تازہ ترین

کووڈ 19اور عوامی لاپرواہی

دوسری تباہ کن لہر کا مؤجب بننے سے بچیں!

تاریخ    22 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


 وزیراعظم نریندر مودی نے عوام سے کووڈ۔19رہنما ضوابط پر عمل پیرا رہنے کی پُر زور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپر واہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ وائرس ہمارے درمیان ابھی بھی موجود ہے اور ذرا سی لاپرواہی تہواروں کے سیزن پر بھاری پڑسکتی ہے۔کورونا وائرس کے پھیلائو سے اب تک قوم کے نام اپنے ساتویں خطاب میں امریکہ اور کئی یورپی ممالک کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہاںکافی حد تک کمی آنے کے بعد کورونا معاملات میں اچانک اچھال دیکھنے کو مل رہا ہے جو باعث تشویش ہے اور اس لئے ملکی شہریوں کو کورونا کا موثر علاج ملنے تک کسی بھی طور لاپرواہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
 وزیراعظم مودی دراصل اُس عوامی لاپرواہی کی جانب اشارہ کررہے تھے جس کا مظاہرہ آج کل پورے ملک میں عوامی سطح پر کیاجارہا ہے ۔فیس ماسکوں کا استعمال تقریباً ختم ہوچکا ہے ،جسمانی دوریوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھاجارہا ہے اور سڑکوں و بازاروں سے لیکر کاروباری و تجارتی مراکز ،ٹرانسپورٹ اور دفاتر غرض ہر جگہ بھیڑ بھاڑ پھر دیکھنے کو مل رہی ہے جو کوئی اچھی علامت قرار نہیں دی جاسکتی ہے کیونکہ کورونا انسانی سماج میں کافی گہرائی تک سرایت کرچکا ہے اور یہ لاپرواہی ا سکو پھر سر ابھارنے کا موقعہ فراہم کرسکتی ہے ۔
وزیراعظم مودی یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ لاک ڈائون اگر چہ ختم ہوچکا ہے تاہم وائرس ختم نہیںہوا ہے۔ بلا شبہ معاشی سرگرمیاں پھر زور پکڑ نے لگی ہیں اور معمولات زندگی کافی حد تک بحال ہوچکے ہیں تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم لاپرواہ بنیں اور اپنے اور اہل خانہ کے علاوہ عام لوگوں کیلئے مصیبت کا باعث بنیں۔ 
 جہاں تک جموںوکشمیر کاتعلق ہے تو یہاں بھی ملک سے حالات کچھ مختلف نہیں ہیں۔گوکہ یہاں بھی کورونا معاملات میں بتدریج کمی آرہی ہے تاہم عوامی رویہ مایوس کن ہی ہے اورلوگ شاید یہ سمجھ کر بیٹھے ہیں کہ کورونا جا چکا ہے اور اب گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن لوگ شاید یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کورونا بالکل ہمارے بیچ ہی موجود ہے اور آنے والے سردی کے ایام ہمارے لئے انتہائی کٹھن ہوسکتے ہیں۔کل ہی ڈاکٹرس ایسو سی ایشن کشمیر کے سربراہ اور معروف انفلیونزا ماہر ڈاکٹر نثار الحسن نے ایک تفصیلی بیان میں لوگوں کو لاپرواہی کے تباہ کن نتائج سے خبر دار کیاتھا۔ڈاکٹر نثار کا کہناتھا کہ وادیٗ کشمیر میں کوروناوائرس کے معاملات میں کمی کے نتیجے میں لوگوں میں پیدا ہوئی خوش فہمی سے کووڈ۔19کی دوسری لہر پیدا ہوسکتی ہے جوکہ موجودہ لہرسے کئی گنا بھیانک ہوسکتی ہے۔ لوگ اب بے پرواہ ہوچکے ہیں جو خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ لوگ بے فکری کے عالم میں اب ماسک کا بھی استعمال کرنا ضروری نہیں سمجھتے، زیادہ تر لوگ اب بغیر ماسک کے ہی گھومتے پھرتے رہتے ہیں جبکہ سماجی دوری کا کہیں نام و نشان تک نہیںہے۔ اُن کے بقول ہم ابھی تک وائرس کے چنگل سے آزاد نہیں ہوئے ہیں اور اس وقت ایسے خطرناک بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں جو کبھی بھی پھٹ سکتا ہے۔اُن کا ماننا ہے کہ مثبت معاملات میں کمی کا سبب ریپڈ انٹی جن ٹیسٹ کٹوں کا نتیجہ ہے جو صحیح نتائج نہیں دکھاتے اور قریب قریب 50فیصدمثبت کیسوں کو منفی دکھاتا ہے۔ڈاکٹر نثار چونکہ انفلیونزا ماہر ہیں،اُن کے مشاہدات کو سرسری نہیں لیاجاسکتا ۔انہوںنے موجودہ صورتحال کا جو نقشہ کھینچا ہے ،وہ حقائق سے بالکل میل کھاتا ہے اور انہوںنے سماج کو آئینہ دکھانے کی کوشش ہے تاہم سماج ہے کہ آئینہ دیکھنے کو تیار نظر نہیں آرہا ہے ۔
طبی ماہرین اور وزیراعظم کی باتوں میں یکسانیت نظر آرہی ہے اور دونوں کا مؤقف کم وبیش یکساں ہی ہے۔بلاشبہ ہم ایک انتہائی خطرناک مرحلہ سے گزر رہے ہیں۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ کل تک ہمارے پڑوس میںپاکستان میں کورونا تقریباً ختم ہوچکا تھا لیکن آج وہاں کورونا بھیانک روپ میں دوبارہ سر ابھار چکا ہے اور اس کی وجہ بھی اُن وجوہات سے قطعی مختلف نہیں ہے جن کا سامنا فی الوقت ہمارے ملک میں ہے۔جس لاپر واہی اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہم آج یہاں کررہے ہیں ،کل تک پاکستان میں بھی اسی لاپر واہی کا مظاہرہ ہوتا تھا اور اب نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔یورپ اور امریکہ بھی عوام کورونا معاملات میں کمی کو دیکھ کر قدرے لاپر واہ ہوچکے تھے اور اب وہاںبھی کورونا کی دوسری لہر شروع ہوچکی ہے ۔یہ صورتحال ہمارے لئے باعث عبرت ہے اور ہمیں فوری طور سنبھلنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر اس مرحلہ پر ہم نہیں سنبھلیں گے تو آنے والا وقت انتہائی تباہ کن ہوسکتا ہے ۔ہمیں قطعی یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ سرماکی سردی اس وائرس کی افزائش کیلئے موافق ہے اور اس سرد ی میںیہ وائرس طوفان کی تیزی کے ساتھ منتقل ہوسکتا ہے ،اس لئے ہمیں اُس حالت تک پہنچنے سے قبل ہی سنبھل جانا چاہئے تاکہ ہم اس آدم خود وائرس کا تر نوالہ نہ بن سکیں۔ 

تازہ ترین