تازہ ترین

محبوبہ مفتی کے بیان کے خلاف جموں میں سیاسی جماعتوں کا احتجاج

تاریخ    25 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


جموں/یو این آئی/ پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ترنگا سے متعلق بیان کے خلاف ہفتے کو کئی سیاسی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔معلوم رہے کہ محبوبہ مفتی نے جمعہ کو طویل نظر بندی کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ’ میں تب تک کوئی جھنڈا نہیں اٹھاؤں گی جب تک نہ جموں وکشمیر کا جھنڈا واپس دیا جائے گا‘۔جموں وکشمیر کے بی جی پی یونٹ نے موصوفہ کے ان کلمات کو گستاخی سے تعبیر کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔محبوبہ مفتی کے اس بیان کے خلاف ہفتے کو کئی سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا اور محبوبہ مفتی کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی۔اس موقع پر ڈوگرہ فرنٹ کے صدر اشوک گپتا نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو چین یا پاکستان بھیج دیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا’’میں مودی جی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سرحد کو کھولے تاکہ محبوبہ مفتی کو چین یا پاکستان بھیج دیا جائے‘‘۔موصوف نے کہا کہ جب یہ لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں تو بھارت کے حق میں باتیں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا’’جب محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ تھیں تو انہیں مودی جی اچھے لگتے تھے اور جب ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو کوئی سمجھوتہ کرنا ہوتا ہے تو وہ ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں‘‘۔گپتا نے کہا کہ اب ملک میں ایک ودھان ایک نشان چلے گا کیونکہ اٹل بہاری واجپائی جی الگ تھے اور مودی جی الگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو یہ لوگ دفعہ 370 کی بحالی کی باتیں کرتے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ایک احتجاجی نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور دفعہ 370 اور 35 اے ماضی ہے وہ ختم ہوگیا ہے اور لوگ اس کو بھول گئے ہیں۔
 

تازہ ترین