تازہ ترین

لوح بھی تُو قلم بھی تُو تیرا وجود الکتاب

محشر قلب

تاریخ    30 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


رشید پروینؔ سوپور
 پھر ایک بار فرانسیسی سرکار نے اپنے تعاون اور اشتراک سے رسول مقبول ﷺ کی شان ِ اقدس میں گستاخی کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل پیرا ہوکر مسلم دنیا اور کروڑوں مسلمانوں کے جگر کو چیر کر رکھ دیا ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا پہلی بار ہورہا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ عصری دور میں جب آپ تھوڑا سا ماضی میں جھانکیں گے اور تھوڑا سا حافظے پر زور دیں گے تو آپ کو یاد آئے گا کہ پچھلی دہائیوں کے اندر اس طرح کی بے شمار گستاخانہ حرکتیں ہوئی ہیں جو کہ ان مغربی ممالک کے اپنے قوانین کی رو سے بھی ایک ناقابل معافی جرم کا ارتکاب ہے ، لیکن افسوس کہ یہ ممالک ان قوانیں اور ساری دنیا میں تسلیم شدہ بہتر اقدار اور معیارات کی خلاف ورز یوںکے مواقع پر اپنی آنکھیں موند لیتے ہیں اور ان تمام نازیبا اور دل آزار مکروہ منصوبہ بند سازشوں کو آزادی رائے سے تشبیہ دے کر مسلم دنیا کے خلاف میڈیا کی جنگ چھیڑ دیتے ہیں بلکہ مسلسل ایک کے بعد ایک نیامحاذ کھولتے رہتے ہیں۔ فرانس اس سے پہلے ’’پردے ‘‘ پرپابندی عائد کرچکا ہے اور بہت ساری مساجد کو بھی دہشت گردوں کی آماجگاہیں کہہ کر مقفل کر چکا ہے ۔در اصل نائن الیون کے بعد امریکی سر پرستی میں ایسے واقعات میں سبک رفتاری پیدا ہوچکی ہے ۔ امریکی چینل فاکس نیوز پر ۱۸ ستمبر ۲۰۰۲ کو ایک جنونی مذہبی رہنما جیری فال فوئل نے انتہائی گستاخانہ الفاظ دہرائے تھے ۔اس کے بعد امریکی ریاست ہوسٹن میں ایک خصوصی فلم سینما گھروں میں دکھائی گئی تھی جو حضور دو عالم ﷺ کی ازدواجی زندگی پر مبنی توہین آمیزفلم تھی۔۲۰۰۴ میں ہالینڈ کے ایک اور فلمساز تھیون واں گو نے دس منٹ کی ایک ڈاکو منٹری فلم کی نمائش کی جو شان رسول ﷺ میں گستاخی تھی اور اس فلمساز کو محمد بیوری نامی ایک نوجوان نے ایمسٹریڈیم میں کیفر کردار تک پہنچایا تھا۔ نائن الیون کے بعد سے اگر ان سارے واقعات کی تفصیل لکھی جائے تو ایک بڑی ضخیم کتاب بن جائے گی ۔اور ان ملعونوں میں پچھلی دو دہائیوں میں نام نہاد مسلم نژاد کچھ نام بھی شامل ہوئے جن میں سلمان رشدی ، تسنیمہ نسرین اور اس طرح کے اور بھی کئی لوگ ہیں جنہیں برطانیہ اور یورپی ممالک نے سونے چاندی میں تولا ہے ۔
 بہر حال ہمیں سمجھنا چاہئے کہ یہ سب کیوں اور کس لئے ہورہا ہے ؟،حالیہ افسو سناک واقعہ کی ابتدا چند روز پہلے اس وقت ہوئی جب فرانس کے سموئل پیٹی نامی ایک استاد نے شان رسولﷺ میں گستاخی کا ارتکاب کیا اوران گستاخانہ کارٹونوں کی نمائش کی جن پر کچھ سال بیشتر ڈنمارک اور یورپی حواریوں کے خلاف مسلم دنیا نے احتجاج کیا تھا۔ اس بار اس واقعے کی نوعیت اس بات نے بدل دی کہ اس گستاخِ رسولﷺ کا سر ایک مسلم لڑکے نے فی الفور قلم کیا اور اس طرح اس گستاخ کو کیفر کردار تک پہنچایا۔اس سے پہلے ذرائع کے مطابق اس استاد کی مذموم حرکت کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش ہوئی تھی لیکن ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی۔
