تازہ ترین

شانِ رسالتؐ میں گُستاخی اور مجروح جذبات

نوحہ کناں

تاریخ    30 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


ایس معشوق احمد
رسول اللہ ؐ کی ذات مبارک پر حرف رکھنا اور توہین رسالت کا مرتکب ہونا دور جہالت کی نشانیاں ہیں جو آج بھی برقرار ہیں اور جس کا مظاہرہ فرانس نے حال ہی میں کیا۔ مدت دراز سے یورپی ممالک کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اشتعال دینے ، بدنام کرنے اور ان کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے مذہب کا سہارا لیتے ہیں۔مذہب اسلام اور اس کے ماننے والوں کو بدنام کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں۔ پیغمبروں کی توہین کی جاتی ہے۔اس بار یہ گھناؤنا کام فرانس نے انجام دیا۔رسول ؐ کا مضحکہ خیز خاکہ بنا کر دیواروں پر چسپاں کرنا اور بڑے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرکے اسے آزادیٔ اظہار کا نام دینا حماقت ہے۔ اس حماقت کے پیچھے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں، یہ واضح نہیں ہے۔جب بھی اس اقسام کی شرم ناک حرکات سامنے آتی ہیں اور مسلمانوں کے خلاف بیان بازیوں کے نشتر چلائے جاتے ہیں تو اس کا  شدید ردعمل ضرور سامنے آتا ہے۔اس غم و غصہ اور ناراضگی کا اظہارکبھی آتش زنی ، قتل وغارت ،ہڑتال ،توڑ پھوڑ کی صورتوں میں کیا جاتا ہے، تو کبھی اس ملک کے خلاف بائیکاٹ کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جو دھمکیوں تک ہی محدود رہتی ہیں۔ایسا بھی ہوا کہ جس نے گستاخی کی سوشل سائٹس پراس کو لعنت کا مستحق قرار دیا اور اس ملعون کے سر کو کتے کے جسم سے جوڑ کر خوب تشہیر دی گئی۔ایسے فتنہ پرور ذہانت والے یہ جانتے ہیں کہ اس عمل بد کا ردعمل ضرور ہوگا پھر بھی ایسے گھنائونے کام سے باز نہیں آتے اور بار بار یہ بدفعل انجام دیتے رہتے ہیں۔ اس کے پیچھے یقینا ان سیاہ بختوں کا کوئی بڑا مفاد ہوگا جب ہی تو ایسے گھناؤنے کام کرنے والوں کی پشت پناہی ہوتی ہے اور بعض دفعہ انہیں انعام و اکرام سے بھی نوازا جاتا ہے۔ کسی بھی مذہب کو نشانہ بنانا ، اس کے ماننے والوں کے جذبات کو ٹھیس پہچانا قابل مذمت ہے۔ مذہب اسلام کے خلاف بولنا اور اس مذہب کے پیغمبروں کی توہین کرنا ، ان کے خلاف گستاخانہ الفاظ کا استعمال کرنا ،حقارت بھرے اور طنزیہ جملے کسنا یہود ونصاریٰ کی عادت تھی جس کو وہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ 
 رسول اللہؐ کے خلاف زہر اگلنا ، بدکلامی کرنا اور آپ کی سیرت اطہر کا تمسخر اڑانا اب یورپ والوں کی عادت ہی بن گئی ہے۔کئی سال سے یہ   گستاخی کم و بیش ہر سال بڑی بیباکی اور نڈرتا سے دہرائی جا رہی ہے۔ اگر پہلے پہل ہی گستاخ رسول ؐ کو سزائے موت یا عبرت کا نشانہ بنایاجاتا تو ایسی شر انگیزیاں نہیں ہوتی۔جس ملعون نے فرانس میں رسول ؐکی شان مبارک میں گستاخی کی، فرانس کے صدر اور عوام کو چاہیے تھا کہ وہ اس ملعون کو سزا دیتے تاکہ آئندہ ایسے بد ذہانت رکھنے والے لوگ ایسی جرات کا مظاہرہ نہ کرتے اور کسی ایک مذہب کو نشانہ بنانے سے گریز کرتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ فرانسسی صدر ماکرون نے اس کی حمایت کی اور اسے آزادیٔ اظہار کے ساتھ جوڑ کر اپنی شیطانیت کا ثبوت فراہم کیا۔اس گھناؤنے عمل کے پیچھے کیا مقاصد ہیں اور ان مقاصد اور مفادات کو حاصل کرنے کے لیے وہ کس حد تک جاسکتے ہیں یہ ان کے بیان سے خوب اجاگر ہو رہا ہے۔
