تازہ ترین

وحشی سعید کے افسانوں کے ترجمے کی انگریزی کتاب

’’How That Abode Would Be‘‘ کی معنویت

تاریخ    25 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر ظہیر انصاری، ممبئی
ادبی رشتہ جب دائمی رشتے میں بدل جاتا ہےتو جو صورت پیدا ہوتی ہے اسے وحشی ـ۔ظہیر کے نام سے جانتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایسی باتیں جنہیں صیغۂ راز میں رکھنا ہوتی ہیں وہ بھی ایک دوسرے پر منکشف ہو جاتی ہیں۔وحشی سعید شدید خواہش رکھتے تھے کہ اُن کے چنندہ افسانے انگریزی میں منتقل ہوںتاکہ زیادہ سے زیادہ افراد تک اُن کے خیالات اور تجربات کی رسائی ممکن ہوسکے اور ممکن ہے کہ کچھ لوگ اِس کا اثر بھی لیں اور سبق بھی۔یہ الگ بحث ہے کہ افسانے سبق لینے کے لئے لکھے جاتے ہیں یا محض سیر و تفریح اور تفنن طبع کے لئے۔بہرکیف اُنہوں نے ایک دو ترجمے کروائے جس سے اُنہیں اطمینان نہیں ہوا۔اپنی دختر کو دکھایا ،وہ بھی مطمئن نہیں ہوئیں۔بیٹی نے کہا کہ لائیے!میں ترجمہ کرتی ہوں۔اُن کا ترجمہ کیا ہوا ایک پورا افسانہ میرے پاس ہے۔یہ ترجمہ ظاہر ہے کہ پہلے سےکافی بہتر تھا اور مناسب بھی۔پہلی بار یہ انکشاف ہوا کہ بی بی انگریزی کے ساتھ اردو بھی جانتی ہیں اور ان کی انگریزی اعلیٰ درجے کی ہے۔لیکن وہ پروفیشنل نہیں ہیں شاید اس لئے دلجمعی اور یکسوئی برتنے سے قاصر ہیں۔پتہ نہیں پھر آگے کیا ہوا لیکن اِس کا علم مجھے رہا کہ حضرتِ سعید ترجمے کی فراق میں ضرور ہیں۔دراصل جو کام ہاتھ میں لیتے ہیں اسے انجام تک پہنچانے میں حد درجہ یقین رکھتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ انگریزی کی یہ کتاب ہمارے سامنے ہے۔
اب جو اِ س کے مترجم کو پڑھتے ہیں تو سابقہ ساری چیزیں کمزورمحسوس ہوتی ہیںحتیٰ کہ اصل مصنف کی کاوشیں بھی۔ظاہر ہے کہ ہم نے یہ افسانے پہلے اُردو میں پڑھے ہیں اور محظوظ بھی ہوئے ہیں۔ دو  ایک پر لکھا بھی ہےلیکن یقین جانئے وہی افسانے انگریزی میں پڑھنے کے بعد ہم ایک الگ تجربے سے دو چار ہوئے ہیں۔یہ انگریزی سے تھوڑی بہت شُدبُد رکھنےکا شاخسانہ ہے اور یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر زبان کی اپنی ایک الگ شیرینی ہے۔خبر لگی ہے کہ وحشی سعید کی کہانیوں کا ایک ضخیم کشمیری ترجمہ بھی منظر عام پرآیا ہے جس کی بابت حضرتِ مصنف کا کہنا ہے کہ حالانکہ کشمیری میں بھی جانتا ہوں لیکن بولنے کی حد تک،اگرچہ رسمِ خط میں لکھنا بھی جانتا ہوں لیکن جس انداز میں اور با محاورہ ترجمہ کشمیری میں ہوا ہے ،ویسا میں نہیں کر سکتا۔اور تو اور میں کشمیری میں ایسے افسانے لکھ بھی نہیں سکتا۔اُن کا یہ کہنا ہے کہ لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ افسانے کشمیری زبان کے نہیں ہیں۔اُن کا مزید اعتراف کہ یہ اُردو سے بھی آگے پہنچ گئے ہیں تو مجھے یہاں بھی مترجم پر رشک آتا ہے۔راقم تو کشمیری سے سو فیصد نا بلد ہے،اِس کا فیصلہ تو آپ کشمیری قارئین ہی کر سکتے ہیںکہ وحشی سعید کے افسانے کشمیری میں کس مقام پر فائز کئے جا سکتے ہیں۔کاش!وحشی سعید کشمیری میں بھی لکھتے!