یہ اپنی نوعیت کا کوئی منفرد اور انوکھا واقعہ نہیں ۔جب ہم ماضی میں مکی اور مدنی دور کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو یہ ایک مسلسل عمل پاتے ہیں کہ اپنے آس پاس اپنوں ، پرائیوں اور اپنے مفادات اور مراعات کی خاطر ان دونوں ادوار میں اس طرح شان رسول ﷺ میں گستاخیاں اہل یہود اور کفار ُاس دور میں کرتے رہے ہیں۔اہل یہود یہ جانتے اور سمجھتے تھے کہ نبی برحق ہیں اور یہی وہ آخری نبی ہیں جن کی بشارت تورات ، انجیل اور بائبل میں واضح دی گئی ہیں لیکن حضرت اسحاق کی نسل سے ہی سارے نبی اور رسول آتے چلے گئے تھے ، اس لئے یہ بات ان کے لئے ناقابل قبول تھی کہ اتنی بڑی شان والا آخری اور تمام نبیوں کا سردار اسماعیلی نسب سے پیدا ہو۔ دوسری بات یہ کہ اہل یہود شروع سے ہی نسلی امتیاز میں مبتلا ہیں اور اپنے آپ کو ایک بر گزیدہ اور اللہ کی چہیتی اور پسندیدہ قوم کے طور تسلیم کرتے اور مانتے ہیں یہ دوباتیں آج بھی انہیں حق سمجھنے سے محروم کئے ہوئے ہیں۔ آج بھی اہل یہود کے لئے یہی بات ناقابل قبول ہے جو چودہ سو برس پہلے تھی ،اس لئے آج بھی ساری دنیا کا کفر ملت واحدہ ہوکر وہی حربے آزما رہا ہے اور آج بھی اسی رنج د ہ، اذیت ناک اور افسوسناک مکروہ عمل کو دہرا رہا ہے جو شروع سے کفار مکہ و مدینہ ،جس میں اہل یہود پیش پیش تھے، کا وطیرہ رہا ہے۔یہ جو آج گستاخیاں ایک منصوبے ا ور مکمل منظم طور پر اہل یورپ آزمارہے ہیں ،یہ وہی صدیوں پہلے کی سوچ و اپروچ ہے سوائے یہ کہ اب ذرائع اور وسیلے یا ہتھیار بدل چکے ہیں ۔پہلے اہل کفر کو مختلف ممالک کے لئے سفرا اور وفود تشکیل دینا پڑتے تھے اور اب ترقی یافتہ ایجادات ، الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا سے یہ کام بہت ہی آسان اور آرام دہ ہوچکا ہے۔یہی اہل یہود و کفار تھے جو رسالت مآب ﷺ کی اصل سیرت کو چھپاکر نت نئی من گھڑت ا صطلاحیں جیسے جادو گر ، مجنون اور اس جیسے دوسرے الفاظ کا استعمال کرکے نبی ﷺ کی شبیہ بگاڑنے کی کوششیں دن رات کیا کرتے تھے اور آج اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہلانے والے یہ ممالک بالکل اسی سوچ و فکر اور وہی عزائم اور اہداف رکھتے ہوئے ان نئے طور و طریقوں سے وہی کارنامہ انجام دینے کی کوشش میں اللہ کی سزا کا موجب ہورہے ہیں ۔یہ چودہ سو سال پہلے ہی ان ہی حالات اور سیاق و سباق میں اللہ کی طرف سے واضح اور واشگاف اعلان ہوچکا ہے کہ ( پس آپ ﷺ کو جو حکم دیا جارہا ہے اس سے آپ ﷺکھول کر بیان کیجئے اور ان مشرکین کی پروا نہ کیجئے ، ہم مذاق اڈانے والوں سے نمٹنے کے لئے کافی ہیں ۔الحجر ۹۴، ۹۵ )
ظاہر ہے مذاق کی نوعیت میں فرق رہا ہوگا اور آج کارٹون کو اس زمرے میں ہی ڈالا جاسکتا ہے۔اہل یورپ صدیوں سے اس ایک ہدف کو پانے کے لئے مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکا رہیں۔ اس کے لئے یورپ اور ان کے ساتھ اہل مشرک و یورپ ایک بہت بڑے محاظ کھولے ہوئے اہل ایمان کی استقامت اور صبر کو آزمارہے ہیں۔یہ لوگ اب تک اس منزل کو پانے کے لئے لاکھوں اور کروڑوں بے گناہوں کا لہو بہا چکے ہیں ، اور اپنے میڈیا، ٹیکنالوجی ، عسکری قوت اور سرمایہ کی بنیادوں پر انہیں لگتا ہے کہ وہ اس سازش اور ناپاک منصوبے میں کامیاب ہوں گے۔ان منصوبوں کے پیچھے جو عزائم ہیں انہیں اس دور کے مسلم نوجواں کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ان مقاصد میں اولین یہ ہے کہ تعلیم کے لبادے میں مسلم دنیا کو قرآن حکیم کی تعلیمات سے دور رکھا جائے اور دوئم یہ کہ صاحب قرآن کی محبت اور ان کے ذات اقدس سے والہانہ عشق کو ختم کیا جائے۔سوئم یہ کہ پروپگنڈا اور میڈیا کی قوت کا استعمال کرکے اہل ایمان کے دل و دماغ کو برین واش کرکے ذات اقدس ﷺ کے قدو قامت کو گٹھایا جائے اور اس میں آخری یہ کہ اہل اسلام پر دہشت گردی کی لیبل لگا کر انہیں پشت بہ دیوار کیا جائے ۔