رسولؐ سے محبت ،عقیدت اور آپ کی اطاعت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ تب تک وہ مسلمان ہی نہیں جب تک وہ  رسول ؐ کو ہر شئے سے عزیز تر نہ رکھے۔رسول پاکؐ کی شان میں کوئی گستاخی کرے اور اس پر نادم اور توبہ کے بجائے مغرور ہو کر اس کا پرچار کرے ،وہ واجب القتل ہے۔اسے قتل کی سزا دینے کے بجائے اس کو شاباشی دی جائے تو ایسے واقعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوگا۔
 مسلمانوں کے خلاف مختلف محاذ کھولے گئے ہیں۔ انہیں تنگ کرنا اور ستانا ، ان کے خلاف منافرت پھیلانا اور انہیں اپنے دین سے منحرف کرنے کی کوششیں کرنے کا رحجان بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ان کے جذبات کو مجروح کرنے اور انھیں اشتعال دینے کے لیے کبھی قرآن کریم کی بے حرمتی کی جاتی ہے تو کبھی اس مقدس کتاب کو جلایا جاتا ہے۔کبھی اس کے اوراق  بیت الخلاء میں پھینکے جاتے ہیں تو کبھی رسول اقدس ؐکے خلاف اشتعال انگیز بیانات جاری کئے جاتے ہیں۔کبھی یہ بھی ہوا کہ اسلام کو دہشت گرد مذہب قرار دے کر اس کے مانے والوں کو ہراسان و پریشان کیا گیا تو کبھی پردے کے خلاف مہم شروع ہوئی اور پردہ کرنے والی خواتین کا مذاق اڑایا گیا۔بعض دفعہ نماز روزے پر پابندی اور قدغن لگا کر اسلام کے ماننے والوں کو اس کی کھل کر اطاعت کرنے سے روکا گیا اور ان زخموں کو بار بار کرید کر ہرا کر دیا جاتا ہے۔کبھی مسجد کو شہید کیا جاتا ہے تو کبھی داڑھی کو موضوع بناکر یہ سنت رکھنے والوں کو اذیت سے دوچار کیا جاتا ہے۔آخر کیوں مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پوری دنیا میں مسلمانوں کی حالت ابتر ہے۔شام ،مصر،عراق ،فلسطین،کشمیر میں مسلمانوں کو ہراساں کرنا ، ان کی عزت و عصمت کو تار تار کرنا اور ان کو قتل کرنا معمول بن گیا ہے۔مسلم ممالک خواب خرگوش میں ہیں۔اگر وہ اس ظلم و جبر اور قتل و غارت گری کو روکنے کے لیے اقدامات کر بھی رہے ہیں ،وہ ناکافی ہیں۔اگر ایسے ہی حالات رہے اور مسلم ممالک منہ پر قفل چڑھا کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو وہ دن دور نہیں جب مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے والے ہاتھ مضبوط تر ہوجائیں گے اور مسلمانوں ان کے ترنوالہ بن جائیں گے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ گستاخ  رسولؐ کے مرتکب کو وہ سزا دلائی جائے جس کا وہ مستحق ہے تاکہ ایسے واقعات کا ہمیشہ کے لیے سدباب ہو جائے۔اس کے لیے مسلمانوں کو اختلافات کی راہیں ترک کرکے بنیان مرصوص ہونے کی ضرورت ہے تاکہ اسلام دشمن عناصر کو ہزیمت اٹھانی پڑے اور ان کے حوصلے پست ہوں۔ 
رابطہ ۔ کولگام کشمیر، 8493981240