سرنڈر نہیں کرینگے:این سی

تاریخ    22 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ یکجہتی کااظہار کیا ہے۔ نیشنل کانفرنس لیڈران نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ میں طلبی پر زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اختلافِ رائے کی کسی بھی آواز کو ختم کرنے کی مرکزی حکومت کی پالیسی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔نیشنل کانفرنس کا ایک ہنگامی اجلاس جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر منعقد ہوا جس میں پارٹی کے چوٹی کے لیڈران شامل تھے۔ اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے ڈاکٹر فاروق کے ساتھ یکجہتی کااظہار کیا گیا۔قرارداد میں محض3دن میں ڈاکٹر فاروق کی دوسری بار طلبی کو سیاسی انتقام گیری پر مبنی منصوبہ بند اقدام قرار دیتے ہوئے کہا  گیاکہ ایسے حربے جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو توڑنے کی مذموم کوشش ہے۔ انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں طلبی کو دھونس و دبائو کا حربہ قرار دیتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ گذشتہ روز 83سالہ رکن پارلیمان سے 6گھنٹے تک پوچھ تاچھ کے بعد ای ڈی کو ایسا کیا پوچھنا باقی رہ گیا تھا کہ ایک روز بعد دوبارہ سمن بھیجا گیا‘‘۔ حکومت اور اس کی ایجنسیوں کو قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ، جو مختلف امراض میں مبتلا ہے اور جس کی قوت مدافعت انتہائی کمزور ہے، کی صحت کا پاس و لحاظ نہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کیساتھ روا رکھا گیا سلوک اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی کو اپنی ساکھ بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ یہ لوگ اس بات میں راحت محسوس کرتے ہیں کہ قوم انہیں غنڈہ گردوں کے طور دیکھے۔این سی ترجمان نے کہا کہ بی جے پی حزب اختلاف پر دھونس جمانے کیلئے کب تک سی بی آئی ، ای ڈی ، اینٹی کرپشن بیورو اور اس کی دیگر ایجنسیوں کا استعمال کرے گی؟اب یہ معمول کی بات ہوگئی ہے ،جو کوئی بھی حکومت کیخلاف بولتا ہے اور بھاجپا کی تقسیمی سیاست کیخلاف آواز اُٹھانے کی جرأت کرتا ہے اُس کی مختلف ایجنسیوں میں طلبی شروع ہوجاتی ہے۔قرار داد میں کہا گیا کہ اس طرح کی کارروائیاںجموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کی بحالی کیلئے ہماری جدوجہد میں حائل نہیں آسکتیں۔

 

تازہ ترین