تازہ ترین

ملک کے ہرشہری کو اراضی خریدنے کاحق

جموں کشمیر کے 26زرعی قوانین منسوخ یا ان میں ترمیم

تاریخ    28 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی

زرعی اراضی فروخت کرنیکا راستہ بھی ہموار،’ ریاست کا پشتینی باشندہ ‘ہونے کی اصطلاح ختم

سرینگر// مرکزی حکومت نے ایک اہم پیش رفت کے تحت جموں کشمیر کے اراضی قوانین میں بڑے پیمانے پر ترامیم کر کے اس  بات کیلئے راہ ہموار کی ہے کہ بھارت کے کسی بھی شہری کو مرکزی زیر انتظام والے میں اراضی خریدنے کا حق حاصل ہوگا۔۔وزارت داخلہ نے منگل کو ریل اسٹیٹ( نفاذ و ترقی) قانون مجریہ2016 کو نوٹیفائی کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اطلاق جموں کشمیر میں فوری طور پر ہوگا۔ اس پیش رفت سے جموں کشمیر کے دونوں صوبوں میں جائیداد کی خریداری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہونگی۔ مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں جاری حکمنامے کو ’’جموں کشمیرتنظیم نو (مرکزی قوانین کی توثیق)مجریہ2020‘‘کے نام سے موسوم کیا گیاِ اور یہ منظور شدہ قوانین کا تیسرا حکمنامہ ہے۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ عمومی دفعات قانون( جنرل کلاز ایکٹ)مجریہ1897  آرڈر کی ترجمانی کیلئے لاگو ہوتا ہے ۔ مرکزی حکومت نے جموں کشمیر ڈیولپمنٹ ایکٹ کی دفعہ17کے تحت’’ ریاست کا پشتینی باشندہ ‘‘ہونے کی اصطلاح کو حذف کردیا ہے۔مرکزی حکومت کی طرف سے گزشتہ برس دفعہ370کی تنسیخ اور دفعہ35اے ختم کرنے سے قبل بھارت کی دوسری ریاستوں میں رہائش پذیر شہریوں کو جموں کشمیر میں اراضی اور غیر منقولہ جائیداد خریدنے پر پابندی تھی اور صرف پشتینی باشندے ہی جموں کشمیر میں اراضی خریدنے کے حق دار تھے۔ تاہم نئی ترامیم سے غیر رہائشی شہریوں کو مرکزی زیر انتظام علاقے میں اراضی خریدنے کا راستہ فراہم کیا گیا ہے۔ نئی ترامیم میں اگرچہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ زراعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کیلئے منتقل نہیں جاسکتا،تاہم قانون میں اس بات کی بھی چھوٹ رکھی گئی ہے کہ زرعی اراضی پر تعلیمی ادارے اور طبی سہولیات کیلئے ڈھانچے تعمیر کئے جاسکتے ہیں۔ ترامیم کے مطابق زمیندار کو اس بات کی اجازت ہوگی کہ کسی غیر کاشتکار کو اراضی فروخت کرنے کے علاوہ اس کا تبادلہ بھی کرسکتا ہے یا اس کو یہ ارضی تحفہ میں دے سکتا ہے۔ اسکے بعد وہ شخص مذکورہ اراضی کو غیر زرعی مقاصد کیلئے استعمال میں لاسکتا ہے۔وزارت داخلہ نے زرعی اصلاحات قانون مجریہ1970میں ترمیم کرکے وزیر مال کے اختیارات کے پر کاٹ دئے ہیں،جو پہلے عوامی مفاد کے تحت تحصیلدار یا اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے مہاجرین یا سرکاری اراضی کے حوالے سے احکامات کو مسترد کرتا تھا۔اس سلسلے میں ایک نیا ادارہ جموں کشمیر انڈسٹریل کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،اوریہی ادارہ اب اراضی کے لین دین کے معاملات طے کریگا۔اور اگر کارپوریشن اراضی کی حصولیابی میں ناکام ہوتی ہے تو سرکار’ معقول معاوضہ قانون ‘کی شقوں کا اطلاق عمل میں لا کر کارپوریشن کے توسط سے مذکورہ اراضی حاصل کریگی،جسے’’ عوامی مقاصد‘‘ کیلئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ مرکزی حکومت نے جموں کشمیر میں اس دوران تیسرے حکم نامے میں26میں سے12 اراضی قوانین کو منسوخ کیا، جبکہ باقی`14میں ترمیم کی گئی۔جن قوانین کو مکمل طور پر منسوخ کیا گیا، ان میں جموں کشمیر الی نیشن آف لینڈ ایکٹ، بگ لینڈیڈ ایسٹیٹس ابالیشن ایکٹ، مشترکہ اراضی( نفاذ) قانون مجریہ1956، جموں کشمیر کنسالڈیشن آف ہولڈنگس قانون مجریہ1962، جموں کشمیر حق پیشگی خریداری قانون، جموں کشمیر فلڈ پلین زونس ،جموں کشمیر فروغ اراضی اسکیم،جموں کشمیر اراضی کی منتقلی اور باغات قانون،جموں کشمیر اراضی کے استعمال سے متعلق قانون شامل ہیں۔ حکم نامہ میں وزارت داخلہ نے جموں کشمیر تنظیم نو قانون مجریہ2019 کے دفعہ96کے تحت حاصل اختیارات اور34 of2019 اور اس سلسلے میں حاصل د یگر اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے جموں کشمیر سے متعلق یہ حکم نامہ جاری کیا ہے۔
 

کسی بھی قطعہ اراضی کو’دفاعی علاقہ‘ قرار دیا جاسکتا ہے

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//جموں کشمیر ڈیولپمنٹ قانون مجریہ1970میںبھی ترمیم کی گئی ہے،جس کے تحت حکومت کسی بھی فوجی افسر ،جس کا عہدہ کور کمانڈر سے کم نہ ہو،کی تحریری درخواست پر کسی بھی قطعہ اراضی کو’ دفاعی علاقہ‘ قرار دے سکتی ہے،جسے مسلح فوج کیلئے براہ راست آپریشنل اور تربیتی مقاصد کیلئے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔
 

سرکاری افسر کی اہلیہ بھی ڈومیسائل کی حقدار قرار

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// جموں کشمیر کے شہریوں کو اب ڈومیسائل اسناد کی بدولت صرف سرکاری نوکریوں پر کسی حد تک تحفظ حاصل ہوگا۔ اس سے قبل مرکزی سرکار نے اراضی فروخت کرنے سے متعلق جموں کشمیر کے لوگوں کو’’ اراضی حقوق‘‘ دینے کا اشارہ دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ اس کو ہماچل اور شمال مشرقی ریاستوں کی طرز پر ڈومسائل حقوق دیں جائیں گے،لیکن اب ڈمیسائل قانون میں ایک بار پھر ترمیم کی گئی ہے۔نئی ترمیم کے تحت ’’ ڈومیسائل شہری کی اہلیہ کو بھی ڈمیسائل تصور کیا جائے گا‘‘۔ اس قانون میں پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ جو مرکزی سرکار کا ملازم یا افسرجو10سال تک جموں کشمیر میں تعینات رہا ہو،کے بچے بھی ڈومیسائل کے حقدار ہونگے، لیکن اب اس میں  ایک بار پھر ترمیم کر کے مذکورہ ملازم یا افسر کی اہلیہ بھی ڈومیسائل تصور کی جائیگی۔
 

تازہ ترین