تازہ ترین

کیا گپکار بنگلے فروخت پرہیں؟ | زرعی قوانین کی مخالفت ناراض عناصر کر رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر

تاریخ    29 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی//یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ جموں و کشمیر اراضی قوانین کی مخالفت ناراض عناصر کر رہے ہیں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ معاملہ ان لوگوں کے ذریعہ اٹھایا جارہا ہے جن کا ووٹ بینک خطرہ محسوس کررہا ہے۔قومی ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس نوٹیفکیشن کو خوش آئند اقدام قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ اس سے جموں و کشمیر کی معیشت کو تقویت ملے گی اور ساتھ ہی اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کے انتظامات نے بیرونی لوگوں کے لئے بھی ایک ذہنی رکاوٹ پیدا کردی جس سے سرمایہ کاری نہ ہوسکی ۔اس الزام کے جواب میں کہ’جموں وکشمیر فروخت پر ہے‘، ڈاکٹر  سنگھ نے کہا’’کیا باہر سے لوگ آکر جموں و کشمیر میں بنگلے اور جائیدادیں خریدیں گے اور گپکار روڈ کے رہائشیوں کے بنگلے باہر سے کسی کے قبضہ میں لئے جائیں گے‘‘؟ ۔ انہوں نے کہاکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی بنگلہ نہیں خرید سکتا جب تک کہ مالک اسے بیچنے پر راضی نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس نئے نوٹیفکیشن کے تحت جموں و کشمیر میں کسی جائیداد پر قبضہ کرنے یا زبردستی قبضہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی، جیسا کہ یہ بتایا جارہا ہے، تو گپکار بنگلے، جو انتہائی خوبصورت مقام میں واقع ہیں، بیرونی لوگوں کے قبضہ میں ہوجانے چاہئیں ۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزیدکہا’’جموں و کشمیر میں بیرونی لوگوں کے ذریعہ جائیداد خریدنے کا حق جموں و کشمیر میں جائیداد کے مالک کو اس فیصلے کے حق سے محروم نہیں کرتا ہے کہ وہ اپنی جائیداد بیچتا ہے یا نہیں‘‘۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دعویٰ کیا کہ متعدد سرمایہ کارجموں وکشمیر میں یونٹ قائم کرنے کے منتظر ہیں اور در حقیقت جب سے دفعہ 370 کو منسوخ کیا گیا ہے، وہ بار بار حکومت سے رجوع کر رہے تھے کہ وہ زمین فراہم کرنے کے عمل کو تیز کریں، نوٹیفیکیشن اس لئے جاری ہواتاکہ وہ اپنے کاروباری اقدامات کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں اس سے نہ صرف جموں و کشمیر میں صنعت و کاروبار کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار اور معاش کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ڈاکٹر جتندر سنگھ نے بعض کشمیری سیاست دانوں کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نئے قوانین آبادیاتی نظام کے لئے خطرہ ہیں۔
 

تازہ ترین