تازہ ترین

رسول اللہ ؐ کی مقدس معاشرت

دعوائے نبوت سے پہلے

تاریخ    29 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


محمد شفیع ایاز
آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب دنیا میں ہر طرف ظلم ومعصیت کی تاریک گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں ، ہر مخلوق کسی بھی حیثیت یا درجہ کی تھی، دنیا میں اسکی پرستش ہورہی تھی اور کوئی ایسی برائی نہیں تھی جس میں دنیا بالخصوص اہلِ عرب مبتلا نہ ہوں اور پھر وحشت، جہالت، لڑائی جھگڑا، دختر کشی، شراب خوری، جوئے بازی، فحاشی و فحش کاری اور دیگر جرائم محبوب مشغلے تھے۔ ان ہی حالات میں خاتم النبیین سرور کائنات رحمت عالم۔ حضرت محمدؐکی بعثت ہوئی۔ دنیا کے اس سب سے بڑے انسان کو خدا نے ایسی پاکیزہ فطرت بخشی تھی کہ گردوپیش کے اس غلط ماحول اور عربوں کے اتنے بگڑے اخلاقی حالات میں آپؐ نے ایسی پاکیزہ زندگی بسر کی اور اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ سے پاکیزگی کا ایسا محیر القول ثبوت دیا کہ دشمن بھی اس کی تعریف میں پیش پیش ہیں۔                       
آپ ؐنے جب اپنی تبلیغ شروع کی تو ان لوگوںنے آپؐ کی شدید مخالفت کی۔آپؐکا سوشل اور اقتصادی بائیکاٹ کیاگیا۔آپؐ کو ان کے ہاتھوں طرح طرح کی اذیتیں اور مصیبتیں برداشت کرنی پڑیں۔آپ ؐکے قتل کے منصوبے بنائیے گئے اور پیغام۔پہنچانے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ یہاں تک کہ آپؐ کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا جس سے آپ ؐکو سخت صدمہ ہوا اور ہجرتِ وطن کے وقت یہ الفاظ آپؐ کی زبان سے جاری ہوگئے۔ " اے مکہ! وطن کی مقدس سر زمین! مجھے تجھ سے پیار ہے۔تیرا زرّہ زرّہ مجھے عزیز ہے اور خدا کی قسم، خدا کے یہ دشمن اگر مجھے تیری سرزمین میں رہ کر خدا کا پیغام پہنچانے دیتے تو میں کبھی تجھ سے جْدا نہ ہوتا۔اچھا رْخصت، اے وطن کی سرزمین مکہ، رْخصت۔" لیکن اش شدید مخالفت کے باوجود دشمنوں کی نظر میں آپ ؐ کی پاکیزہ زندگی بے داغ ہے۔ آئینہ کی طرح روشن اور صاف ہے۔             
  رسول اللہؐ کی زندگی بعثت سے پہلے بھی اتنی پاکیزہ اور مقدس تھی کہ آپ کی شخصیت کا نہ صرف قریش بلکہ عرب کے جملہ قبائل احترام کرتے تھے اور اتنا احترام جو آج تک عرب کے کسی بھی شخص کو حاصل نہیں ہوا۔ عربوں کی سماجی زندگی قبائیلی نظام پر قائم تھی۔ کسی بھی قبیلہ کا کوئی شخص خواہ وہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو ، اْس قبیلہ میں تو مقبول ہوسکتا تھا لیکن دوسرے قبیلہ کے لوگ اْس کی تعریف نہیں کرسکتے تھے کیونکہ اْس شخص کا تعلق اْن کے قبیلے سے نہیں ہوتا تھا۔ہر قبیلہ صرف اپنے قبیلہ اور اْس کے افراد کو ساری خوبیوں اور دلچسپیوں کا مرکز سمجھتا تھا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آنحضرت? کی زندگی اتنی پْر کشش اور انوکھی تھی کہ صرف آپکا قبیلہ قریش ہی آپکااحترام نہ کرتا تھا بلکہ مکہ کے جملہ قبائیل کے سر آپکی عظمت کے آگے جھْک گئے تھے۔ یہ صرف آپ کے کرداد کی بلندی و پختگی کی بات تھی۔ نہ تو آپ مالدار تھے کہ دولتمندی کی قوت کسی کو آپ کے آگے جھکا سکتی، نہ ہی آپ ظالم وجابر تھے کہ طاقت اور زبردستی سے لوگوں کو مجبور کرتے کہ وہ آپ کے گْن گا ئیں۔ لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مکہ کے سارے قبائیل آپ کو " صادق" اور " امین" کے نام سے پکارتے تھے۔آپ کا نام نہیں لیتے۔آپ ؐ کے یہ اوصاف ہی آپؐکا نام بن گئے اور آپؐ کی زندگی کا کوئی لمحہ بھی ان اوصاف کے انوار سے خالی نہیں ہے۔                                      
اگرچہ ظاہری طور آپؐ نے کوئی تعلیم کسی دنیاوی درسگاہ سے حاصل نہیں کی تھی لیکن علم و عقل اور فہم و فراست کے اعتبار سے آپ بے مثل تھے۔ آپؐ انتہائی خوش اخلاق تھے، خوش مزاج تھے اور پاکیزہ تھے۔ دوست دشمن سب کے ساتھ محبت و رحمت سے پیش آتے تھے۔ لغویات کا تذکرہ کبھی بھی آپ سے کسی نے نہیں سنا ہے۔آپ ؐ غریبوں، مسکینوں اور مظلو مین کے سب سے بڑے ہمدرد تھے۔غریبوں اور فاقہ کشوں کو کھلاتے پلاتے تھے، مصیبت ذدہ لوگوں کی امداد کرتے تھے اور ہمیشہ وعدہ کا پاس کرتے تھے۔ پورے مکہ میں صرف آپ ہی کی ذات گرامی تھی جس پر ساری امانتوں کا بار تھا اس لئے کہ امانت کے باب میں ہر شخص پر شْبہ ہوسکتا تھا لیکن زندگی بھر میں کبھی آپؐ پر کسی شْبہ کا کوئی موقعہ بھی نہیں آیا۔ .  .        
حبش کے ایک تاریخی دربار کا واقعہ ہرکسی نے سنا ہے۔ آپ ؐکی بلند و پاکیزہ زندگی کی شہادت ہے۔ مکہ میں درپیش ناقابل برداشت سختی سے تنگ آکر کچھ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حبش ہجرت کی تھی۔روساء عرب اسے کب گوارہ کر سکتے تھے کہ مسلمان ان کے پنجہ سے نکل جائیں۔ چنانچہ ایک سفارت مرتب ہوئی اور حبش پہنچ کر نجاشی شاہ حبش سے التجا کی کہ " ہمارے کچھ مجرموں نیعربوں سے بھاگ کر آپ کے ہاں پناہ لی ہے۔ آپ براہِ کرم ہمارے مجرموں کو ہمارے حوالے کر دیجئے۔" اس پر شاہ حبش نے ایک دربارِ عام منعقد کیا اور عرب وفد کے سربراہ ابو سفیان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ سوالات کئے ۔  
" محمدصلعم کے دعویٰ نبوت سے قبل کیا تم نے اْس کا کبھی  کوئی جھوٹ پکڑا ہے یا ایسا کوئی موقعہ آیا ہے جہاں اْسے جھوٹا سمجھنا ممکن ہوتا ہو؟"۔ ابو سفیان نے کہا " ایسا کبھی نہیں ہوا۔" نحاشی نے ایک اور سوال کیا " رسول اللہ صلعم اور تمہارے درمیان معاہدے ہوتے رہتے ہیں تو کیا اْن کی جانب سے کبھی کوئی معاہدہ شکنی ہوئی ہے؟"۔ ابو سفیان نے جواب دیا " آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا۔" تو نجاشی نے کچھ دیر اور گفتگو کی اور پھر بول اٹھا " ایسا شخص بیشک نبی ہے۔" گویا دشمنوں کا اعتراف اور گواہی آپؐکی عظمت ، بڑائی اور معاشرت میں برتری کی واضح دلیل ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ آپؐ کی معاشرت دعویٰ ٔنبوت سے پہلے بھی ویسی ہی تھی جیسی دعوء نبوت کے بعد۔ ابو جہل جو آپؐکا سب سے بڑا دشمن تھا نے جب ایک دفعہ آپ کا پیغام سنا تو کہہ دیا " محمدؐ۔