تازہ ترین

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چاہئے؟

شاہِ خوباںؐ

تاریخ    29 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


سجاد احمد خان
مرحبا! ماہِ ربیع الاول آگیا، لیکن ربیع الاول تو گیا ہی کب تھا۔ کسی کیلئے ربیع الاول سال بھر میں ایک مرتبہ آتا ہو گا،ایک سچے مسلمان کیلئے تو زندگی کا ہر لمحہ ربیع الاول ہے کہ وہ اپنی فانی زندگی کے اس وقت کو جو رحمت للعالمین ،شفیع المذنبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی سے خالی ہو،موت سے بد تر سمجھتا ہے۔ اس بات پر دنیائے عشق و محبت کا اتفاق بلکہ اجماع ہے کہ   ؎
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس کو سبق یاد ہوا
سال کے صرف ایک مہینے،مہینے کے صرف ایک دن اور دن کے بھی صرف چند گھنٹے،معاف کیجئے گا یہ محبت نہیں ،محبت کی توہین معلوم ہوتی ہے۔ جو سچے محب تھے اور جن کی محبت کی گواہی خود محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ، ان کی حالت تو یہ تھی   ؎
جان دیدے کے خریدار بنے ہیں انصار
عشق زارِ مدنی، مصر کا بازار نہیں
جی ہاں! محبت رسول میں تو جانوں کے سودے ہوتے ہیں۔ یہاں محبوب کی چاہت کے مقابلے میں اپنی خواہشات‘ اپنے جذبات اور اپنے خیالات کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی۔ دنیا والے بھی تو محبت کا مطلب یہی بتاتے ہیں   ؎
من تو شدم تومن شدی‘ من تن شدم تو جاں شدی
تاکس نہ گوید بعد ازیں‘ من دیگرم تو دیگری
(’’میں‘‘ ’’تُو‘‘ بن جاتا ہوںاور ’’تو‘‘ میرے اندر سما جا، میں جسم بن جاتا ہوں اور ’’تو‘‘ جان بن جا۔ تاکہ اس کے بعد پھر کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ میں الگ ہوں اور ’’تو‘‘ الگ ہے)
بہرحال ایک سچے محب کیلئے محبوب کا ساتھ نصیب ہو جانا‘ اُس کی معیت کا مل جانا اور اس کی بارگاہ میں شرفِ حضوری پا لینا‘ اس سے بڑھ کر اُس کیلئے کوئی نعمت نہیں ہو سکتی۔ اس امت کے سب سے بڑے اور سب سے عظیم محب ِ رسول‘ سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کیسے محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت اور ساتھ کیلئے تڑپتے تھے‘ اس کا اندازہ اس روایت سے لگالیں:’’مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے حالات کو بیان کرتے ہوئے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے بھانجے حضرت عروہ ؒ کو بتاتی ہیں:ایک دن ہم ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر بیٹھے ہوئے تھے اور ٹھیک دوپہر کا وقت تھا کہ کسی نے آکر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر پر رومال ڈالے تشریف لا رہے ہیں‘ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہمارے یہاں اس وقت آنے کا نہ تھا  حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس اطلاع پر بولے کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں‘ ایسے وقت میں آپ کسی خاص وجہ سے ہی تشریف لا رہے ہوں گے۔ جب پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے تو اندر آنے کی اجازت چاہی، اجازت ملنے پر آپ اندر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کہ تھوڑی دیر کیلئے یہاں سے سب کو اٹھا دو۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہاں تو آپ کے گھر والے ہی ہیں‘ میرے باپ آپ پر فدا ہوں۔ تب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے ہجرت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے والد آپ پر قربان! کیا مجھے ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہو سکے گا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں۔‘‘ (صحیح البخاری)
سیرت ابن ہشام کی روایت میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مزید یہ الفاظ بھی منقول ہیں:’’اللہ کی قسم! مجھے اُس وقت تک معلوم نہیں تھا کہ کوئی شخص بہت زیادہ خوشی کی وجہ سے رو بھی سکتا ہے‘ یہاں تک کہ میں نے اس دن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خوشی کی وجہ سے روتے ہوئے دیکھا‘‘۔
کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ محب ِ صادق ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خوشی کا اُس وقت کیاٹھکانہ ہو گا‘ جب انہیں یہ مژدئہ جاں فزا ملا کہ وہ ہجرت کے مبارک سفر میں رفاقت اور معیت کے شرف سے نوازے جا رہے ہیں۔ یقینا تمام صحابہ کرام ہی اس رفاقت‘ معیت اور ساتھ کیلئے تڑپتے تھے اور اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی دولت خیال کرتے تھے۔
