تازہ ترین

پیپلز الائنس:پلیٹ فارم صحیح ،بیانیہ غلط | واحد ایجنڈا اتحاد کی بجائے کثیر المقصد سیاسی پلیٹ فارم زیادہ سودمند

محشرِ خیال

تاریخ    26 اکتوبر 2020 (00 : 12 AM)   


حسیب درابو
پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کے ذریعہ منظور کردہ قراردادجس صورت میں سامنے آئی ،اُس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ اس کے بالکل نہیں سوچا گیا تھا۔ کیا کچھ کہا جارہا ہے کہ پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ جموں ، کشمیر اور لداخ کے عوام کے حقوق کی بحالی کے لئے آئینی جنگ لڑے گی۔ کیا یہ پہلے سے نہیں ہو رہا ہے؟
 سپریم کورٹ میں متعدد درخواستیں موجود ہیں جن میں مختلف بنیادوں پر منسوخی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ 300 دنوں میں اس کیس کو سماعت کے لئے لسٹ بھی نہیں کیا ہے ، اس سے پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کو اندازہ ہونا چاہئے کہ آئینی جنگ کہاں جارہی ہے۔ یقینا یہ ایک آئینی جنگ ہے لیکن اسے سیاسی طور پر لڑنا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جوپیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کو متعلق بنائے گی۔
 مزید یہ کہ 5 اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن کی بحالی کے لئے کیا پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ اپنے دو اہم اکائیوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو کمزور نہیں کررہا ہے ؟ خصوصی حیثیت کے خاتمے کے موقع پر عمر عبداللہ نے زور دے کر کہاتھا کہ "اگر آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا گیا تو اس سے" ریاست کا ہندوستان کے ساتھ الحاق پر بھی سوالیہ لگ جائے گا "۔ اس کی توثیق مزید سخت لہجے میں محبوبہ مفتی نے بھی کی تھی۔
ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا کہ یہی قیادت انفرادی طور پر یاتو 1953 سے پہلے کی پوزیشن یا اس سے بھی زیادہ خود مختار سیاسی سپر ڈھانچے کی تلاش میں تھی۔ اب اجتماعی طور پر یہ اس پوزیشن کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں جو پہلے ہی بے اختیار کی جاچکی ہے۔پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کوئی کیا نتیجہ اخذ کرے جو بنایا تو مضبوطی کیلئے گیاہے لیکن لگتا انتہائی کمزور ہے؟۔ وا قعی یہ پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کے لیڈروں کیلئے کچھ سوالات پر غور وفکر کرنے کا مناسب موقعہ ہوسکتا ہے۔
اول ، آگے کا کوئی راستہ ماضی میں ہی پیوست کیوں ہونا چاہئے؟ دوسرے لفظوں میںحال اور مستقبل کے لئے حل کیوں جوں کی توں پوزیشن ہی ہمیشہ ہونی چاہئے؟ یقینا ، اسے ماضی سے متاثر اور آگاہ ہونا چاہئے۔ درحقیقت کسی بھی حل کی طرف کسی گروہ بندی یا سوچ کو ، جدوجہد اور ناکامیوں ،یہاںتک کہ کامیابیوں(اگر کوئی ملی ہو)سے سبق حاصل کرناچاہئے ۔
ایسا لگ رہا ہے کہ وہ یہ بھول چکے ہیں کہ ہر کوئی سیاسی سنگ میل چاہئے وہ 1952ہو یا1975 ،کو اگر سودابازی نہیں تو کم ازکم سمجھوتے کے طور ضرور دیکھاگیا ہے۔مزید برآں یہ تمام سنگ میل کسی سیاسی پس منظر یا اُس مخصوص وقت پر کئی مجبوریوں کا نتیجہ تھے۔
