تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    30 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

حُسنِ اخلاق۔۔۔ انسانیت کی بقا کے لئے اسلام کا اہم پیغام

سوال :انسان کا ایک بڑ اوصف اُس کا حُسنِ اخلاق ہے۔اُس حُسنِ اخلاق کے متعلق اسلام کی اہم تعلیمات کا خلاصہ کیا ہے اور وہ اخلاق اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے کیا کیا تدابیر اختیار کرنا چاہئے؟
غلام مصطفیٰ ۔لال بازار سرینگر
جواب :انسان کو اس کے پیدا کرنے والے خالق و مالک ِکُل نے فطری طور اس طرح تخلیق کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی دوسرے انسانوں کے ساتھ رہ کر گذارنے پر مجبور ہے۔اسی لئے کوئی بھی انسان کہیں بھی اکیلا رہ کر زندگی نہیںگذار سکتا ۔وہ اپنے ماں باپ ،بیوی بچے ،بھائی بہن کے علاوہ پڑوسیوں ،رشتہ دارں ،اقارب و احباب او ر دوسرے انسانوں سے مِل جُل کر ہی اپنی زندگی گذار تا ہے۔اُس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اس سے صرف ِنظر کرے۔اگر وہ  زمین داری کرے،مزدوری کرے،تجارت کرے،جانور پالے،صنعت چلائے ،ملازمت کرے ،وہ ہر ہر صورت میں دوسرے انسانوں کے ساتھ ملنے جُلنے پر مجبور ہے۔لین دین کرنے کا پابند ہے ،مدد لینے اور مدد دینے کے بغیر وہ اپنے کام نہیں نکال سکتا ۔یقیناً ہر انسان کو زندگی میں دوسرے قسم قسم کے افراد سے واسطہ پڑتا ہے اور کبھی کوئی کام کرانا پڑتا ہے اور کبھی مدد لینی پڑتی ہے۔اُسے کپڑے سلوانے ہوتے ہیں ،لوہے کے اوزار بنانے پڑتے ہیں ،مکان بنانا پڑتا ہے ،جانور خریدنے یا فروخت کرنے پڑتے ہیں،گھریلو چیزیں خریدنی پڑتی ہیں ،دوا علاج کرانا پڑتا ہے ۔تو ان تمام کاموں کو کرنے کے لئے وہ دوسرے انسانوں سے مدد لینے پر مجبور ہے۔وہ خود ہی اکیلا سارے کام ہرگز نہیںکرسکتا ۔اب جب وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ مِل جُل کر رہنے پر مجبور ہے تو اگر اُس کا رویہ اور اخلاق اچھا نہ ہو تو پھر اس کو ضرور ہر شخص سے تلخ و ترش رویہ دیکھنا پڑے گا اور وہ خود بد اخلاق انسان قرار پائے گا اور سب کی نفرتوں کا کا نشانہ بنے گا ۔اس کے بر خلاف اچھے اخلاق ،نرم مزاجی ،اچھا رویہ اور محبت و شفقت کا وطیرہ اپنانے والا،کسی کو دُکھ نہ دینے والا ،کسی کو تکلیف نہ دینے والا ،کسی کا حق نہ دبانے والا سب کی نظر میں اچھا ،سب کی طرف سے تعریف سُننے والا اور سب کے لئے یادگار اور مثال میں پیش ہونے والا انسان بنتا ہے۔ہر نبی اور خصوصاً پیغمبر ِاسلام علیہ السلام نے انسانوں کو ایسا ہی انسان بننے کی تعلیم دی ہے کہ تُم نہ کسی کو تکلیف پہنچائو ،نہ کسی کو دُکھ دو ،نہ کسی کا حق دبائو ،نہ کسی کا نقصان کرو،نہ کسی سے بُرا سلوک کرو ،نہ کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرو،تمہاری زبان سے ،ہاتھ سے کسی کو اذیت نہ پہنچے ۔(بخاری مسلم)یہی حُسنِ اخلاق ہے اور اسلام کا اہم پیغام حُسنِ اخلاق کا ہے ۔ہم مسلمان ہیں ،ہمارا دینِ اسلام ہم کو یہی تعلیم اور حکم دیتا ہے بلکہ ہمارے نبی اکرم علیہ السلام نے تو جانوروں کو تکلیف دینے سے سخت منع فرمایا۔چنانچہ رحمت ِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ان گونگے بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو یعنی اس میں تم پر لازم ہے کہ اُن کے گھاس ،پانی کا اچھا انتظام کرو،اور اُن پر زیادہ بوجھ نہ ڈالو ،ان کی مارپیٹ نہ کرو ،سردی گرمی میں ان کا خیال رکھو ۔ہمارے نبی علیہ اسلام نے فرمایا : مرغے کو بُرا بھلا مت کہو ،وہ تم کو نماز کے لئے جگاتا ہے۔۔۔وغیرہ
جب ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں کو تکلیف پہنچانے سے منع کرتے ہیں تو کسی انسان کو اذیت ،دُکھ،تکلیف پہنچانے کی اجازت کہاں دے سکتے ہیں۔حضرت نبی اکرم ؐ نے فرمایا: تم میں سے اچھا انسان وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے ۔اس لئے مسلمان ہونے اور انسان ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ اچھا مسلمان بھی بنے اور اچھا انسان بھی بنے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم تب تک مومن کامل نہیں ہوسکتے جب تک تم اپنے ہرمسلمان بھائی کے لئے وہی چیز پسند نہ کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہواور تم اپنے لئے جو چیز ناپسند کرتے ہو وہ دوسرے مسلمان بھائی کے لئے ناپسند کرو (بخاری و مسلم)
انسانیت اور حُسنِ اخلاق کی تمام تعلیمات اور ہدایات کا خلاصہ اسی ایک ارشاد ِ مبارک میں ہے ۔اب صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ انسان اپنی اخلاقی تربیت اس طرح کرے اور کسی مربی سے اس کی تربیت ،تزکیہ تحلیہ اور تطہیر کرائے کہ یہ وصف ِ عالی اس میں مکمل یا کسی نہ کسی درجہ میں پیدا ہوجائے۔
اسلامی اخلاق کے لئے پہلا اصول یہ ہے کہ خُلقِ عظیم کے سب سے اونچے مقام پر فائز واحد ذات ِ اقدس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے اسوۂ اور ماڈل بنائے ۔دوسرے کسی مرشد و مربی سے تربیت لے اور تزکیہ کرائے اور تیسرے اخلاقیات سے متعلق منتخب کتابیں پڑھے مگر مطالعہ برائے مطالعہ یا برائے معلومات نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے کے لئے۔
خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے اندر یہ تین اوصاف پیدا کرے ۔ہر ایک مخلوق خصوصاً انسانوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرے۔دوسرے یہ کہ کسی مخلوق، خاص کر انسان، کو کوئی اذیت نہ پہنچائے ،تیسرے ہر مخلوق، خصوصاً انسانوں، کو اپنی طرف سے جو راحت پہنچا سکتا ہو اور جس معاملے میں جو مدد کرسکتا ہو اُس میں کوتاہی نہ کرے۔اگر یہ تین وصف اپنے اندر پیدا کرنے میں کوئی انسان کامیاب ہوگیا اور ان کو اپنی زندگی میں برتنے اور اپنانے کی پابندی کرپایا تو یقیناً اُس کو حُسنِ اخلاق سے آراستہ مومن قرار دیا جائے گا ۔
��������������������

کرسی پر بیٹھ کے نماز پڑھنا۔ چند اہم مسائل 

سوال (۱) : کرسی پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟پوری وضاحت فرمائیں۔
سوال (۲): نماز کے دوران قیام کرنا کتنا لازم ہے اور اُس میں کیا پڑھنا ہے؟
ماسٹر بشیر احمد درزی ۔ڈولہ باغ صورہ سرینگر
جواب (۱) :کُرسی پر نماز پڑھنے کے متعلق متعدد مرتبہ اسی کالم میں جواب لکھا جاچکا ہے ۔مختصراً یہ سمجھئے کہ جو شخص رکوع کے لئے نہ جھک سکے ،سجدہ کے لئے زمین پر پیشانی نہ ٹیک سکے ،قعدہ میں نہ بیٹھ سکے ،اُس کے لئے کُرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا درست ہے۔
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ گھوڑے سے گِر گئے ،جس کی وجہ سے آپؐ کا داہنا پہلو شدید متاثر ہو اور اس بناء پر ایک ماہ تک آپؐ بیٹھ کر نماز پڑھتے رہے ۔(بخاری مسلم)
اس عمل سے یہ ثابت ہوا کہ ایسی بیماری کی حالت میں قیام فرض نہیں رہتا ۔اب جو شخص قعدہ کی حالت میں بیٹھ سکتا ہو ،سجدہ بھی کرسکتا ہو،لیکن قیام اور رکوع نہ کرسکے ،اُس کے لئے اسوۂ نبوی ؐ کے مطابق بیٹھ کر نماز پڑھنی لازم ہوگی تاکہ وہ زمین پر سجدہ کرسکے،اس لئے کہ زمین پر سر رکھ کر سجدہ کرنا ہی اصل نماز کا سب سے قیمتی اور اہم عمل ہے اور جو شخص زمین پر قعدہ کرنے کی حالت میں تو نہ بیٹھ سکے ۔ہاں !  وہ دو زانوکے بجائے چہار زانو پالتی پر بیٹھ سکتا ہو ،وہ چہار زانو بیٹھ کر نماز ادا کرے۔اُس کا قیام چہار زانو بیٹھ کر ہوگا اور رکوع جُھک کر جب کہ سجدہ وہ زمین پر سر رکھ کر کرسکتا ہے ،یہ بھی اسوہ ٔ نبوی کے مطابق ہوگا ۔
جو شخص قعدہ بھی کرسکتا ہو ،سجدہ بھی کرسکتا ہو ،اس کے لئے کُرسی پر نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔
اس سلسلے میں یہ امر ملحوظ رہے کہ ہر وہ شخص جو جسمانی عوارض کی بناء پر کُرسی پر نماز پڑھنے پر مجبور ہے،وہ کسی مفتی کے سامنے اپنے احوال رکھ کر شرعی حکم معلوم کرے اور پھر عمل کرےتاکہ اُسے معلوم ہوجائے کہ کیا وہ واقعتاً اس درجہ معذور ہے ۔اس لئے کہ ہوسکتا ہے اُس کا عذر اس درجہ کا نہ ہو کہ اُسے کُرسی پر نماز پڑھنے کی اجازت ہو۔تھوڑی بہت تکلیف تو عموماً ہوتی ہی ہے ۔ظاہر ہے کہ ہر قسم کی تکلیف میں کرسیوں پر نماز درست نہیں ہوسکتی اور ہوسکتا ہے کہ کُرسی کو عذر اس درجہ میں آگیا ہو کہ اُسے کُرسی پر نماز پڑھنے کی اجازت ہوچکی ہو،مگر وہ اس شرعی رخصت کو اپنے لئے اختیار کرکے اپنے آپ کو مزید بیماری کا شکار بنائے۔
 نماز میں قیام فرض
جواب(۲) : نماز میں قیام فرض ہے مگر جو شخص قیام پر قادر نہ ہو ،وہ بیٹھ کر نماز پڑھے ۔جب بیٹھ کر قرأت کرے گا تو یہ بیٹھنا ہی اُس کے لئے قیام ہوگا ۔قیام قرأت یعنی سورہ فاتحہ اور سورت فرض ہے ۔یہ امام اور منفرد کے لئے فرض ہے ،مقتدی کے لئے نہیں۔
��������������������

