پیپلز الائنس برائے گُپکار اعلامیہ

درد کا درماں یا فریب کا ساماں؟

تاریخ    23 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


غازی سہیل خان
 دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر میں ہر طرح کا بدلائو نظر آ رہا ہے ۔وہ چاہے تجارت ہو یا سیاست ،تعلیم ہو یا زبان ،ہر چیز میں ایسی تبدیلیوں کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں ،جن کا کبھی یہاں کے سیاسی رہنمائوں نے گمان بھی نہیں کیا تھا ۔چند ماہ قبل تک ایسالگ رہا تھاکہ سیاسی کھلاڑیوں کے لیے اب یہاں سیاسی کھیل کھیلنے کا موقعہ مشکل ہی سے مل پائے گا۔ لیکن حالیہ کئی دنوں سے سیاسی گلیاروں میں دوبارہ گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔جموں کشمیر میں دفعہ کی منسوخی سے ٹھیک ایک دن قبل یعنی ۴؍ اگست 2019ء کو فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر سوائے بی جے پی ،باقی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370اور 35 ؍اے کو مکمل طور پر ختم کیا گیا یا ریاست کو تقسیم کرنے کی کوشش کوئی کی گئی تو اس کے خلاف متحدہ طور پر جدوجہد کی جائے گی ۔ابھی اس اعلامیہ کو کاغذی شکل ہی دی جا رہی تھی کہ مرکزی حکومت نے جموں کشمیر سے اس قانون کو اگلے ہی دن یعنی 5؍ اگست 2019ء کو منسوخ کر کے ریاست کو مرکز کے زیر انتظام اور اس اچھی بھلی ریاست کو دو پھاڑ کر دیا۔ ساتھ ہی ساتھ ان سارے سیاسی قائدین کو پس زندان کر دیا دیا گیا تاہم پھر مختلف مراحل میں ان سب کو ایک ایک کرکے رہا بھی کر دیا گیا۔ ان کی رہائی کے فوراً بعد گزشتہ ہفتہ ان ہی جماعتوں کا نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کی رہایش گاہ پر ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں پارلیمنٹ ممبر فاروق عبداللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’آج گپکار اعلامیے کے تعلق سے ایک اجلاس منعقد ہوا اور ہم نے اس اہم ترین قرارداد کو گپکار اعلامیہ برائے ــ’پیپلز الائنس‘کا نام دینے کا فیصلہ کیا۔یہاں کے لوگ دفعہ 370؍اور 35؍اے کی دوبارہ بحالی چاہتے ہیںاور خصوصی حیثیت کی بحالی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔‘‘
 اس ساری سیاسی ہلچل اور بیان بازی پر کشمیری عوام کا ملا جُلا ردعمل رہا ۔سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پربھی اس حوالے سے بحثیں دیکھنے کو ملیں ۔چند اس اعلامیہ کو کھیل تماشے سے تعبیر کر رہے ہیں اور چند اسی اعلامیے میں جموں کشمیر کی تقدیر کو چھپا ہوا دیکھ رہے ہیں تاہم جب ہم تاریخ کے اوراق کو سامنے رکھتے ہیں،ان ساری چیزروں کا تجزیہ کرتے ہیں ،تو ماضی کی طرح اس میں دھوکہ اور فریب ہی نظر آرہا ہے۔ ریاستی عوام نے 47ء ہی سے دیکھا کہ کس طرح ان ہی سیاسی جماعتوں کی دغا بازیوں کی وجہ سے کشمیر میں بے گناہوں کا خون بہتا رہاجوآج بھی برابر جاری ہے ۔ان ہی سیاسی قائدین نے کسی طرح سے قوم کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ی۔ہر بار الیکشن کے وقت مختلف قسم کے فریب زدہ نعروں سے قوم کے اجتماعی ضمیر کو سر راہ ذلیل کیا ۔اٹونامی ،سیلف رول اور 53ء سے پہلے والی پوزیشن کے جھوٹے اور پُر فریب نعروں کی وجہ سے ہی آج کشمیری قوم اس مصیبت میں گرفتار ہو گئی ہے۔ان ساری تاریخی حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لگ بھگ سارے کشمیریوں کو ان سیاسی لیڈروں کی باتیں پُر فریب ہی لگتی ہیں ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ لوگ واقعتاً قومی کاز کے لئے مخلص ہوتے تو آج ہمیں کشمیر کی یہ حالت نہیں دیکھنی پڑتی ۔یہ لوگ اس لُٹی پٹی قوم کے خیر خواہ کیسے ہو سکتے ہیں جن کی ساری زندگیاں اُن لوگوں کے خلاف اور اُن کو اذیت ناک مراحل سے گُزارنے میں گُزری ہوں ۔
اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ نہیں لگ رہا ہے کہ جیسے ان کا ماضی گُزرا ہے اُس کے مطابق یہ کوئی حاض تبدیلی لانے یا مرکز کو دبائو میں لانے کی پوزیشن میں ہیں ۔ہمیں ان لیڈروں کے آبا ء کی وہ تقریریں اور مرکزی لیڈروں کے ساتھ عوام کو بغیر کچھ بتائے ساز باز کو بھی نہیں بھولنا چاہے کہ جب مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے 14؍ جنوری 1949ء کو درگاہ حضرت بل کے اسٹیج پر کلمہ شہادت پڑھ کر خدا اور رسول ﷺ کو گواہ بنا کر قوم کی آزادی او رحق خود ارادیت پر قائم و دوائم رہنے کا وعد دہرایا، حاضرین سے اس عہد کی تائید و حمایت لینے کے لئے اُن سے سے ہاتھ کھڑے کرنے کا کہا گیااور خود اپنا دائیاں بازو کھڑا کر کے اجتماع سے فرمایا ’’ہم تب تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک قوم کو اس مصیبت سے نہیں نکالیں گے۔‘‘ لیکن ہم نے دیکھا کہ کس طرح اسی لیڈر نے قوم سے جھوٹے وعدے لے کے اُن کو ایک عظیم دھوکہ میں ڈال کر وقت وقت پر قوم و ملت کا سودا کیا۔
آج کشمیری قوم ایک بڑی مصیبت میں گرفتار ہو گئی ہے، یہاں کی تجارت،معیشت ،تعلیم ،زبان و تہذیب سب کچھ دائو پر لگ چُکا ہے لیکن کوئی بولنے اور سُننے والا نہیں، مرکز نے بھی دفعہ کو ہٹانے سے قبل اور بعد میں بڑے بڑے دعوے کئے تھے کہ کشمیر میں خوشحالی وغیرہ آئے گے لیکن ابھی تک کا مشاہدہ بتا رہا ہے کہ بس بد حالی ہی بد حالی نظر آرہی ہے ۔اسی بدحالی کو دور کرنے کے لئے یہ لیڈران دوبارہ اُٹھے ہیں ۔اسی حوالے سے ایک ماہر سیاست کا اس اعلامیے کے حوالے سے کہنا ہے کہ ’’گپکار اعلامیہ اصل میں اُن لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کا ایک آلہ ہے ۔وہیں دوسری طرف یہ نرم علیحدگی پسند ی کا کارڈ کھیلنے کی کوشش بھی ہوگی جس کے لئے ہند نواز سیاست دانوں نے پتے یہاں پہلے بھی پھینکے ہیں ۔ہمیں حالاں کہ اسے قطعی طور مسترد بھی نہیں کرنا چاہے کیوں کہ اس میں حق پسند لیڈروں کو بھی جگہ مل سکتی ہے جہاں پر کوئی سیاسی سرگرمی قائم ہو سکے ۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان پر کڑی تنقید بھی کرنی ہوگی کہ 1953ء سے پہلے والی پوزیشن ،آٹونامی ،سیلف رول اور قابل حصول وطنیت یا ان جیسے کھوکھلے نعروں کو چھوڑ کر وہ کس قدر اسفل السافلین کے دلدل میں پھینکے گئے ہیں۔‘‘ اسی حوالے سے ایک ریسرچ اسکالر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ــــ’’ہم اس بات کو اچھے سے محسوس کر رہے ہیں کہ مرکز نے آئین کی خصوصی دفعات کی منسوخی کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے جس کا احسا س مرکزی زعماء کو بھی ہے ۔ایک سال سے زائدعرصہ گُزر چُکا ہے لیکن زمینی صورتحال ویسی کی ویسی ہی ہے۔یہاں جس طرح کشمیر کی موجودہ صورتحال مرکز کے لئے سوہان روح بن چُکی ہے۔ لازمی بات ہے کہ مرکزی سرکاراس صورتحال سے خلاصی کے لئے safe exit ڈھونڈنے کی کوشش میں ہے،اور دوسری جانب وہ یہاں چاہتے ہیں کہ سیاسی سرگرمیاں بھی کسی حد تک بحال ہو جائیں ۔ آج کی تاریخ میں اگر گپکار اعلامیہ والے مرکزپردبائو میں ڈالنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو وہ ان کے مطالبات ماننے کے لئے مجبور بھی ہو سکتے ہیں اور مجموعی طور ہمیں اس سیاسی اتحاد کی حوصلہ افزائی کرنی چاہے ‘‘۔
 جیسا کہ ہم سبھی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان سارے سیاسی لیڈران نے کشمیری عوام کے جذبات و احساسات کا وقت وقت پر خون کیا ہے ۔معصوم نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے کے ذمہ دار بھی یہی ہیں ۔ان کے ہاتھ کشمیر کے لاکھوں نعشوں کے خون سے آج بھی رنگے ہوئے ہیں۔یہاں کے قبرستانوں کو آباد اور گھروں کو اُجاڑنے میں ان کا کلیدی رول رہا ہے ۔ان سارے گناہوں کے بعد بھی اگر آج یہ توبہ کر کے مخلصانہ انداز میں کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کام کرتے ہیں تو کسی حد تک شاید سود مند ثابت ہو ں۔تاہم تاریخ نے ہمیں ایسے مراحل سے پہلے بھی گُزارا ہے جہاں ان کی منافقانہ اور دو غلی پالسیوں نے کشمیر کاز کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ یہ محض علیحدگی پسندی کا کارڈ کھیل کر کشمیری عوام کو پھر سے بیوقوف بناکے اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونا چاہتے ہیں یا واقعتاً تاریخ سے سبق حاصل کر کے اس مسئلے کو کسی منطقی انجام تک پہنچا نے میں کوئی اہم رول ادا کرتے ہیں ؟ البتہ قوم سے وابستہ ایک بڑی تعداد جن میں ذی حس لوگ بھی شامل ہیں، کا سوچنا ہے کہ اگر فی الوقت یہاں کی سیاسی سرگرمیوں میں صحیح طور سے سدھار لایا جائے اور قوم کودوبارہ کسی دغابازی کا شکار نہ کرنے کا عہد کیا جائے تو بگڑی ہوئی اس صورت حال سے بھی نئی راہیں نکل سکتی ہیں۔
 

تازہ ترین