اس بات کو تسلیم کرنابھی ضروری ہے کہ مذاکرات کے یہ فریم ورکز اپنے وقت کے اضافی سامان سے لدے ہیں۔یہ تمام معاہدے یا مذاکرات اُس وقت دونوں طرف کے لیڈروں کے خدشات ، مجبوریوں اور یہاں تک کہ اعتقادات کے نتیجہ میں سامنے آئے تھے۔ نیز ایک مخصوص نظریاتی سیاق و سباق بھی تھا۔ کیا وہ نظریاتی سیاق و سباق اب بھی متعلق ہے؟ ایسادونوں طرف سے اب نظر نہیںآرہا ہے ۔پھر کیا پہلے سے طے شدہ مواقف کو حال کے تناظر میں زیادہ معنی خیز اور متعلق بنایا جاسکتا ہے؟
 اگر 1953 سے پہلے کا انتظام ایک قابل عمل سیاسی ماڈل ہوتا تو اس پر اتفاق رائے کے 18 مہینوں کے اندر یہ اپنے تضادات کے وزن تلے دب نہیں جاتا۔ یہ سچ ہے کہ یہ 1953 میں ایک سیاسی دھوکہ بازی تھی، لیکن اس انتظامات میں شامل نقائص کا انکشاف 14 مئی 1954 کو اس وقت ہوا جب سب سے پہلا اور انتہائی کمزور آئینی حکم نامہ جاری کیا گیا۔ آئین سازوں کی تخلیقی صلاحیتوں کا، جیسا کہ اگست 2019 میں ایک بار پھر دیکھا گیا تھا ، کا اندازہ نہیں لگایا گیا تھا۔ نہ تو ،اور نہ اب۔ اس پر دوبارہ غور کرنے کی یہ سب سے اہم وجہ ہے۔
 ابتداء میں قانون سازی کا رشتہ ہندوستانی قوانین کو براہ راست جموں و کشمیر پر لاگو ہونے سے روکنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ اس کے باوجود  پچھلے ستر برسوں میں ،خصوصی پوزیشن کی منسوخی سے پہلے ہی تمام قوانین میں توسیع کردی گئی تھی اور وہ سب یہاں نافذ العمل تھے۔ اور 2019 کے بعدان سب کو اب منسوخ اور یکساں کردیا گیا ہے۔ اس بیخ کنی اور اس کے بعد یکسر منسوخی کے بعد کیا منسوخی کا مطالبہ کرنا بجا ہے جس کا مطالبہ ہم 68برسوں سے بنا کسی فائدہ کے کررہے ہیں؟۔ یا یہ کہ خطہ کشمیر اور اس کے عوام کے لئے تحفظ کے نئے مضبوط نظام کی تجویز کرنا زیادہ معنی خیز ہے؟ ایسا نہیں ہے کہ اس میں سے کسی کا خاص مطلب اس انداز کے بعد ہوگا جس میں خصوصی درجہ منسوخ کیا گیا تھا۔
سوئم، 2019 کے بعدکیا لداخ سمیت جموں و کشمیر کے تصور پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے؟۔ اگرچہ اس کے بہت سے واضح اور واضح طور پر مختلف حصوں کی مشترکہ تاریخ ہے جوکہ اندوہناک،دردناک اور جداگانہ ہے تاہم ریاست کی جغرافیائی وسعت عالمی سیاسی مجبوری تھی۔ یہ تینوں خطے اتنے مختلف ہیں جتنے کہ ہوسکتے ہیں۔ جغرافیائی ، نسلی ، لسانی لحاظ سے ، یا مذہب اور معاشرتی ساخت کے لحاظ سے۔ کیا جموں و کشمیر کی سابق ریاست دو حصوں میں تقسیم کرنے کی منطق کو تین حصوں میں تقسیم کرنے تک بڑھایا نہیں جانا چاہئے؟ یہ ہر ایک کے لئے زندگی آسان بنائے گا۔ یہاں تک کہ یونین ٹریٹری کے طور پربھی۔ ایک دفعہ جب اس طرح کے معاملات کے بارے میں شفافیت اور وضاحت ہوتو پیپلز الائنس برائے گپکاراعلامیہ کو بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ نظریاتی ٹرپلٹس کا خوش امتزاج ہیں جو صرف قیادت کے ذریعہ جداہیں!
چلیں ایک اور سنجیدہ بات کریں۔جب قریب 200برسوں کے اجتماعی یا مجموعی سیاسی تجربے کے حامل سیاست دانوں کا ایک گروپ ایک سیاسی پلیٹ فارم پر آکرمحاسبہ کرکے ماضی کے بجائے اُس مستقبل پر بات کریںجووہ چاہتے ہیں ،کئی سارے امکانات پیدا ہوسکتے ہیںجن کے اگر قومی سطح پر نہیں تو مقامی سطح پر بہت سارے خریدار ہوسکتے ہیں۔