بہرکیف!ہم بات کر رہے تھے اُس ترجمے کی جو وحشی سعید کے اُردو افسانوں کو مشتاق برق نے انگریزی کے قالب میںڈھالا ہے۔یہ ڈھالنا وہی ہے جو ایک لوہار اشیا کو مختلف صورتوں میں ڈھالتا ہے بلکہ ڈھالنے پر قادر ہوتا ہے۔مشتاق برق ایک مشاّقDyerہیں۔یہاں بھی میری یہی خواہش ہے کہ کتاب کے سرِ ورق پر صرف مشتاق برق کا نام رہتا یا وحشی سعید کا۔اِس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ کہانیاں ،لگتا ہے کہ مشتاق برق نے لکھی ہیں یا اگر وحشی سعید صرف اپنا نام درج کرکے انگریزی کا کریڈٹ بھی لے سکتے تھے۔لیکن حقیقت یہ ہےکہ شعبوں کی تقسیم کے ساتھ ہُنر کی تقسیم بھی اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہے۔کوئی ایک میدان کا شہسوار ہےتو کوئی دوسرےمیدان کا اور یہ میلان ایک نقشِ دائمی چھوڑ جاتا ہے جس کا مشاہدہ ہم اِس ترجمہ شدہ افسانوں کو پڑھتے وقت کرتے ہیں۔جب یہ کتاب میرے پاس آئی تو Acknowledgement، Forewordاور Introductionکے بعد پہلے اور آخر کے دو افسانے بغیر کسی رکاوٹ کے پڑھ ڈالے۔میرے افرادِ خانہ نے بیشتر افسانے پڑھے اور محظوظ ہوئے۔یہ اِس ترجمے کی کامیابی ہے جس کو بچے بھی شوق سے پڑھنے لگ جائیں۔
میں نے تقریباسارے افسانے پڑھ ڈالے اور ایک طرح سے انگریزی میںآموختہ بھی کر لیا۔انگریزی کی جتنی شُد بُد ہے اُس حساب سے کوئی کمی یا جھول نظر نہیں آیا۔تسلسل ہمہ وقت قائم رہااور ایک بار کہانی پڑھنا جو شروع کی تو ختم کرکے ہی دم لیا۔بیشترکہانیاں چھوٹی ہیں لیکن اپنے اندر ایک معنویت لئے ہوئے ہیں۔کشمیر تو فوکس ہے ہی، ساتھ ہی نئے ہندوستان کے ساتھ دنیا باالخصوص امریکہ بھی کہانیوں میں سفر کر رہا ہے جس سے مصنف کی فکراور پریشانی عیاں ہے ۔ایودھیا شہر کو مرکزیت دیتے ہوئے جو ایک کہانی Innocence Personifiedعنوان کے تحت ہےاُس میں مترجم نے ایودھیا کو اجودھیا(Ajodhya) ترجمہ کیا ہے جو آنکھوں کو کھٹکتا بہت ہےکیوں کہ انگریزی میں ایسا لکھتے ہوئے دیکھا نہیں گیا ہے البتہ گذشتہ دنوں پریم چند کی ایک کہانی ’’بدنصیب ماں‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک کردار پنڈت اجودھیا ناتھ ہیں۔تب جا کر دل کو ذرا سکون ملا لیکن یہ طریقہ غالباـاردو کے لئے ہے۔ایودھیا والی کہانی میں دو فسادات ۱۹۹۲اور ۲۰۰۲کا ذکر ہے، ساتھ ہی ممبئی بم بلاسٹ اور امریکہ کے نائن الیون کا بھی بیان ہے۔