جموں میں گپکار اتحاد کاتوڑ نکالنے کی کوششیں | 20 سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں کا اجلاس

تاریخ    22 اکتوبر 2020 (11 : 12 AM)   


سید امجد شاہ
جموں//گپکار اعلامیہ کے خلاف جموںکی متعدد سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں نے ایک پلیٹ فارم پر آکر جموں خطے سے علیحدہ علیحدگی کا مطالبہ کیا ہے۔اگرچہ اس سلسلے میں منعقد ہوئے اجلاس میں کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت شامل نہیں ہوئی تاہم جموں وکشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی (جے کے این پی پی) کے چیئرمین ہرش دیو سنگھ نے کہا کہ اجلاس کے دوران تقریبا ً20 سیاسی اور سماجی تنظیموں نے ’جموں کاز کے بارے میں سینک کالونی سیشن‘ کے نام سے شرکت کی۔یہ اجلاس گپکار اعلامیہ یا گپکار الائنس کا مقابلہ کرنے کے جواب میں تھا ۔ہرش دیوسنگھ نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا’’ہمیں دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد ترقی اور ملازمت کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم اس کے بعد جموں کو کچھ نہیں ملا‘‘۔جے کے این پی پی چیئرمین نے کہا’’دہلی نے کشمیر اور لداخ سے بات کی ہے اور جموں کی کوئی غلطی نہ ہونے کے باوجواسے  مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘۔سنگھ نے کہا ’’ریاست جموں اسکا حتمی حل ہے، کب تک جموں کو کشمیر میں ہونے والی غلطیوں کی سزا دی جائے گی، یہاں 4 جی، ریاست، روزگار یا ترقی نہیں ہے، ہمیں کشمیر میں غلطیوں کی سزا کیوں دی جارہی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کسی بھی خطے کے خلاف نہیں ہے، کشمیر اور لداخ کو مناسب حصہ دیں لیکن یہ جموں کے خطہ کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے۔انہوں نے دعوی ٰکیا کہ ڈوگرہ صدر اسمبلی سبھا (ڈی ایس ایس)  چیئرمین گل چین سنگھ چاڑک، ایک جٹ کے چیئرمین انکور شرما، ریٹائرڈ جج وچیئرمین سینک سماج پارٹی کرنل ایس ایس پٹھانیہ، ریٹائرڈ ڈائریکٹر کالجز پروفیسر جئے کمارشرما،ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل (آئی جی) ریٹائرڈ سدھیر سنگھ، شیوسینا بالصاحب ٹھاکرے، بجرنگ دل، یونائیٹڈ ڈیموکریٹک الائنس (یو ڈی آئی) راجیو مہاجن، بٹوال کمیونٹی اور دیگران سمیت 20 سماجی اور سیاسی تنظیموں نے اجلاس میں حصہ لیا۔ اجلاس میںشریک ڈوگرہ صدر اسمبلی (ڈی ایس ایس) کے چیئرمین، گل چین سنگھ چاڑک نے کہا’’ہم نے جموں خطے کے مفادات کے تحفظ کے لئے موجودہ منظر نامے پر تبادلہ خیال کیا، مزید سیاسی جماعتوں کو شامل کرنے اور مشترکہ نظریہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا، ہم موجودہ صورتحال پر متفقہ فیصلہ لیں گے کیونکہ کوئی جموں کے لئے بات نہیں کررہا ہے‘‘۔چیئرمین آئی کے کے جٹ جموں انکور شرما نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا’’یہ ایک جٹ جموں کامطالبہ ہے کہ کشمیر کو دو مرکزی خطوں میں تقسیم کیا جانا چاہئے، یعنی مہاجرپنڈتوں کے لئے کشمیر کے اندر ایک UT اور باقی کشمیر کے لئے ایک اور UT‘‘۔ان کاکہناتھاکہ گپکار اعلامیہ کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ جموں کے ہم خیال لوگوں میں اتحاد چاہتے ہیں کہ وہ جموں کیلئے مکمل ریاست کے لئے تحریک چلائیں۔شرما نے کہا’’آج کی میٹنگ کا اہتمام ریاست کے حصول کے لئے کیا گیا تھا، شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ گپکار اعلامیہ ایک نظریاتی بیان ہے اور اس کا جموں سے ہی نظریاتی جواب ہونا چاہئے ،تب ہی ریاست کا حصول حاصل ہوسکتا ہے،ہم آئندہ اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے‘‘۔
 

تازہ ترین