تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    23 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

عُشر کی رقوم کا صرفہ۔۔۔ شرعی احکامات پر نظر رکھنے کی ضرورت

سوال :آج پورے کشمیر میں فصل اور پھل کا عُشر ادا کیا جارہا ہے ۔عُشر وصول کرنے والے بھی مختلف نوع کی ضروریات کے پیش نظر وصول کرتے ہیں ۔کچھ علاقوں میں عُشر وصول کرنے والے عُشر کی رقوم اپنے اداروں کی تعمیر اور کچھ اپنے اداروں کے سٹاف کی تنخوا ہوں میں دیتے ہیں،یہ ادارے یتیم خانے ،بیت المال ،صبح و شام کے دینی مکتب اور کچھ چھوٹے موٹے مدرسہ والے بھی ہیں ۔ہمارے علاقے میںایک ادارہ تعمیر ہورہا ہے۔ ابھی نہ بچے ہیں نہ تعلیم ہے۔مگر عُشر لے کر رقم کمروں کی تعمیر میں خرچ ہورہی ہے ۔کیا ایسا کرنا درست ہے؟
محمد فاروق ۔شوپیان
جواب :عُشر کا حکم وہی ہے جو زکواۃ کا حکم ہے ۔اس لئے جیسے زکواۃ کی رقم نہ تو تعمیر میں خرچ ہوسکتی ہے نہ کسی کی تنخواہ میں۔ اسی طرح عُشر لے کر اُس کو فروخت کرکے اُس کی رقم تعمیر ،تنخواہ اور ادارے کی ضروریات مثلاً فرش ،کتابیں ،سٹیشنری ،فرنیچر وغیرہ پر خرچ کرنا درست نہیں ۔یہ شریعت کا واضح اور صاف حکم ہے۔
درحقیقت ادارہ کوئی بھی ہو ۔مدرسہ ،مکتب ،بیت المال ،یتیم خانہ ،خیراتی ہسپتال یا سکول ،ان ادارں کے منتظمین پر لازم ہے کہ آمدو خرچ کے متعلق اسلامی احکام کو اچھی طرح پہلے سیکھیں۔کسی مستند عالم یا مفتی سے اس سلسلے کے تمام مسائل معلوم کرلیں۔چندہ کرنے کے اسلامی آداب و ضوابط کی معرفت حاصل کریں ۔اپنے ادارے میں کن ضروریات پر کون کون سی رقم کس طرح خرچ کرنا شریعت کی رُو سے درست ہے ،اُس کے متعلق مفصل معلومات حاصل کریں اور اُس پر مکمل طور پر عمل پیرا ہونے کا عہد کرکے پھر چندہ کریں، چاہے وہ رمضان میں زکواۃ و صدقات کا چندہ ہو یا فصل ِ کٹائی کے وقت عُشر جمع کرنے کا معاملہ ہو ،یا قربانی کے ایام میں چرمِ قربانی جمع کرنے کا عمل ہو۔
قرآن کریم میں زکواۃ کے مصارف مقرر کردیئے ہیں ۔فقہا ء نے اس کی تفصیلات بیان کردی ہیں۔اُن میں یہ ہے؛زکواۃ ،صدقات واجبہ اور عُشر ،چاہے وہ فصلوں کا ہو یا پھلوں کا، اسی طرح چرم قربانی کی قیمت، یہ سب صرف غرباء و مساکین کا حق ہے اور اُن پر یہ اس طرح خرچ کرنا ہے کہ وہ مالک بن جائیں۔ پھر اس سے مستفید ہو یعنی تملیک ہو صرف اِباحت نہ ہو ۔اب اگر زکواۃ کی رقم یا عُشر کی رقم سے ادارے کی تعمیر کی گئی تو اگرچہ اس میںغریب بچے ہی پڑھیں یا اُس میں قیام کریں گے مگر وہ اس کے مالک نہیں بن پاتے۔اسی طرح اگر کسی ادارے کی ضروریات مثلاً فرش ،کتابیں ،رجسٹر ،میز،کرسی ،ڈیسک وغیرہ خریدے گئے تو کوئی غریب بچہ ان میں سے کسی بھی چیز کا مالک نہیں بنا۔اس لئے نہ زکواۃ ان مصارف میں خرچ کرنا درست ہے نہ عُشر۔لہٰذا زکواۃ و عُشر اگر مدرسہ یا مکتب والے وصول کریں تو اُن پر لازم ہے کہ وہ نہ تو تعمیر میں ،نہ مدرسہ یا مکتب والے تنخواہوں ،نہ ادارے کی ضروریات میں خرچ کریں ۔یہ صرف غریب طلباء کے کھانے، پینے،کپڑوں اور علاج معالجے میں خرچ کرسکتے ہیں۔
مدرسہ چلانا ،مکتب میں قرآن کریم اور اسلام کی بنیادی تعلیم دینا ،یتیم خانہ چلانا ،بیت المال قائم کرکے مستحقیقن کی مدد کرنا، خیراتی ادارے بناکر مفلوک الحال لوگوں کی خبر گیری کرنا ،یہ سب دینی کام ہیںمگر ان دینی کاموں کے انجام دینے میں خود دین کے احکام کی خلاف ورزی کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے۔اس لئے عُشر لینے سے پہلے یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ یہ کس مصرف میں خرچ کرنا ہے اور جس میں خرچ کرنے کا ارادہ ہے اُس میں شرعاً یہ درست بھی ہے یا نہیں۔اس معاملے میں عوام ذمہ دار نہیں بلکہ عُشر وصول کرنے والے ذمہ دار ہیں۔ہاں!  عوام کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عُشر وصول کرنے والوں کے متعلق معلومات حاصل کریں کہ وہ ہمارا عُشر لے کر کہاں کہاں خرچ کریں گے ۔ان معلومات کے بعد عُشر ادا کیا جائے۔
 

