جموں میں پی ڈی پی کے خلاف احتجاج | پارٹی دفتر کے باہر مظاہرہ ،پولیس سے جھگڑے کے بعد کارکنوں نے ترنگا لہرایا

تاریخ    26 اکتوبر 2020 (00 : 12 AM)   


سید امجد شاہ
جموں// سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے بیان پر گاندھی نگر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے۔تاہم پولیس کی طرف سے احتجاج کو ناکام بنا دیا گیا اور کسی کو بھی پی ڈی پی کے دفتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ۔نوجوانوں نے مختلف علاقوں سے موٹرسائیکل ریلی نکالی اور وہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے پارٹی دفتر کے باہر پہنچے۔اپنے ہاتھوں پر ترنگا تھامے مظاہرین پی ڈی پی دفتر کے باہر جمع ہوئے اور قومی پرچم لہرانے کی کوشش کی جس دوران پولیس نے انہیں روکا۔ مظاہرین نے متعدد کوششیں کیںمگر پولیس اہلکاروں نے انہیں اجازت نہیں دی۔مظاہرین کے ساتھ الجھنے والے ایک پولیس اہلکار کو یہ کہتے ہوئے سناجاسکتاہے ’’ہمیں قوم پرستی کا درس نہ دیں، ہم اسے جانتے ہیں دور رہیںاوراندر جانے کی کوشش نہ کریں‘‘۔کئی گھنٹوں کی دھکم پیل کے بعد مظاہرین کو وہاں سے چلے جانے پر مجبور کیاگیا تاہم، مظاہرین کا ایک اور گروپ پی ڈی پی دفتر کے باہر پہنچ گیا۔اس بار اے بی وی پی کارکنان ہاتھوں میں ترنگا پکڑے باہر پہنچے اورانہوں نے دفتر کے باہر پارک میں داخل ہوکر پی ڈی پی کے جھنڈے کو نیچے اتارکراس کی جگہ قومی پرچم لہرادیا۔جب پولیس مظاہرین کو پی ڈی پی پرچم ہٹانے سے روک رہی تھی تو مظاہرین میں سے ایک نے سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی تصویر پر رنگ پھینک دیا۔عینی شاہدین نے بتایا’انہوں نے محبوبہ مفتی کی تصویر پر رنگ پھینک دیا‘‘۔عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس ٹیم نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے مشتعل نوجوانوں کو باہر نکالا اور خاردار تاروں سے راستے کو بلاک کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ جب کچھ مظاہرین نے دوبارہ اندرداخل ہونے کی کوشش کی تو وہ پولیس نے انہیں واپس لوٹ جانے پر مجبور کیا۔تاہم کچھ نوجوانوں نے کسی طرح پی ڈی پی دفتر کے ساتھ دیوار پرقومی پرچم لہرائے۔ بعد میں وہ پر امن طریقے سے اس جگہ سے چلے گئے۔‘ایس ڈی پی او گاندھی نگر نے بتایا’’ہم نے کسی کو حراست میں نہیں لیا ہے، تاہم علاقے میں پولیس کے گشت میں اضافہ کیا گیا ہے‘‘۔وہیں پی ڈی پی کے ترجمان و سابق ایم ایل سی فردوس ٹاک نے کہا کہ یہ مایوسی اور سازش کا ایک حصہ ہے جس میں حکمران جماعت لوگوں کی توجہ کو حقیقی معاملات سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔فردوس ٹاک نے کہا کہ صرف ایک ہی چیز جو ملک بھر کے لوگوں کو پیش کی جارہی ہے وہ ہائپر نیشنلزم اور کشمیر کو دھکیلناہے۔ٹاک نے کہا’’یہ ایک مناسب موقعہ ہے کہ انتظامیہ ان شرپسند عناصر کا مقابلہ کرتے ہوئے منصفانہ کردار ادا کرے کیونکہ چند مہینوں کے دوران جموں اور اس کے گردونواح میں ہجومی  تشدد اور ہجومی حملے عام ہوگئے ہیں‘‘۔پی ڈی پی کے ایک اور رہنما پرویز وفا خان نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا’’24 اکتوبر کی شام ساڑھے 5بجے میں نے دفتر کے باہر کچھ شور سنا، میں یہ دیکھنے کے لئے باہر گیا اور دیکھا کہ لگ بھگ سات نوجوان وہاں جمع تھے اور ان میں سے ایک جارحانہ طور پر دیوار پر چڑھ گیا، تاہم پولیس اہلکاروں نے انہیں دھکیل دیا‘‘۔
 

تازہ ترین