ابھی تک کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے ، سوائے ان کے جو کشمیر میں سرگرم ہیں، جو دفعہ 370 کی بحالی میں براہ راست دائو پر لگے ہوئے ہیں۔ جموں و کشمیر کو توڑنے کے عمل میںوفاق کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے۔ اس کو مناسب طور پر تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے ، اور اس کو بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ حقیقت میں مرکز اورریاست کا رشتہ 1980 کے بعد سب سے کمزور سطح پر ہے۔
ہندوستان میں جمہوری وسعت پذیری کی اچھی طرح سے قائم سیاست کو اب انتخابی خوشنودی کی حیثیت سے بدنام کردیا گیا ہے۔ اس سے ملک میں ذیلی قومی معاملات کی سیاسی انتظامیہ بدل گئی ہے۔ نئی حقیقت کو نہ صرف سمجھنے بلکہ پھر اس کے ساتھ لڑنے کی ضرورت ہے۔ "کثرت میں وحدت" کے نہرو یائی نعرے کے اب کچھ لوگ ہی خریدار رہے ہیں۔ گاندھیائی محاورہ "کثرت کو سراہنے اور قبول کرنے" کے بعد یہ اب اقلیتوں کو "تسلیم کرنے اور برداشت کرنے" کی حیثیت اختیار کر گیا ہے ،چاہئے وہ اقلیتیں مذہبی ، نظریاتی یا سیاسی ہوں۔
کمزور ترین شکل میں کشمیر کی خصوصی حیثیت سمونے کی علامت تھی۔ اس کا منسوخی انضمام کا دعویٰ ہے۔ اس کے اوپر یہ حقیقت ہے کہ ہندوستانی جمہوری نظام میں گذشتہ 70 سالوں سے کشمیر ایک پریشانی کی جگہ ہے جہاں جمہوری سیاست کوہمیشہ قومی سلامتی کے خلاف اچھالاجاتا ہے۔ اس طرح  جمہوریت کو متعدد مرتبہ قومی سلامتی کی قربان گاہ پر قربان کیا گیا ہے۔ اس ثنائی یا دوہرے پن کو مین سٹریم کو ایڈرس کرنا ہوگا۔
پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کوکم سے کم مشترکہ پروگرام پر مبنی ایک الائنس کی بجائے ایک سیاسی پلیٹ فارم کے طور کام کرنے کی ضرورت ہے جو نئے دور کے تقاضوںسے ہم آہنگ ایسا تنظیمی ڈھانچہ ہو جس میں وسیع باہمی تعامل ، اثر و رسوخ اور کنٹرول ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ بالکل ویسے ہی حالات میں وجود میں آیا ہے جیسے 1955میں محاذ رائے شماری وجود میں لائی گئی تھی اور وہ بھی واحد ایجنڈا پر مبنی پلیٹ فارم تھا۔ یہ دونوں آئینی آرڈر 1954 اور اسی طرح کے 2019 میں ایک اور حکم نامہ کے کم وبیش ایک سال بعد وجود میں آئے ہیں۔
 تاہم ، فرق یہ ہے کہ محاذرائے شماری کی سیاست کے برعکس، جسے خدمت اور قربانی کی سیاست سمجھا جاتا تھا ، پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کو ابھی تک اقتدار کی سیاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ اُس وقت یہاں تک کہ پاکستان نواز جماعتیں جیسے میر واعظ گروپ ، پولیٹیکل کانفرنس ، جماعت اسلامی اور دیگر نے محاذ رائے شماری میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس دفعہ جبکہ حریت اس الائنس سے باہر ہے ،معاملات کوئی بھی کروٹ لے سکتے ہیں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ حال کی تشکیل اس بات پرنہیں ہونی چاہئے کہ ماضی میں کیا تھا بلکہ ہم مستقبل میں کیا چاہتے ہیں۔ آگے کا راستہ ماضی میں نہیں ہے،مستقبل کے حوالے سے سرنو مذاکرات کرنا ہونگے۔ یہاں ، متنوع اور متضاد نظریات عمل میں آئیں گے۔ لیکن یہ اُس وقت تک بھی ٹھیک ہے جب تک کہ انہیں شعور ہو کہ وہ کسی قابل قبول مستقبل کی طرف کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیںنہ کہ صرف کسی تاریخی غلطی  کو درست کرنے کے لئے ماضی کو دوبارہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
 

تازہ ترین