طلاق عورت کے قبول کرنے پر موقوف نہیں

عورت رشتہ برقراررکھنے پر آمادہ نہ ہو تو خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے 

سوال:۱- خاوند نے بیوی کو بیک وقت سہ طلاق بذریعہ ڈاک روانہ کی ہو لیکن بیوی بے خبر ہو ۔ تو کیا اس صورت میں طلاق جائز ہو گی اور یہ کہ مرد پر بیوی کے کیا حقوق لازم ہیں اور بچہ چار سال کا ہو تو وہ کس کے پاس رہے گا ۔والدہ  کے پاس یا والد کے پاس ؟
سوال :۲-اگرشادی کے کچھ عرصہ کے اندر اندر نوبیاہتا دُلہن کو سسرال والوں کی طرف سے جہیز وغیرہ کم لانے کی وجہ سے تنگ طلبی اور طعنہ زنی کا سامنا ہو اور جس سے دلہن کی صحت اور دماغی حالت انتہائی خراب ہوجائے اوروہ سسرال خود کو غیر محفوظ سمجھ کر اپنے میکے میں پناہ لینے کے لئے مجبور ہوجائے اور قریباً ایک دوسال سے دلہا یا سسرال والے اپنی بہو کو اپنے گھر لانے میں ناکام ہوئے ہوں اور یہ کہ معززین اور برادری والے اس فیصلہ پر متفق ہوگئے کہ واقعات کی روشنی میں اس شادی کو برقرار رکھنا نہ صرف دلہن پر صریح ظلم ہے بلکہ جانبین کی طرف سے جانی اور مالی خطرہ ہو اور یہ کہ دلہن اپنے سسرال یاشوہر کے پاس جانے کے لئے بالکل تیار نہ ہو اور اس شادی کو برقرار رکھنا اپنے لئے نہ صرف صریحاً ظلم قرار دیتی ہو اور اپنی زندگی کو شوہر یا سسرال والوں کی طرف سے خطرے میں جانتی ہو تو عرض ہے کہ اس صورت میں کیا عورت شوہر سے خُلع لے سکتی ہے۔یہ کہ شریعت کی رو سے اس بارے میں کیا حکم ہے ۔
سوال:۳-دلہن کی جو اپنی جائیداد یعنی زیورات ، کپڑے ودیگر سامان کس کی ملکیت ہوگی اور دلہا کس چیز کا حقدار ہے ۔
سوال:۴- جب تک بیوی اپنے میکے میں ہے اور اس کو طلاق نہیں ہوئی ہے  تو کیا بیوی تب تک نانِ نفقہ اپنے شوہر سے مانگ سکتی ہے ۔
عبدالاحد
جواب:۱-شوہرنے جب اپنی زوجہ کو تین طلاق تحریراً دے دیں تو وہ چاہے اس کو قبول کرے یا نہ کرے اور اُس کوطلاق کی اطلاع ہویا نہ ہو بہرصورت طلاق واقع ہوگئی ۔ ان کارشتہ آپس میںمنقطع ہوگیا ۔ اس لئے کہ شریعت اسلامیہ نے وقوع طلاق کو عورت کے باخبر ہونے یا قبول کرنے پر موقوف نہیں رکھاہے ۔اس لئے عورت اگر طلاق کو مسترد کردے مگر اُس کا رشتہ نکاح ختم ہوچکا ہوتاہے ۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیات، احادیث کی صراحت او رفقہائے اسلام کی تفصیلی بیانات سے یہی ثابت ہے