مساجد کے حمام میں نماز و تلاوت کامسئلہ

سوال:-عموماً لوگ حمام کے غسل خانوں میں بغیر طہارت کے داخل ہوتے ہیں۔ کیا اس جگہ نماز یا کلمات پڑھنا جائز ہوگا؟  
منظور احمد قریشی۔سرینگر
جواب: -کشمیر میں مساجد میں غسل خانوں سے ملحق پتھر کی سلو ں کا وہ حصہ جس کو حمام کہاجاتاہے ،دراصل اس کو حمام کہنا ہی غلط ہے او ریہ غلط العوام کی وہ قسم ہے جس سے شرعی مسائل تک متاثر ہوجاتے ہیں ۔ حمام کے معنی غسل خانے کے ہیں ۔ چنانچہ جہاں گرم پانی سے نہانے کا انتظام ہو اور ایک بڑے ہال کو چاروں طرف سے بند کردیا گیا ہو پھر چاروں طرف گرم پانی کے نلکے ہوںیا گرم پانی کا حوض ہو اُس ہال میں داخل ہوکر نہانے کا ،بدن کوگرم کرنے کا کام لیا جاتاہے ۔ اسی کو حمام کہاجاتا ہے۔ حمام دراصل صرف نہانے کا ہوٹل ہے ۔ شرح ترمذی۔ احادیث میں جس حمام میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے وہ یہی حمام ہے ۔ یہاں کشمیر میں مساجد یا گھروں میں جو حصہ پتھر کی سلوں سے تیار شدہ ہوتاہے اس کا اصلی نام صفّہ ہے جس کو یہاں کے شرفاء  ’’صوفہ ‘‘کہا کرتے تھے ، جو مسجد نبوی کے صفّہ سے ماخوذ ہے ۔ اُس صوفہ پر نماز ، تلاوت ، تسبیح وغیرہ سب جائز ہے ۔ مساجد میں جو صفہ یعنی یہاں کے عرف میں حمام ہے اُس میں یقینا بے وضو وغسل آدمی داخل ہوتاہے مگر اُس کی وجہ سے وہاں نماز پڑھنا ممنوع قرار نہیں پائے گا۔ جیسے کہ اپنے گھروں میں میاں بیوی کے مخصوص کمرے میں بھی انسان بے وضو وبے غسل ہوتاہے تو اُس وجوہ سے وہاں نماز پڑھنا ممنوع نہیں ہوتا ۔اسی طرح مساجد کے صفہ(حمام)کا معاملہ ہے کہ یہ مسجد کا حصہ بھی ہے مگر مسجد کے حکم میں نہیں ۔اُس گرم حصہ پر اگر صف بچھائی جائے اور اس صف پر سنتیں ، نوافل ،تلاوت ،تسبیح ، ذکر وغیرہ کیا جائے تو یقینا یہ جائز ہے ۔ بلکہ اس کی وجہ سے وہ لغوباتوں کے بجائے محل عبادت بن سکتاہے ۔ ورنہ یہ صفہ طرح طرح کی لغویات کا مرکز بن جاتاہے ۔