بیگناہوں کو مت چھونا،مجرموں کو نہ بخشنا

پولیس یاد گاری دن پر لیفٹیننٹ گورنر کا پولیس کو پیغام

تاریخ    22 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی

بنیاد پرستی کیخلاف جامع اصلاحات کی ضرورت، سوشل میڈیا پر نظر رکھی جائے

 
سرینگر//جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوںکو مذہبی بنیاد پسندی سے دور رکھنے کیلئے’جامع اصلاحات‘کی وکالت کرتے ہوئے سیکورٹی فورسزکوہدایت دی کہ وہ معصوموں کونہ چھونا اور مجرموں کونہ چھوڑنا‘ کے طریقہ کار کو اپنائیں۔انہوں نے سیکورٹی فورسز سے یہ بھی کہا کہ وہ سوشل میڈیا کی ہمہ وقت نگرانی کرے۔ منوج سنہا نے زیون میں پولیس یادگاری دن کے موقع پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو جموں وکشمیر میں عوامی تعاون کو مزید مستحکم کرنا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ بنیاد پرستی سے نمٹنے کیلئے جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو دشمنوں کے غلط استعمال سے روکنے کیلئے چوبیس گھنٹے نگرانی کی جانی چاہئے۔ منوج سنہا نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بنیاد پرستی سے نمٹنے کے لئے کوئی طریقہ کار موجود ہے اور اس کیلئے مزید کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ نوجوانوں کو غلط راستے پر گامزن ہونے سے بچایا جاسکے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ پولیس فورس نے’’ ہمسایوں کی سرپرستی میں جنگجویت‘‘ سے موثر انداز میں نمٹا ہے۔ان کا کہنا تھا’’ پولیس جنگجویت سے نمٹنے کیلئے اہم کردار ادا کررہی ہے،اور جموں و کشمیر میں ، ہر اسکول ، ادارہ  اس سے باخبر ہونا چاہے کہ پولیس کون سا کردار ادا کر رہی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا لوگوں کو اب یہ سوچنا چاہئے کہ اگر وہ سوتے ہیں تو اس کی وجہ پولیس ہے، جو راتوںکو سڑکوں پر جاگتے رہتے ہیں۔انہوں نے امن و امان کے چیلنجوں سے موثر انداز میں نمٹنے پر پولیس کی تعریف کی۔ منوج سنہا کا کہنا تھا’’مجھے خوشی ہے کہ2سالوں میں ، جموں و کشمیر کے 684پولیس اہلکاروں کوتمغوںسے نوازا گیا ہے۔انہوں نے کہا ’’ جہاں تک انتظامیہ کی طرف سے جموں و کشمیر پولیس کی مدد کی ضرورت ہے ، میں ان کو مکمل مدد کا یقین دلاتا ہوں‘‘۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا ’پولیس کی جانب سے بے گناہوں کو چھیڑو نہیں مگر خطاکاروں کو چھوڑو نہیں‘ کا واضح پیغام جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ اس بات کے وعدہ بند ہیں کہ اْن پولیس اہلکاروں کے گھرانوں کے مسائل حل کریں گے، جنہوں نے فرائض انجام دیتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں۔انہوں نے کہا ’ملک میں آئین اور قانون ہے ،اداروں کو کام کرنے کی آزادی حاصل ہے ،مجھے اس کے سوا کچھ نہیں کہنے کی ضرورت نہیں ‘۔

تازہ ترین