جواب:۲-زوجین میں اگر شقاق ہواورعورت کو اپنے شوہر سے ایسی شکایات ہوں کہ اب وہ رشتہ برقرار رکھنے پر کسی طرح بھی آمادہ نہیں ہے تو ظاہرہے کہ جبراً اس رشتہ کو باقی نہیں رکھا جاسکتا ۔ ایسی صورت حال میں زوجہ تو شوہر کو طلاق نہیں دے سکتی ۔ ہاں وہ خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے ۔چنانچہ احادیث میں اس سلسلے میںہے کہ حضرت ثابتؓ بن قیس کی زوجہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے شوہر کی شکایات کی اور رشتہ منقطع کرنے کی خواہش ظاہر کی تو حضرت رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم اُس کا دیا ہوا باغ (جومہر میں دیا تھا)واپس کرنے کو آمادہ ہو۔ اس خاتون نے عرض کیا کہ ہاں ۔ تو حضرت رسول اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت ؓ سے فرمایا کہ تم باغ واپس قبول کرو اور اس کو اُس کے عوض میں طلاق دے دو ۔ یہ واقعہ بخاری ،مسلم ، ترمذی ،ابودائود وغیرہ میں موجود ہے۔ 
اس حدیث کی بناء پر فقہائے اسلام نے یہ اصول مستبظ کیا کہ ظلم وزیادتی اور شقاق کی وجہ اگر شوہر کی طرف سے ہو تو اُسے طلاق کے عوض میں کوئی چیز لینا ہی جائز نہیں ہے ۔ اگر کوئی بھی چیز شوہر سے لی گئی تو یہ حکم قرآن کے خلاف ہوگاجب کہ سورہ النساء رکوع ۳ میں موجود ہے ۔ 
اور اگر نشوز ونافرمانی عورت کی طرف سے ہو تو پھر اس کے خلع کے مطالبہ کرنے کی صورت شوہر کے لئے جائز ہے کہ وہ مہر اور دیگر زیورات کے عوض طلاق دینے پر آمادہ ہو جائے جیساکہ اوپر کے واقعہ میں ہے ۔ چنانچہ بدائع الصنائع ، فتاویٰ عالمگیری، درمختار وغیرہ تمام کتابوں میں خلع کے بیان میں یہ اصول صراحتہً موجود ہے۔ 
مہر اور زیورات سے زائد شوہر کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ۔ خصوصاً کھانے پینے پر آنے والے خرچے کی قیمت طلب کرنا۔ اسی طرح بے جار سوم پر جو رقم خرچ ہوئی ہو اُس کا مطالبہ کرنا یا رشتہ ختم کرنے پر جُرمانہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ۔ خلاصہ یہ کہ عورت کا مطالبۂ خلع اگر مبنی برحق نہ ہو اور اس کے باوجود شوہر بادلِ ناخواستہ خلع پر تیار ہوتواُسے مہر وزیورات طلب کرنے کا حق و اختیار ہے۔
زیورات مہر اور دیگر اشیاء
جواب:۳-رشتہ برقرار ہوتو جوزیورات مہر اور دوسری اشیاء زوجہ کو دی گئی ہو اُن کا حق زوجہ کا ہی ہے ۔ چاہے زوجہ کو اس کے والدین اور اقارب نے دیئے ہوں یا شوہر اور اُس کے اعزاء  نے دیئے ہوں اور جو تحائف شوہر کو دیئے گئے وہ اُسی کے ملکیت ہوں گے ۔
نفقہ کامعاملہ 
جواب:۴- زوجہ اگر میکے میں رہے اور شوہر کے ساتھ یہ طے کرکے رہے کہ میرے میکے میں رہنے کا ایام نفقہ ادا کرنا ہوگا تو اس صورت میں میکے میں رہنے کے دوران نفقہ اُس کا حق ہے اور اگر لڑائی ونزاع کی بناء پر عورت کو نکال دیا گیا یا وہ فرار ہوکر گئی یا میکے میں پناہ لینے پر مجبور کی گئی تو اس صورت میں تحقیق حال کے بعد فیصلہ ہوگاکہ نفقہ لازم ہوسکتاہے یا نہیں ۔