بظاہر اس دور کے حالات کا جائزہ لینے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یورپی اقوام ، اہل یہود و اہل ہنود بڑی حد تک ان اہداف کو پانے میں کامیاب نظر آتے ہیں کیونکہ مسلم دنیا میں کوئی ایسی موثر آواز اور ایسا فورم یا ملک نہیں جو کفر کی ان اشتعال انگیزیوں کا مقابلہ کرنے کا اہل ہو ، لیکن اس کے باوجود اب بھی ایسی کسی بات سے نہ صرف مسلم دنیا سراپا احتجاج بن جاتی ہے بلکہ اہل ایمان اور جن کے دلوں میں عشق رسول ﷺ موجزن ہے ،اپنی جانوں کا نذرانہ شمع رسالتؐ پر پروانہ وار نثار کرنے میں کو ئی ہچکچاہت اورکسی تذبذب کا شکار نہیں۔ مسلم عوام کے سینوں میں اب بھی عشق رسولؐ کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر موجود ہیں لیکن مسلم دنیا کے سربراہان اور وقت کے حکمران اپنی مصلحت کوشی اپنے اقتدار اور اپنی بادشاہتوں کو بر قرار رکھنے کی تگ و دو میں ان بڑی طاقتوں کے سامنے غلامانہ طرز عمل کے لئے مجبور ہیں ۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ عوامی سطح پر مسلم ممالک فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں یا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور حرم کے پاسباں  شروع سے ہی یاتو خاموش رہتے ہیں یا عملی اقدامات کے بجائے ایک کمزور سا ذو معنی بیان جاری کرکے اپنے عوام کی تسلی کے لئے کافی سمجھتے ہیں ۔یہ لوگ اپنے آپ کو پاسبان حرم اور خادم حرمین شریفین کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں لیکن زمینی سطح پر ان کے مفادات ، ان کی خواہشات ،ان کی جستجوئیں اور آرزوئیں ان ہی اقوام اور ممالک سے وابستہ ہیں جس کی وجہ سے یہ ممالک اپنی مسلم رعایا کا جینا حرام کئے ہوئے ہے اوربڑی سینہ زوری سے وقفے وقفے سے منظم اور منصوبہ طریقوں سے شان اقدس ﷺ میں گستاخیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
 لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ نے وعدہ فرمایاہے کہ وہ خود اپنی کتاب اور صاحب کتاب سے پر خاش رکھنے والوں سے نپٹ لینے کے لئے کافی ہے اس کو یوں بڑی آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ 9/11کے خود ساختہ اسرائیلی منصوبے کے بعد جہاں ایک منظم اور بڑے پیمانے پر نفرت اور دہشت گردی کے پردے میں اہل اسلام کی حیات اور زمین ان کے لئے تنگ کی گئی ،وہیں اسی منصوبے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اہل یہود و ہنود میں قرآن اور صاحب قرآن کو سمجھنے اور جاننے کی ایک ایسی لہر چلی جو اب تک بھی نہیں تھمی اور اعداد و شمار کے مطابق جو خود ان ممالک نے جمع کئے ،یورپ اور امریکہ میں بڑی تیزی سے لوگ اسلام قبولنے کی طرف مائل ہوئے بلکہ عملی طور پر اسلام قبول کرکے اہل یہود و مشرکین کی چالوں کو نا صرف ناکام کیا بلکہ اہل نار کے لئے یہ مکمل طور پر ان کے منصوبوں کا الٹ ہے۔یہ پریشانی آج بھی اہل یورپ کو ہے ،وہ منصوبے بناتے ہیں اور اللہ بھی اپنے منصوبے رکھتا ہے اور اللہ ہی کے منصوبے ہر حال میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ 
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی ﷺ سے شرار بو لہبی
رابطہ ۔سوپورکشمیر،موبائل نمبر۔7006410532
ای میل۔rashid.parveen48@gmail.com