تازہ ترین

قومی شاہراہ کی مسدودیت

اس دردِ لادواکی کوئی دوا کرے!

تاریخ    28 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


 کل یعنی منگل کو جموں سرینگر قومی شاہراہ پر پھر پانچ گھنٹوں تک ٹریفک کی نقل وحمل مسدود رہی ۔گوکہ بعد میں بڑی مشکل سے ٹریفک بحال کیاگیا لیکن دیر رات تک ٹریفک کچھوے کی چال چلتا رہا جس کی وجہ سے مسافروں کو منزلوں تک پہنچنے میں بے پناہ مصائب سے دوچار ہونا پڑا۔ویسے بھی اب کشمیر کی شہ رگ کہلائی جانے والی جموں سرینگر قومی شاہراہ کی مسدودیت نہ صرف عام سی بات بن چکی ہے جبکہ ٹریفک جام کا سلسلہ بھی روز کا معمول بن چکا ہے اور اب جموں سے سرینگر یا سرینگر سے جموں کا سفر 6سے8گھنٹوں کے بجائے اوسطاً 12سے15گھنٹوں میں طے ہونامعمول بن چکا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب یہ شاہراہ سردیوں میں کئی کئی ہفتوں تک بند رہتی تھی تاہم بہار آتے ہی شاہراہ پر سفر خوشگوار بن جاتا تھا تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود یہ شاہراہ مسافروںکیلئے وبال جان بن چکی ہے ۔ شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں کی یہ عام شکایت رہی کہ بلا اعلان یکطرفہ کی بجائے شاہراہ پر دوطرفہ ٹریفک چھوڑا جاتا ہے جس کے نتیجہ میںشاہراہ پر ٹرکوں اور مسافر گاڑیوں کی دو رویہ لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں اور ان کے درمیان ٹھنسی چھوٹی گاڑیوں کی وجہ سے کسی طرف نکلنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب کبھی شاہراہ پر حادثہ پیش آتا ہے تو فوری بچائو کارروائیاں بھی ممکن نہیں ہوپاتی ہیں کیونکہ حادثہ کے شکار لوگوں کو طبی امداد فوری طور بہم ہی نہیں ہوپاتی ہے۔ٹریفک نظام کی اس بدنظمی کی وجہ سے شاہراہ پراب جان گنوانے اور زخمی ہو نے والوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار بھی اب زیادہ موجب ِ استعجاب و دلچسپی نہیں رہ گئے ہیں اور اسی وجہ سے اسے غیر سرکاری طور پر خونی شاہراہ کا نام بھی دیا گیا ہے لیکن تقریباً پورا سال ہی تواتر سے لگنے والے ٹریفک جاموں کے باعث جو نئے خطرات منڈلا نے لگے ہیں ، اس پہلو پر شاید ابھی تک زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔خصوصی طور پر گزشتہ دو ایک برسوں کے دوران صورتحال بد سے بد ترہوتی جارہی ہے اور ہر نیا دن شاہراہ پر سفر کر نے والوں کے لئے قیامت خیز جسمانی و ذہنی تکالیف و الم کے تجربات سے دو چار کر نے والا ثابت ہو رہا ہے۔ پہلے جہاں موسم سرما میں برفباری یا برسات کے دوران بارشوں کی وجہ سے ہی شاہراہ بند ہوا کرتی تھی یا کبھی کبھار جام لگ جاتے تھے وہاں اب کسی بھی موسم میں اور کسی بھی وقت شاہراہ کا بند ہونا یا طویل ٹریفک جام لگنا اب معمول بن چکا ہے، جس کے دوران روزانہ ہزاروں مسافروں کو لا متناہی اور جان لیوا مصائب سے گزرنا پڑتا ہے۔بے آ ب و گیاہ مقامات پر بزرگوں ، خواتین اور بچوں کو جب پورا پورا دن اور رات گاڑیوں میں گذارنی پڑتی ہے تو ان کی تکلیف کا احساس حاکمان ِ اعلیٰ نہیں کر سکتے جنہیں اول تو شاہراہ پر سفر کر نے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی اور کبھی محض تفنن طبع کے طور پر انہوں نے اس کا فیصلہ کر بھی لیا تو اس بات کا خصوصی اہتمام کیا جا تا ہے کہ ’’ صاحب ‘‘ کا سفر بہر صورت بلا رکاوٹ گزر جائے۔
مسلسل مسدودیت اور ٹریفک جام لگنے سے پورے ضلع رام بن کی آبادی بھی ایک طرح سے یرغمال بن چکی ہے اوربین تحصیل و بین قصباتی نقل و حمل بھی مکمل طور پر درہم برہم ہے جس کی وجہ سے نہ صرف سرکاری ملازمین ، طلبا اور عام لوگ متاثر ہو رہے ہیں بلکہ شدید قسم کے مریضوں کو ہسپتالوںتک پہنچانا محال ہو رہا ہے اور اگر خدا نخواستہ شاہراہ پر یا آس پاس کی رابطہ سڑکوں پر کوئی حادثہ پیش آجائے ، جس کا ان علاقوں میں ہمیشہ احتمال رہتا ہے ، تو صورتحال کیا ہو گی ، اس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔
 اگر چہ متعلقہ محکموں کے حکام ہر بار اس سنگین مسئلہ سے نمٹنے کے لئے تیر بہدف نسخے ایجاد کر نے کا عزم دہراتے ہیں لیکن ابھی تک کے تجربات یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ یہ کاغذی اعلانات اور اقدامات بھی محض زیبائشی قسم کے ہوتے ہیں جن کا حقیقی مرض سے دور دور تک کاواسطہ نہیں ہو تا ہے۔فی الوقت سرینگر جموںشاہراہ پر جو صورتحال پنپ رہی ہے، اس کی طرف اگر فوری طور توجہ نہ دی گئی تو اس میں مستقبل قریب میں کسی بڑے انسانی المیے کے تمام تر جزو بدرجہ اتم موجود ہیں، تاہم صرف زبانی اعلانات اور نیم دلی سے کئے گئے اقدامات اس سنگین مسئلہ کا حل ڈھونڈنے کے لئے ناکافی ہیں بلکہ کوئی مستقل اور مستحکم پالیسی بنانے کے لئے بنیادی وجوہات کی تلاش کر نا اور ان کا سدِ باب کرنا انتہائی لازمی بن چکا ہے۔ سب سے پہلے شاہراہ کے ان حصوں کی کشا دگی کی ضرورت ہے جو ٹریفک کے بڑھتے دبائو کی وجہ سے کافی تنگ ثابت ہو رہے ہیں ،نیز ان مقامات کی طرف خصوصی توجہ مرکوز کی جانی چاہئے جہاں پر عموماً پسیاں گر آتی ہیں۔ تان پھر ایک بار پھر وہیں ٹوٹتی ہے کہ اگر فرض شناسی کے ساتھ کام کیا جائے تو دنیا میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے اورامید یہی کی جاسکتی ہے کہ کم از کم اب ارباب حل وعقد گہری نیند سے بیدار ہوکرشاہراہ پر روزانہ سفر کرنے والے سینکڑوں گاڑیوں کے سواروںکے مسائل کی دادرسی کریں گے۔