اسی لیے تو بجا طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اس آسمان و زمین نے رحمت دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں دیکھا اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر کوئی محبت کرنے والا نہیں دیکھا۔ بلاشبہ جس رسمِ محبت کی بنیاد ہمیں اُن حضرات کے ہاں نہیں ملتی‘ وہ ہماری خام خیالی تو ہو سکتی ہے لیکن بارگاہِ محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم میں مقبول ہرگز نہیں ہو سکتی کہ یہی خوش قسمت لوگ تھے کہ جنہوں نے بارگاہِ رسالت ِ مآب میں اپنے گھر بار‘ اپنا کاروبار‘ اپنی اولاد اور اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا‘ تو پھر بھی صرف یہی عرض کیا  ؎
ہر دو عالم قیمتِ خود گفتہ ای
نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز
(آپ نے تو اپنی قیمت صرف دونوں جہان بتائی ہے‘ یہ قیمت تو بہت سستی ہے‘اسے مزید بڑھا دیجئے)
یقینا یہ ہی وہ ہستیاں ہیں جو صحیح اور غلط اور سنت و بدعت کے درمیان معیار‘ کسوٹی اور پہچان ہیں۔ اگر کوئی بارگا ہ محمدیﷺ تک پہنچنا چاہتا ہے تو اُس کیلئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اسی لیے تو قرآن مجید کہہ رہا ہے:تو اگر یہ لوگ بھی ویسے ہی ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو تو یہ ہدایت پا جائیں گے۔(البقرۃ‘ ۷۳۱)
اور حدیث پاک میں راہِ نجات کو متعین کرتے ہوئے واضح طور پر فرما دیا گیا:جس راستے پر میں اور میرے صحابہ چل رہے ہیں۔(جامع الترمذی‘ تاریخ واسط)
بلاشبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت ِ رسول اور ان کا اتباع رسول ہی اس حد تک کامل و مکمل ہے کہ وہ ان اشعار کے صحیح مصداق نظر آتے ہیں:
بہارِ حسن کو یوں جذب کر لوں دیدہ و دل میں
محبت میں میرا ذوقِ نظر معیار ہو جائے
میری آنکھوں میں چشم مست ساقی کا وہ عالم ہے
نظر بھر کر جسے بھی دیکھ لوں مے خوار ہو جائے
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور ساتھ مل جانا کتنی بڑی نعمت محسوس ہوتا تھا اور اس سے محرومی کو وہ اپنے لیے کتنی بڑی مصیبت سمجھتے تھے‘ اس کا کچھ عکس اس روایت میں نظر آتا ہے:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یوں عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور جب بھی مجھے آپ کی یاد ستاتی ہے تو میں آکر آپ کے دیدار سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر لیتا ہوں‘ اگر میں ایسا نہ کروں تو مجھے لگتا ہے کہ میری جان ہی نکل جائے گی۔ اب مجھے یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ اگر میں جنت میں داخل بھی ہو گیا تو آپ سے بہت نچلے درجے میں ہوں گا‘ گویا اس طرح میں زیارت سے محروم رہوں گا اور یہ تو میرے لیے بڑی مشکل ہے‘ میں تو چاہتا ہوں کہ جنت کے درجے میں آپ کے ساتھ ہی ہوں(المعجم الکبیر، طبرانی)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو کوئی جواب نہیں دیا‘ یہاں تک کہ یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:’’اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جیسے انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین، اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں‘‘۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور یہ آیت اُن کو پڑھ کر سنادی
اللہ اکبر! کیا محبت کی انتہاء اور معراج ہے کہ یہ سب کچھ جاننے اور ماننے کے باوجود کہ جنت میں کیسی کیسی نعمتیں ہوں گی‘ جو کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ہی کسی انسان کا دل اُن لذتوں کا پورا تصور کر سکتا ہے‘ لیکن محب صادق کو بغیر محبوب کے دیدار اور رفاقت کے کیسے چین آسکتا ہے‘ جس نے کہا ہے بالکل سچ کہا ہے:
کسی کی زلف پر مر کر معلوم ہو تجھے
کتنی ہے فرقت کی رات کس پیج و تاب میں
پھر کسی دفعہ ان شاء اللہ تعالیٰ چند ایسے اعمال کا مفصل تذکرہ ہو گا‘ جن پر خود رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایمان کو روزِ قیامت اپنا ساتھ نصیب ہونے کی بشارت ِ عظمیٰ عطا فرمائی ہے۔ اللہ کریم اس تحریر کو ہم سب کیلئے نافع اور مفید بنا کر ہمیں بھی اس سعادت کبریٰ کا مستحق بنائے
رابطہ۔ریپورہ گاندربل،موبائل 
نمبر9469411580
 

تازہ ترین