رشوت ایک معاشرتی ناسور

نجات پانے کیلئے طرزِ عمل بدلنے کی ضرورت

تاریخ    23 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


امتیاز خان
عصر حاضر میں کسی کام کیلئے استحقاق صرف اْسی کا ہے جو کسی نہ کسی شکل میں رشوت دے۔ رشوت ایک مہلک معاشرتی ناسور ہے جو تمام بدعنوانیوں کی جڑ ہے۔اخلاقی انحطاط کے شکار معاشرہ میں رہتے ہوئے انسان کو قدم قدم پر رشوت ستانی اور بدعنوانی سے واسطہ پڑتا ہے۔جو لوگ رشوت نہ دیں انہیں اپنے کام حل کرانے میں اکثر پریشانیوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رشوت وہ چیز ہے جو کسی کو اپنا مطلب نکالنے کیلئے دی جاتی ہے۔ یہ رقوم و تحائف دینے کا وہ عمل ہے جو وصول کنندہ کے طرز عمل کو متاثر کرتا ہے۔یہ ایک ایسا معاوضہ ہے جو کسی کو خلاف قانون کارروائی کرنے کے صلے میں دیا جاتا ہے تاکہ وہ بد دیانتی سے کسی حقدار کو محروم کرکے رشوت دینے والے کو فائدہ پہنچائے ۔
زندگی کے مختلف شعبہ جات کے مشاہدات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ رشوت اور بد عنوانی کا زہر پورے معاشرے میں سرایت کرچکا ہے۔آج ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں رشوت نے اپنے پنجے گاڑھ لئے ہیں، جس کی وجہ سے باصلاحیت لوگ بہت پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ رشوت دینے والوں کو اولین ترجیح دی جاتی ہے اور نا اہل افراد کو اہم عہدوں پر فائز کردیا جاتا ہے۔رشوت یا کرپشن کی تاریخ بہت قدیم ہے، یہ آج کا مسئلہ نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس پر کبھی مکمل طور پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ اس وقت ترقی یافتہ اور ترقی پذیر تمام ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ بد عنوانی انصاف میں رکاوٹ اور معاشی ومعاشرتی ترقی میں وسْستی کی محرک ہے۔
رشوت کے جو بد ترین اثرات ونتائج مرتب ہوتے ہیں، ا ن میں سے یہ بھی ہے کہ اس سے کمزوروں پر ظلم ہوتا ہے، ان کے حقوق کو سلب کر دیا جاتا ہے یا محض رشوت کی کارستانی کی وجہ سے انہیں اپنے حق کے حاصل کرنے میں بہت تاخیر ہو جاتی ہے۔ اب یہ معاملہ محض نوٹوں کے سہارے ہی نہیں طے پاتا بلکہ کوئی ہدیہ یا تحفہ بھی اس کا قائم مقام ہو سکتا ہے۔ بالفاظ ِ دیگر رشوت بدعنوانی کی ایک ایسی قسم ہے، جس میں نقد یا تحفہ وغیرہ دے کر وصول کرنے والے کے طرزِ عمل میں بدلاؤ لایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد وصول کنندہ کے اعمال پر اثر انداز ہونا ہوتا ہے۔ کبھی یہ پیشکش دینے والوں کی طرف سے ہوتی ہے، کبھی لینے والے، اسے کمیشن یا ڈونیشن جیسے نام سے موسوم کرکے جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کی اصل حقیقت سب پر عیاں ہے۔آج کل جگہ جگہ اس کے خاتمہ کی باتیں تو کی جاتی ہیں لیکن ایسا کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا جاتا، جس کا فائدہ یقینی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور طب کے ادارے ، جو کہ خالص انسانی فلاح وبہبود کیلئے وجود میں آتے ہیں، وہ بھی بدعنوانیوں سے پاک نہیں۔ ایک معمولی اہلکار سے لے کر اونچے درجے کے افسران تک اِسے شِیر مادر سمجھے ہوئے ہیں، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جس کی جیب گرم ہو، وہ سینکڑوں جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود بڑی ڈھٹائی کے ساتھ دندناتا پھرتا ہے اورجس کی جیب خالی ہو، وہ سو فیصد معصوم اور برحق ہونے کے باوجود انصاف کیلئے ترستا ہے۔ یہ ناسور پوری طرح اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اور ہم اس کو نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کرچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج معاشرتی ابتری حد سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس ناسور نے ہمارے طرز زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے، اپنے جائز کا م نکالنے کیلئے بھی رشوت دینا پڑتی ہے۔ اس کلچر کے عام ہونے سے عوام عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہورہے ہیں۔ اس سماجی برائی میں جہاں سرکاری مشینری ذمہ دار ہے، وہاں عام آدمی بھی اس جرم میں برابر شریک ہیں۔ قدرت نے انسانوں کو بیش بہا وسائل سے نوازا ہے۔ اس کی صحیح تقسیم سے انسانوں کی ترقی ممکن ہے کسی بھی قسم کے استحصال سے بدعنوانی بڑھتی ہے۔ہمیں اپنے طرز عمل کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ اس لعنت سے محفوظ رہ کر اخلاقی اقدار کو فروغ دیا جاسکے۔
رشوت خوروں کے متعلق قرآن پاک میں کہا گیا ہے ’ ’یہ لوگ سْحت کھانے والے ہیں۔الماعدہ‘‘۔ سْحت کے لفظی معنی کسی چیز کو جڑ سے کھود کر برباد کرنے کے ہیں۔ مفسرین کے مطابق رشوت کو سْحت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف لینے دینے والوں کو برباد کرتی ہے، بلکہ پورے ملک وملت کی جڑ، بنیاد اورامن عامہ کو تباہ کرنے والی ہے۔ جس ملک یا محکمہ میں رشوت چل جائے، وہاں قانون معطل ہو کر رہ جاتا ہے اور قانونِ ملک ہی وہ چیز ہے، جس سے ملک وملت کا امن برقرار رکھا جاتا ہے، وہ معطل ہو گیا ، تو نہ کسی کی جان محفوظ رہتی ہے ، نہ آبرو، نہ مال۔بلاشک و شبہ جب گناہوں کا چلن عام ہو تو معاشرہ اختلاف وانتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ معاشرہ میں محبت کے رشتے منقطع ہو جاتے ہیں، بغض وعداوت اور نیکی کے کاموں میں عدم تعاون پیدا ہو جاتا ہے۔ معاشرہ پر رشوت کے بد ترین اثرات میں سے یہ بھی ہے کہ گھٹیا اور غلط سوچ عام ہو جاتی ہے، خوبیاں ختم ہو جاتی ہیںاور جب ایک دوسرے کی حق تلفی ہوتی ہے تو لوگ ایک دوسرے پر ظلم کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔
رشوت خوری سے پاک سماج وقت کی اہم ترین ضرورت ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ جدھر دیکھئے ہرطرف رشوت خوری کابازار گرم ہے۔آپ کاکوئی کام رشوت کے بغیرنہیں ہوسکتا۔رشوت خوری کی وبا اس قدرعام ہے کہ اس کی وجہ سے قانون چند ٹکوں کے بدلے بکتاہے ۔بے گناہ  مجرم اورقاتل ٹھہرتا ہے اورسرمایہ داراس رشوت کی طاقت سے بے گناہ اورپاکباز بن جاتاہے۔قاتل اورمنشیات فروش سماج کامعزز ممبرشمار ہوتاہے،اس پرکسی کوہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں ہوتی گویا رشوت دیکر آپ انسانوں کاخونِ ناحق بہاسکتے ہیں،ان کے مستقبل سے کھیل سکتے ہیں، انکی صلاحیتوں کو تباہ وبرباد کرسکتے ہیں،اسکے ذریعہ آپ قانون خرید سکتے ہیں،جھوٹے گواہوں کاانتظام کرسکتے ہیں،زمینوں اورمکانوں پرناجائز قبضہ کرسکتے ہیں،من گھڑت میڈیکل رپورٹس حاصل کرسکتے ہیں،امتحانات میں اعلیٰ نمبرات سے پاس ہوسکتے ہیں،سرکاری عہدے حاصل کرسکتے ہیں،پانی اوربجلی کے کنکشن لے سکتے ہیں،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کرسکتے ہیں۔
 کرپشن کے خاتمے کیلئے سب سے ضروری امر یہ ہے کہ تمام معاملات میں شفافیت کا اہتمام کیا جائے ، ہر سطح پر میرٹ ہی کو واحد معیار بنایا جائے اور محض پیشہ ورانہ قابلیت نہیں بلکہ کھرے کردار اور دیانت داری کو بھی میرٹ کی لازمی شرط قرار دیا جائے۔ نئی نسل کو کرپشن کے رجحانات سے محفوظ رکھنے کیلئے نظام تعلیم میں اخلاقی تربیت کے حوالے سے ضروری اصلاحات کی جائیں، میڈیا کو معاشرے میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے ۔
��������������
 

تازہ ترین