تازہ ترین

ملازمین کی جبری سبکدوشی کے قانون پرسیاسی اورٹریڈ یونین رہنما برہم

بھیانک نتائج برآمد ہوں گے:کانگریس،سیاسی مقاصد پس پردہ:حکیم یاسین

تاریخ    25 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


سرینگر//سول سروس قواعد میں ترمیم کرکے ملازمین کو بائیس سال نوکری مکمل کرنے یااڑتالیس برس کا ہونے پر سبکدوش کئے جاسکنے کے سرکاری فیصلے کی سیاسی اور ٹریڈ یونین رہنمائوں نے شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی فوری منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے ملازمین کی سبکدوشی سے متعلق حکومت کے حالیہ فیصلے کی مذمت کی ۔پارٹی نے ملازمین کی سبکدوشی سے متعلق نئے ضابطوں کو ملازم کش قرار دیتے ہوئے ان کے بھیانک نتائج سے آگاہ کیا۔پارٹی کے جموں کشمیرصدر غلام احمد میر نے کہا کہ اس اقدام کے دوررس نتائج ظاہر ہوں گے اور اس کا مقصد جموں کشمیرکے ملازمین کو خوفزدہ کرنا ہے کو کسی طور برداشت نہیں کیاجائے گا۔میر نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد لوگوں میں نفسیاتی خوف پیدا کرنا ہے اورانہیں مختلف طریقوں سے ڈرانا ہے تاکہ لوگوں کو حقیقی آواز کو دبایا جائے ۔غلام احمد میرنے کہا کہ یہ نوٹیفیکیشن ملازمین میں عدم تحفظ پیدا کرے گااوریہ عیاں طور حکومت اور افسراں کے ہاتھوں چھوٹے ملازمین کو دبائے اور انہیں غیر یقینی میں رکھنے کاآلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے ملازمین کا استحصال بھی کیا جاسکتا ہے ۔پردیش کانگریس صدر نے پوچھا کہ اس کی کیا ضرورت تھی جبکہ یہا ں پہلے سے ہی ایسے قوانین اور ضابطے ہیں جن کی رو سے نااہل ملازمین کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ ملازمین کی قبل ازوقت سبکدوشی سے متعلق حکومت کی حالیہ نوٹیفیکیشن کے پس پردہ سیاسی مقاصد کارفرما ہونے کااظہار کرتے ہوئے پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے کہا کہ یہ ظالم قدم ملازمین کے بنیادی حقوق پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے ۔انہوں نے اس نوٹیفیکیشن کو فوری طور منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے ایسا متنازعہ حکم جاری کرنے کیلئے حکومت کا تمسخراُڑایا۔انہوں نے کہا کہ بائیس سال نوکری کرنے یا48برس کا ہونے پر ملازمین کو سبکدوش کئے جاسکنے کا فیصلہ ظالمانہ ہے اور ملازمین کے مفادات کے منافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ملازمین کیلئے ایک بڑا صدمہ ہے اور سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے اسے ملازمین کا استحصال کیلئے استعمال کیاجاسکتاہے اوران کی اظہار رائے کے حق کو رونداجاسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جموں کشمیرکے موجودہ سیاسی اوراقتصادی منظر نامے کو مدنظررکھتے ہوئے اس  فیصلے کے پیچھے مکمل طور سیاسی مقاصد کارفرما دکھائی دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سماجی اور سیاسی غیریقینی حالات میں عام لوگوں سمیت ملازمین پہلے ہی ذہنی دبائو کاشکار ہیں اوراس نئی نوٹیفیکیشن نے ملازمین اور ان کے اہل خانہ پر بجلیاں گرآئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن ملازم کے ذہنی تنائو کی ایک اور سبب بن چکی ہے ۔انہوں نے مزیدکہا کہ سمجھ نہیں آتا کہ حکومت جموں کشمیرکے لوگوں کوراحت کے بجائے ایذا پہنچانے کے درپے کیوں ہے ۔ انہوں نے اس نوٹیفیکیشن کی فوری منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے لیفٹینٹ گورنر اور مرکزی قیادت پرزوردیا کہ وہ جموں کشمیرکے امن پسند لوگوں کوایک یا دوسرے بہانے اشتعال دینے سے گریز کریں۔اپنی پارٹی نائب صدر عثمان مجید نے سول سروس قواعد میں یکطرفہ ترمیم کرنے کیلئے جموں وکشمیر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کے تحت سرکاری ملازمین کو 22سال یا پھر 48سال عمر پانے کے بعد جبری ریٹائر کرنے کی شق ڈالی گئی ہے۔ ایک بیان میں مجید نے کہاکہ ترمیم غیر معقول اور امتیازی ہے،نئے قواعد کے اطلاق نے سرکاری ملازمین میں بے چینی اور انتشار پیدا کردیا ہے جو ڈیموکلس کی تلوار کو اپنے سر پر لٹکتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کوئی شفاف طریقہ کار نہیں جس کے ذریعے حکومت یہ شناخت کرسکے کہ انتظامیہ میں کوئی نااہل یعنی ڈیڈووڈ ہے، خدشہ ہے کہ چند بیروکریٹس اس نئی ترمیم کا اپنے ماتحت افسران کے خلاف اپنی انا کی تسکین کے لئے غلط استعمال کریں گے۔ مجید نے کہاکہ نئے قواعد جو حکومت کو سرکاری ملازمین کو ناقص کارکردگی، بدسلوکی یابرے رویے پر قبل از وقت ریٹائر کرنے کا اختیار بہم کرتے ہیںجس پر حکومت کی طرف سے وضاحت کی ضرورت ہے۔ اپنی پارٹی نائب صدر نے کہاکہ یہ ترمیم حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین پر دباؤ قائم کرنے کا ایک حربہ ہے جن کی یونینز، ملازم مخالف پالیسیوں کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرتی رہتی ہیں۔ جموں وکشمیر کے ملازمین پہلے ہی کئی قسم کی مشکلات کا شکار ہیں، اُن کی کارکردگی کا جائزہ اچھی بات ہے، لیکن اِس کا منصفانہ اطلاق ہونا چاہئے۔ مجید نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی ہے کہ فیصلے پر نظرثانی کریں اور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ جبری ریٹائرمنٹ کے قواعد کا مقصد، ملازمین کے مفادات کو زک پہنچانانہیں ہونا چاہئے۔ بائیس برس نوکری مکمل کرنے کے بعد سرکاری ملازمین کو سبکدوش کئے جاسکنے کے حکومت کے فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ٹریڈ یونین رہنمااور نگواسکمزکے صدر اشتیا ق بیگ نے کہا کہ یہ سرکاری ملازمین کے ساتھ سراسرناانصافی ہے۔سی این آئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملازم رشوت خوری میں ملوث ہوگاتواس کیخلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے لیکن اس طرح کا ملازم کش فیصلہ ناقابل قبول ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ملازم کش فیصلوں سے سرکاری محکموں میں کام کررہے ملازمین ذہنی تنائو کاشکار ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کامقصد ملازمین کو دبائے رکھنا ہے اور غیر یقینی کی تلوارملازمین کے سرو ں پر لٹکتی رہے گی ۔انہوں نے انتظامیہ پرزوردیا کہ وہ اسطرح کے کسی بھی فیصلے پر عمل نہ کریں جس سے یہاں کے لوگ اورزیادہ ذہنی پریشانی میں مبتلاء ہوں گے۔