تازہ ترین

مارکیٹ انٹرونشن سکیم| امسال 12لاکھ میٹرک ٹن میوہ خریدنے کا ہدف مقرر

۔ 5مقامات پر کلیکشن سینٹر قائم،قیمتوں کی تجاویز حکام کو پیش، رجسٹریشن آن لائن ہوگی

تاریخ    25 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //مرکز کی طرف سے مارکیٹ انٹر ونشن سکیم کو منظوری ملنے کے بعد محکمہ باغبانی نے سیب کی قیمتوں کی تجویز منظوری کیلئے حکام کو بھیج دی ہے۔ سکیم کو روبہ عمل لانے کیلئے بارہمولہ ، پارمپورہ ، شوپیاں ، کولگام اور اننت ناگ میں  5 کلیکشن سنٹر بھی قائم کئے گئے ہیں ۔محکمہ کے مطابق رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد سکیم کو باضابطہ طور پر عملایا جائے گا ۔معلوم رہے کہ جموں وکشمیر میں دوسری بار اس سکیم کو شروع کیا گیا ہے گزشتہ برس 5اگست کے بعد مرکزی سرکار نے لاک ڈائون کے دوران مارکیٹ انٹرونشن سکیم کو منظوری دے کر یہاں لاگوکی تھی اوراس سکیم کے تحت نیشنل ایگریکلچر کواپریٹو مارکٹنگ فیڈریشن آف انڈیا( نیفڈ ) نے میوہ اْگانے والوں سے 15 ہزار، 8 سو  18  سے زائد میٹرک ٹن سیب  70 کروڑ 52 لاکھ 40 ہزار روپے کی قیمت پر خریدے اور میوہ اْگانے والوں کو سیب کی قیمت ڈی بی ٹی موڈ کے ذریعے ان کے بینک کھاتوں میں جمع کرائی گئی۔اس سکیم کے تحت سرینگر 61.5 لاکھ روپے سے 8832سیب کے ڈبے خریدے گئے، جو 130.1میٹرک ٹن کیلئے تھے۔ سوپور سے اس سکیم کے تحت 135.3لاکھ روپے سے 298.2میٹرک ٹن سیب خریدے گئے تھے ۔محکمہ میں موجود ذرائع سے کشمیر عظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ سال کولگام سے 757.9لاکھ کا 1757.7میٹرک ٹن میوہ نیفڈ نے خریدا ۔اسی طرح شوپیان سے سکیم کے تحت 3027.1لاکھ روپے کا 6236.0میٹرک ٹن سیب خریدا گیا ۔
اننت ناگ سے 3070.6لاکھ روپے سے 7396.4میٹرک ٹن سیب خریدے گئے تھے ۔محکمہ باغبانی کا کہنا ہے کہ اس سکیم سے لوگوں کو کافی فائدہ پہنچا ہے ۔جموں وکشمیر کیلئے دوسری بار حال ہی میں مرکزی سرکار نے مارکیٹ انٹرونشن سکیم کے تحت موجودہ میوہ سیزن کے دوران12لاکھ ٹن سیب کی خریداری کو منظوری دی ہے اور حکومت نے’’ این اے ایف ای ڈی ‘‘کو 2500 کروڑ روپے کے ضمانتی فنڈ کا استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اگر کوئی نقصان ہوتا ہے ،تو مرکز اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ نصف رقم ادا کریں گے۔ مقامی انتظامیہ منڈیوں میں بنیادی سہولت مہیا کروائے گی اور خریداری کے نظام کی مسلسل نگرانی کرے گی۔تیاریوں کے حوالے سے محکمہ باغبانی کے ڈائریکٹر اعجاز احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 5جگہوں پر کلیکشن سنٹر قائم کر دیئے گئے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال بو ٹینگو اننت ناگ میں کلیکشن سنٹر قائم کیا گیا تھا ،اور اس سال جبلی پورہ  بجبہاڑہ میں قائم کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگلر شوپیاں میں نارمل منڈی کام کرے گی، تاہم ا ٓرہامہ شوپیان کی پُرانی منڈی میں نفیڈ کے تحت لوگ اپنا مال فروخت کر سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کولگام کی منڈی میں ہی کلیکشن سنٹر قائم کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ سوپور کانسپورہ میں منڈی کام کرے گی جبکہ بارہمولہ میں نفیڈ کیلئے الگ کلیکشن سنٹر قائم کیا جائے گا ۔ اسی طرح سرینگر کے پارمپورہ علاقے میں ایک الگ سنٹر قائم کیا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کی آن لائن رجسٹریشن کا عمل شروع ہو رہا ہے اور اس کیلئے ایک سافٹ وئیر دہلی میں تیار ہو رہا ہے جسکا کام اگلے 2روز میں مکمل ہو گا۔ انکا کہنا تھا کہ رجسٹرڈ کسانوں کو اس کے تحت ایک مسیج( پیغام) ملے گا کہ وہ کس دن اپنا مال بھیجنے کیلئے لاسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا بندوبست ضلع چیف ہاٹیکلچر افسر ، اے آر ٹی او ، منڈی کے زمہ داران اور نیفیڈ کی ٹیمیں مشترکہ طور کریں گی ۔انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کاعمل مکمل ہونے کے بعد اس سکیم کاباضابطہ طور پر لیفٹیننٹ گورنر افتتاح کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سکیم کے تحت ہر ایک اپنا میوہ بھیج سکتا ہے ،اس کیلئے کسی پر کوئی روک نہیں اور جتنے لوگ سامنے آئیں گے، اُتنا اچھا ہے ۔ معلوم رہے کہ کشمیر میں جموں وکشمیر کے کل 24.0لاکھ میٹرک ٹن پھلوں کی پیداوار میں سے 22.0لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ کی پیداوار ہوتی ہے اور 7لاکھ کنبے براہ راست اس شعبہ کے ساتھ جڑے ہیں ،جو کل آبادی کا 33فیصد حصہ ہے۔جبکہ باغبانی کا شعبہ جموں وکشمیر کی جی ڈی پی میں 8سے10فیصد تک کانمایا ںحصہ دار ہے۔محکمہ کے مطابق کشمیر وادی میں سیب کے باغات 150000 ایکٹر اراضی پر پھیلے ہوئے ہیں اور یہاں سے اس کی پیداوار 20 لاکھ میٹرک ٹن ہوتی ہے۔