مصنف نے جس خوبی سے اِن واقعات کواپنی کہانی میں پرویا ہے اور مترجم نے جس خوبی کے ساتھ ترجمہ کیا ہے کہ الفاظ جیتی جاگتی تصویرکا نمونہ بن گئے ہیں۔یہ کہانی بلا شبہ اپنا گلوبل اِمپیکٹ (Global Impact) رکھتی ہے جسے لوگ برسوں نہیں بھولیں گے۔اِس کے علاوہ بھی کئی کہانیاں ہیں جن پر تفصیلی بات ہو سکتی ہے لیکن ظاہر ہے کہ میں کوئی مضمون نہیں لکھ رہا ہوں ،یہ میرے فوری تاثرات ہیں ۔
ایک بات یہاں عرض کر دوں کہ ’’آگ کا دریا‘‘ کا ترجمہ قرۃ العین حیدر نے خود کیا تھا۔یہ سبھی جانتے ہیں کہ وہ انگریزی کی اعلیٰ درجے کی صحافی تھیں لیکن ترجمے کو وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جو ’’آگ کا دریا ‘‘ کو ہوئی تھی۔اسی طرح ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ کا ترجمہ خود شمس الرحمان فاروقی نے کیاہے۔یہ بھی سبھی جانتے ہیں کہ وہ پہلے ،انگریزی کے پروفیسر تھے لیکن یہاں بھی وہی ہوا جیسا ’’آگ کا دریا‘‘ کے ترجمے کے ساتھ ہوا۔ یہاں مجھے نہیں لگتا کہ وحشی سعید کے ترجمے کے ساتھ ایسا ہوگا وہ اس لئے کہ مشتاق برق جیسا مترجم وحشی سعید کو نصیب ہے۔ایسا نہیں ہے کہ وحشی سعید انگریزی نہیں جانتے لیکن ترجمہ ایک فن ہے اوروہ اِس سے واقف ہیں کہ ایک فنکار کو پوری آزادی دی جائے جبھی اُس کا فن نکھر کر باہر آتا ہے۔
اِس انگریزی ترجمے کے لئے میں مشتاق برق کو اپنے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اُن کا فن مزید بلندیاں سر کرے۔ساتھ ہی اس کے پبلشر Authors Press کو بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک ایسی کتاب منظر عام پر لائی جس سے اردو کےایک ادیب و افسانہ نگار کو بین الاقوامی حیثیت دلانے میں مدد مل سکتی ہے۔ساتھ ہی Sabia Tramboo  ، دُخترِ سعیدکی سعیٔ مبارک کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اُنہوں نے اِس ترجمے کے دوران اپنا تعاون پیش کیا اور ایک بہترین کتاب کا جواز بنیں۔وحشی سعید کو کس بات کی مبارک باد؟اُنہوں نے تو کچھ کیا ہی نہیں!البتہ جو زمین اُنہوں نے تیار کی ،اُس کے لئے اُنہیں مبارک باد پیش کیا جا تا ہے۔اللہ تعالیٰ اراکینِ نگینہ اور آپ تمام سامعین اور قارئین کو اپنے حفظ و امان میں رکھےتاکہ اُردو کی خدمت دامے ،درمے اورسخنے آپ کرتے رہیں۔اگرچہ یہ کتاب انگریزی کی ہے لیکن اِس کی بیج تو اُردو ہے۔ہمیں اِس کا اہتمام کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کتاب زیادہ سے زیادہ انگریزی حلقوں میں پہنچے۔ خدا حافظ۔