تازہ ترین

سمارٹ میٹروں کی تنصیب | سرینگر اور جموں ملک کے پہلے دو شہر

شہر کے 46فیڈروں کا انتخاب،سرینگر میں 58ہزار میٹر لگانے کا نشانہ مقرر،مارچ تک کام مکمل کیا جائیگا

تاریخ    29 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر//بجلی سپلائی کو بہتر بنانے کیلئے شروع کی گئی متعدد سکیموں کے ناکارہ ہونے کے بعد ملک میں پہلی بار کسی خطے میں سمارٹ میٹروں کی تنصیب کی جارہی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ سرینگر اور جموں اضلاع میںپرائم منسٹر ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت سمارٹ میٹروں کی تنصیب ہورہی ہے اور پہلے مرحلے میں 20,000میٹر لگائے جائیں گے ۔بھارت کی کسی بھی ریاست یا مرکزی زیر انتظام علاقے میں سمارٹ میٹر نصیب نہیں ہیں،حالانکہ پورے ملک میں سب سے زیادہ موسم کی مار کشمیری عوام کو ہی جھیلنی پڑرہی ہے۔ اس بارے میں صارفین میں سوالات اُٹھائے جارہے ہیں کہ کہیں یہ کارروائی نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کا عمل تو نہیں؟ موسم سرما میں اگر کشمیر وادی مین گرم پانی کا انتظام نہ ہو تو منہ دھونا بھی بہت مشکل ہوجاتا ہے۔نیز یہاں گرمی کا انتظام کرنے کیلئے بجلی کا ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔ ایسا نہیں کہ لوگ فیس ادا نہیں کررہے ہیں بلکہ شہر و دیہات میں میٹر کے حساب سے فیس کی ادائیگی ہوتی ہے یا پھر فلیٹ ریٹ کی شرح سے فیس ادا کیا جاتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر وادی میں پہلے مرحلے کے تحت صرف ضلع سرینگر میں کمرشل اور ڈومسٹک دونوں میں 70ہزار سمارٹ میٹر نصب ہوں گے اور اس کیلئے محکمہ نے سرینگر کے مختلف علاقوں میں 46فیڈر وں کا انتخاب کیا ہے ۔محکمہ کے مطابق سرینگر ضلع میں رجسٹرڈ صارفین کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے اور یہاں ڈومسٹک اور کمرشل صارفین کے گھروں کے باہر یہ میٹر نصب کئے جائیں گے اور مارچ 2021کے آخر تک اس کام کو مکمل کیا جائے گا ۔حکام اگرچہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اس سے بجلی چوری میں کمی واقع ہو گی اور ساتھ ہی صارفین کتنی بجلی استعمال کرتے ہیں،کے بارے میں بھی محکمہ کو وقت پر جانکاری حاصل ہو گی۔ تاہم جموں وکشمیر میں بجلی کی سپلائی کو بہتر کرنے میں کوئی اقدام عمل میں نہیں لایا جارہا ہے۔ یہاں پہلے سے جاری بجلی کی سکیموں کا کام سست رفتاری کا شکار ہے اور محکمہ ایک بار پھر صر ف نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے نئے سمارٹ میٹر نصب کرنے جا رہی ہے۔ سمارٹ میٹر نصب کرنے کے حوالے سے تعینات کئے گئے نوڈل افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کمرشل اور ڈومسٹک صارفین کیلئے ضلع سرینگر میں 57ہزار 8سو سمارٹ میٹر نصب کرنے ہیں اور سمارٹ سٹی کے تحت آنے والے کچھ مخصوص علاقوں میں 23ہزار میٹر نصب ہوںگے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ نے اس کیلئے شہر میں فیڈروں کا بھی انتخاب کیا ہے جہاں نومبر 15سے کام شروع ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ سرینگر ضلع میں صارفین کی کل تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے ۔معلوم رہے کہ حال ہی میں پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے پرنسپل سیکریٹری روہت کنسل نے مرکزی سپانسر شدہ سکیموں اور سمارٹ میٹروں کی تنصیب کا جائزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ طلب کی تھی جس میں پروجیکٹ کو نافذ کرنے والی ایجنسی (پی آئی اے) ، آر ای سی پی ڈی سی ایل سے پرنسپل سیکریٹری نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس میں مزید تاخیر نہ ہو اور متعدد مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت دیگر شہری اور دیہی علاقوں میں پیمائش کے عمل کو بھی تیزی سے نافذ کیا جائے۔میٹنگ میں جانکاری دیتے ہوئے پروجیکٹ عمل آوری ایجنسی ( پی آئی اے ) آر ای سی پی ڈی سی ایل کے اَفسران نے بتایا کہ سمارٹ میٹروں کی تنصیب سے صارفین کو اپنے بجلی کی کھپت کا اندازہ اور اور ٹھیک وقت پر بل کا بھی پتہ چل سکے گاجس کے ذریعہ وہ بوجھ کا انتظام کرکے ماہانہ بل کو کم کریں گے۔ 
 

تازہ ترین