلا کر اس کی سرزنش کی گئی ۔یہاں ایک واقعہ کا ذکر کرنا مناسب ہوگا ۔ ایک بار صبح گیارہ بجے کے قریب گریٹر کشمیر کے ایڈیٹر فیاض احمد کلو رونامہ آفتاب کے دفتر خواجہ ثناء اللہ بٹ سے ملنے پہنچے ۔عام طور پر خاص کر اپنے دوستوں یا پہچان والوں سے خندہ پیشانی سے ملنے والے ثناء اللہ بٹ اپنی مخصوص کرسی پر سر جھکائے اس طرح بیٹھے تھے جیسے ماتم زدہ شخص بیٹھا ہو ۔ فیاض صاحب نے سلام کی جواب میں ثناء اللہ صاحب نے سر اٹھایا تو ان کی آنکھو ں میں آنسو تھے ۔حیرت سے فیاض صاحب نے پوچھا کہ کیا ہوا ۔ پہلے تو انہوں نے کچھ نہیں بتایا لیکن بہت اصرار کے بعد انہوں نے کہا کہ حزب المومنین کی طرف سے فون آیا اور فون کرنے والے نے وہ ذلت آمیز سلوک کیا کہ میں بیان نہیں کرسکتا ۔فیاض صاحب نے کہا کہ آپ رکئے میں ابھی آتا ہوں ۔ انہوں نے کئی مدیران سے رابطہ قائم کیا جن میں میں بھی شامل تھا ۔ہم نے حریت سے رابطہ قائم کیا اور انہیں بتایا کہ ہم اخبارات کو بند کرنے کا فیصلہ کرنے والے ہیں ۔اس پر انہوں نے کہا کہ ابھی یہ فیصلہ مت کیجئے ہم دیکھتے ہیں کیا کرتے ہیں ۔میر واعظ منزل میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی جس میں عسکری نمایندوں کے علاوہ حریت کے تقریباً تمام لیڈران اور کوارڈنیشن کمیٹی کے ارکان موجود تھے ۔ ثناء اللہ بٹ اور صوفی غلام محمد سمیت صحافی بھی موجود تھے ۔کافی بحث و مباحثہ ہوا ۔ حریت کے کسی لیڈر نے صحافت کی آزادی اور خود مختاری کی حمایت نہیں کی ،صرف اس بات پر اکتفا کیا کہ آپ بھی اپنی حدوں میں رہیں اور وہ بھی اپنی حدوں میں رہیں گے ۔اس کے بعد صورتحال اس وقت بہت زیادہ ابتر ہوگئی جب تنظیموں کے نظریاتی اختلافات سامنے آئے اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات جاری ہونے لگے ۔ان دنوں میں الصفاء نیوز کا ایڈیٹر تھا ۔ ایک بیان اس اخبار میں شائع ہوا جس میں ایک دوسری تنظیم پر کچھ الزامات عاید کئے گئے تھے ۔صبح سویرے ایک فون آیا کہ تنظیم نے اخبار کی اشاعت پر پابندی عاید کردی ہے ۔ مجھے جواب دہی کے لئے بارہمولہ پہنچنے کے لئے کہا گیا ۔ وہاں پہنچ کر مجھے ایک ایسے کمرے میں لے جایا گیا جہاں کم زا کم دس لڑکے بندوقیں لئے قطار میں کھڑے تھے ۔میں نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیان شائع کرنا میر ی مجبوری تھی کیونکہ بیان نہ شائع ہونے کی صورت میں وہ تنظیم اسی طرح کا ردعمل ظاہر کرتی جو آپ کررہے ہیں ۔لیکن وہ قائل نہیں ہوئے ۔ قریب تھا کہ وہ کوئی کاروائی کرتے ،بارہمولہ میرے متعلق خبر پہنچی تھی۔ وہاں کی تاجر انجمن سمیت کئی دوستوں کے علاوہ سرینگر سے کچھ دوستوں نے پہنچ کر مجھے بحفاظت واپس لایا ۔
ایک طرف یہ طوفان تھا تو دوسری طرف حکومت کا سخت دبائو تھا کہ اخبارات علیحدگی پسندوں اور عسکریت پسندوں کے ترجمان بننے سے باز آئیں اور تنظیمی بیانات کے’’ بھارتی درندے ‘‘جیسے الفاظ پر شدید ردعمل تھا جنہیں پریس ایکٹ کی صریحاً خلاف ورزی سمجھا جارہا تھا ۔بار بار ڈائریکٹر انفارمیشن تنبیہ کررہے تھے لیکن مدیران بے بس تھے مجبور تھے ۔ ایسے میں ایک اور قیامت برپا ہوئی ۔اخوان المسلمون کے نام سے کوکہ پرے نامی کمانڈر کی قیا دت میں ایک نئی تنظیم قائم ہوئی اور اس کے بیانات بھی اخباری دفتروں میں پہنچنے لگے ۔ ابتداء میں اس تنظیم کے بیانات شائع کرنے سے احتراض کیا گیا لیکن یہاں بھی ایک واقعہ ہوا جس کی روداد اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