تازہ ترین

اقتدار کے پیچھے بھاگے تولوگ معا ف نہیں کرینگے: عمر عبداللہ

ناگالینڈ کا اپنا آئین اور پرچم، اگر وہ باغی نہیں تو کشمیریوں پر الزام کیسا؟ ’اگر بغاوت کرنی ہوتی تو 30سال تک قربانیاں پیش نہ کی ہوتیں‘

تاریخ    30 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید

خصوصی درجہ نہیں دیا گیا ہوتا تو شائد 1947میں کوئی اور ہی کہانی بن گئی ہوتی

 
سرینگر// نیشنل کانفرنس نائب صدر اورسابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر کشمیری کی مین سٹریم جماعتیں اقتدار کی کرسی کے پیچھے اب بھی بھاگیں گی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔انہوں نے کہا کہ کہا کہ5 اگست 2019کو ایسا زلزلہ آیا جس سے ہم آ ج بھی ہل رہے ہیں۔ وہ پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں رہائی کے بعد پہلی بار پارٹی کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔
پورا خطاب
عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ’’ہمارا سب کچھ اس زمین کیساتھ جڑا ہوا ہے اگر ہم اپنی زمین کو نہیں بچاسکے تو ہم اپنی آنے والی نسل کیلئے کیا چھوڑ کر جائیں گے۔انہوں نے مرکزی سرکار سے مخاطب ہو کر کہا ’ ’آپ چاہتے کیا ہیں ،کیا آپ چاہتے ہیں ہم مین اسٹریم چھوڑ کر چلے جائیں ؟‘‘۔عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ جموںوکشمیر کی سیاسی جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد اقتدار کی لڑائی نہیں ، یہ لڑائی وزیر اعلیٰ کی کرسی کیلئے نہیں، اگر ہم آج بھی اقتدار کے پیچھے بھاگے اور اگر آج بھی ہماری نظریں سیکریٹریٹ پر مرکوز رہیں تو لوگ ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔ان کا کہناتھا ’’لعنت ہو ہم پراگر ان حالات میں بھی ہم اقتدار کی کرسی کے پیچھے بھاگے‘ ‘۔ انکا کہنا تھا ’’گذشتہ سال کے اوائل میں یہاں کی مقامی جماعتیں ایک دوسری کی مخالفت میں لگے ہوئی تھیں، لیکن مرکز کے سازش کے نتیجے میں ایسا ماحول پیدا ہوا کہ ہم مشترکہ پلیٹ فارم پر آنے کیلئے مجبور ہوگئے، ہم نے اپنی چھوٹی سیاسی لڑائیوں میں الجھنے کے بجائے اتحاد کو ترجیح دی کیونکہ آج موقع نہیں کہ ہم الیکشن اور حکومت بنانے کی بات کریں، جو لڑائی ہم لڑ رہے ہیں وہ ایک دن، ایک ہفتے اور ایک مہینے کی لڑائی ہے، معلوم نہیں اس جدوجہد کے دوران ہم میں سے کتنے دم توڑ بیٹھیں گے، لیکن اس لڑائی کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں،ہمارا سب کچھ اس کیساتھ جڑا ہوا ہے،یہ لڑائی ہمارے تشخص، ہماری پہچان، ہمارے آنے والے کل اور اپنے وطن کو بچانے کیلئے ہے، یہ لڑائی ہم ہارنے کیلئے تیار نہیں‘‘۔عمر عبداللہ نے کہا ’ 2019کے ابتداء میں ہم جموں و کشمیر میں الیکشن کی بات کررہے تھے اور آج ہم جموں وکشمیر کے تشخص اور پہچان بچانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں‘۔انہوں نے کہا’’ ان دلی والوں نے ہمیں بے اختیار کرنے کا کوئی حربہ نہیں چھوڑا، مرکز نے بار بار کوشش کی کہ ہماری آواز بے وزن ہوجائے ، اُن کی سازش کامیاب ہوگئی ،ہم بکھر گئے اور اس کمزور آواز کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے‘‘۔ اُن کا کہنا تھا ’جو بات ہم کررہے ہیں وہ اس ملک کے آئین میں ہی درج تھی ،جو ہم سے 5اگست 2019کو چھینا گیا وہ کسی اور ملک کے آئین میں درج نہیں تھا وہ اسی ملک کے آئین میں درج تھا۔ اگر جموں وکشمیر کو وہ خصوصی درجہ نہیں دیا گیا ہوتا تو شائد 1947میں کوئی اور ہی کہانی بن گئی ہوتی۔‘انہوں نے کہا کہ یہ دلی والے جب ناگالینڈ والوں سے بات کرتے ہیں، جو نہ ہندوستان کا آئین اور نہ جھنڈا مانتے ہیں ، تو انہیں ملک دشمن نہیں کہا جاتا اور نہ ہی ٹی وی چیلنجوں پر ان پر بغاوت کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں لیکن جب جموں وکشمیر کے عوام اپنی زمین اور اپنی پہچان کو بچانے کیلئے آواز اُٹھاتے ہیں تو اسے ملک کیخلاف بغاوت کا رنگ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں بغاوت کرنی ہوتی تو ہم نے 30سال تک بے بہا قربانیاں پیش نہیں کی ہوتیں۔ ہمارا یہ ماننا تھا کہ ہم جو کچھ بھی حاصل کریں گے آئین کے اندر اور پُرامن طریقے سے ہی کریں گے لیکن آج ہمیں دھکیلا جارہا ہے، آج یہی لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا راستہ غلط تھا۔سمجھ میں نہیں آتا یہ لوگ ہم سے کیا چاہتے ہیں، ہمیں ہر لحاظ سے الگ ترازو میں کیوں تولا جاتاہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کل ہی جموں میں پی ڈی پی کو نئے اراضی قوانین کیخلاف پُرامن احتجاج کرنے کی اجازت دی گئی لیکن آج جب اسی جماعت نے سرینگرمیں احتجاج کی کوشش کی تو انہیں گرفتار کیا گیا۔ عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ ’’آخر آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ کیا آپ یہی چاہتے ہیں کہ ہم مین سٹریم چھوڑ دیں؟جس چیز کیلئے ہم نے 30سال قربانیاں دیں،کیا آپ کہتے ہیں کہ وہ چھوڑ دیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’سیاسی ماحول کس طرف کروٹ لیتا ہے اور ہمیں کس طرح کے فیصلے لینے کیلئے مجبور کرتا ہے کسی کو نہیں پتہ۔ کیا پتہ اللہ نے ہمارے لئے کیا سوچا ہوگا۔اللہ نے جو بھی سوچا ہوگا آخر کار اچھا ہی سوچا ہوگا اور کوئی بھی اچھی چیز آسانی سے حاصل نہیں ہوتی اور اچھی چیز حاصل کرنے کیلئے مشکل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس تقریب کا انعقاد سابق ایم ایل سی اور پی ڈی پی لیڈر سیف الدین بٹ کی نیشنل کانفرنس میں باضابطہ شمولیت کے سلسلے میں کیا گیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی کے علاوہ دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔
 

عمرعبداللہ کا دورہ کرگل آج

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ کی سربراہی میں گپکار عوامی اتحاد کے لیڈران آج کرگل کا دورہ کررہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ عمر عبداللہ کے ساتھ ناصر سوگامی ، پی ڈی پی کے ایڈوکیٹ غلام نبی لون ہانجورہ ، وحید پرہ کے علاوہ پیپلز کانفرنس کے کچھ لیڈران ہوں گے۔ عوامی اتحاد لیڈران 11بجے کے قریب کرگل میں نیشنل کانفرنس اور دیگر پارٹیوں کے لیڈروں اور عہدیداروں کے ساتھ اہم بات چیت کرنے والے ہیں۔