ہم آپ کو جھوٹا نہیں سمجھتے لیکن جو پیغام آپ پیش کرتے ہیں اْس کی ہم ضرور تکذیب وتغلیط کرتے ہیں" اسی طرح کوہ صفا کا تاریخی واقعہ ہے جب آپ نے وہاں اہل عرب کو جمع کیا اور فرمایا" اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اس پہاڑی کی پْشت پر ایک لشکر جرار موجود ہے جو تم پر حملہ کرنا چا ہتا ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے؟" تو سب نے یک زبان ہوکر کہا" ہاں مانے گے کیونکہ ہم نے تمہیں ہمیشہ سچا ہی پایا ہے‘‘ ۔ یہ تھی سچائی کی چھاپ جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا تھا۔
گویا زندگی گے پہلے چالیس سال یعنی دعوائے نبوت سے پہلے ایک ایسا دور تھا جس دوران آپؐ نے اپنی پاکیزہ طرزِ زندگی سے ہر شعبہ ، ہر فرد اور ہر قبیلہ کو اپنا گرویدہ بنایا تھا۔ آپؐ کی ایمانداری، ہمدردی، خلوص، اخوت، شرافت،  سخاوت، محبت ، شرم وحیا، خوش خلقی، نرم مزاجی، مہمان نوازی، غرباء پروری، حسن سلوک، باہمی رواداری، مساوات اور دیگر کثیر اوصاف نمایاں تھے اور ہر کسی کو اسکا اعتراف بھی تھا۔ اس وجہ سے دعوء نبوت کے بعد لوگ لبیک لبیک کہ کے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ وہ چالیس سال سے ذات مقدس جناب رسول اکرمؐ کو بخوبی جانتے تھے۔ آپ کی طرز زندگی اور معاملات سے واقف تھے لہٰذا آپ کی ذات یا معاملات پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا۔ آپؐ کی زندگی کے پہلے چالیس سال نے ایک راہ ہموار کی اس مشن کیلئے اور اس عظیم کام کیلئے جس کے لئے آپ ؐ تشریف لائے تھے۔  اگرچہ اعلان نبوت کے بعد آپ ؐکو اذیتوں ، مصیبتوں اور ابتلا و آزمائش کا دور بھی دیکھنا پڑا لیکن۔آپ نے ہر وقت اور ہر جگہ رحمت للعالمین اور افضل البشر ہونے کا ثبوت  دیا جو آپؐ سے منسوب معاشرت کے عین مطابق تھا۔    
آپؐکی سیرت مبارک کے ایک گوشہ پر اگر لکھنا شروع کیا جائے تو اس کیلئے زمینوں کا کاغذ اور سمندروں کو روشنائی بنایا جائے تو بھی تذکرہ مکمل نہیں ہوگا۔ بلا مبالغہ سیرت رسولؐ پر لاکھوں کتابیں لکھی گئی ہیں اور دنیا میں کسی اور موضوع پر اتنی کتابیں نہیں لکھی گئی ہیں۔ ہر جگہ آپ?کی پاکیزہ معاشرت ا نمایاں پہلو نظر آئیگا اور وہ بھی آپ ؐ کی پوری زندگی میں۔
مائیکل ہارٹ کی دنیا کی عظیم ترین شخصیات کی کتاب میں رسول پاکؐکا سر فہرست ہونا اس بات کا غیر مسلموں کی طرف سے واضح اعتراف ہے کہ آپؐ جیسا پوری دنیا میں نہ کوئی تھا، نہ کوئی ہے اور نہ کوئی ہوگا۔ آپکی ذاتِ اقدس کا ہر پہلو مثالی ہے جس میں آپؐ کا معا شرتی پہلو کو خاصا مقام حاصل ہے۔ متذکرہ کتاب میں آپ کے اْس دور زندگی کو خاص طور سے ملحوظِ نظر رکھا گیا ہے جب اعلانِ نبوت نہیں ہوا تھا لیکن آپکی معاشرت نے آپؐکو اْسی وقت مکہ اور عربی قبائیل میں اعلیٰ مقام حاصل ہوا تھا۔ اعلانِ نبوت سے پہلے ہی آپؐنے محسنِ انسانیت اور سماجی اصلاح کار کا اہم ترین رتبہ پا لیا تھا اور اس لحاظ سے یہ دور سیرت نبیؐکا اہم ترین باب ہے۔