تازہ ترین

والدین اور شاگرد نجی تعلیمی ٹکسالوں کے یر غمال

حیراں ہوں کہ دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

تاریخ    21 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


رشید پروین ؔ
۱۵گست ۲۰۱۹ سے کشمیر اب تک پہلے تو سیاسی لحاظ اور اس کے چند ماہ بعد کوؤڈ کی مار مسلسل سہہ رہا ہے  اور اس میں ابھی تک کوئی اور کسی طرح کی کمی نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ لوگ موت و حیات سے بے نیاز ہوچکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ بھی ایک طرح کا ٹروما ہی ہے۔مجموعی طور پر تمام نجی تعلیمی ادارے بھی پچھلے چودہ مہینوں سے بند ہیں ، کہیں بھی کسی قسم کا تعلیمی و تدریسی عمل ہونے کا ابھی کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اس بیچ پچھلے ایک دو مہینوں سے نجی اداروں نے والدین کے لئے احکامات جاری کئے کہ ہم اب آن لائن کلاسوں کا اہتمام کر رہے ہیں ، اس کے باوجود کہ کشمیر میں فور جی پر پابندی عائد ہے اور براڈ بینڈ کا ٹو جی خراماں خراماں اپنی مرضی اور منشا پر کبھی چلتا  ہے تو کبھی نہیں ۔ ایک سیدھا سا سوال ہے کہ کیا ہر طالب علم کے گھر میں یہ ٹو جی ہے ؟ زمینی سطح پر یہ طریق کا ر ہماری جیسی سر زمین کے لئے ناممکن ہے اور اس کی مثال بالکل یہی ہے کہ آپ کسی ایسے علاقے میں ای بینکنگ کے احکامات صادر کریں جہاں لوگ نیٹ سے آشنا ہی نہ ہوں ،نجی تعلیمی ٹکسالوں کا یہ بھی ایک چونچلہ ہی مانا جاسکتا ہے ۔
 اس مدت کے دوران جب ساری دنیا کوؤڈ کی مار سہہ رہی ہے ، جب لوگ کوؤڈ کے خطرات اور خوف و ڈر کی وجہ سے گھروں میں قید تنہائی جھیلنے پر مجبور ہیں ، جب کہ یہاں کوؤڈ کی تشریف آوری سے بہت پہلے ہی’’ سیاسی کوؤڈ‘‘ کی شروعات ہوچکی تھی اور لاک ڈائون اور قید و بند کی صعوبتیں مسلط رہی ہیں ۔ نارمل معاشرتی زندگی تہس نہس اور بکھر کر رہ گئی ہے ، عملی طور پر لوگ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں ،لاشیں عملی طور پر کفن دفن کی محتاج ہیں ، لوگ اپنے سگے رشتے داروں یہاں تک کہ باپ بیٹے سے اور بیٹا ماں سے دوری بنائے ہوئے ، ساری دنیا اپنے عوام کی سہولیات اور ان کی مالی امداد میں مصروف عمل ہے اور بھارت نے بھی بے شمار طرح کی سکیمیں اپنے عوام کی امداد کے لئے لانچ کی ہیں جن کا مقصد ہی یہ ہے کہ عوام جو نان شبینہ کے محتاج ہوتے جارہے ہیں ان کا کچھ مداوا ہوسکے۔ انہی لرزہ خیزیوں اور ہیبت ناکیوں کے بیچ ہمارے ارباب اقتدار نے والدین کیلئے احکامات جاری کئے کہ نجی تعلیمی اداروں کو فیس ادا کی جائے یعنی لازمی طور پر فیس ادا کرنا ہوگی اور ٹرانسپورٹ چارجز کے بارے میں یہی حکم تھا کہ نجی ادارے اس کا فیصلہ خود کریں گے۔ اس مار کے اندر جب ڈر ، خوف ، اور انسانی زندگیوں کے بارے میں ابھی کوئی یقینی بات نہیں تھی اور نہ ابھی ہے ، فیس کی ادائیگی کا حکم ہی اپنی جگہ پر ناقابل فہم تھا کیونکہ اگر یہ حکم نامہ تعلیمی ا دارے کھلنے کے بعد آجاتا تو قابل فہم بھی تھا۔ اتنی جلدی ان احکامات کی کیا وجہ تھی، یہ ایک معمہ ہے۔ دوسری بات جو نجی اداروں کو ٹرانسپورٹ چارجز کے بارے میں ’’حَکم ‘‘کا منصب سونپا گیا تھا ، ظاہر سی بات ہے کہ نجی ادارے ان چارجز کو کیوں چھوڈیں ؟مقدمہ بھی آپ کا ، وکیل بھی آپ اور منصف بھی آپ ۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نجی اداروں کا ٹرانسپورٹ بھی بند رہا ، اور سکول تو بند تھے ہی جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ انہیں اساتذہ کی تنخواہوں اور اپنی گاڑیوں کے سٹاف کے علاوہ اور کوئی اور کسی طرح کا خرچہ اس عرصے میں نہیں رہا ، اور بہت سارے اعداد و شمار جمع کرنے کے بعد کوئی بھی اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ بڑے نجی تعلیمی اداروں کے ماہوار اخراجات، آمدنی کا پندرہ سے بیس فیصد ہی بیٹھتا ہے اور چھوٹے نجی اداروں کا شاید کچھ پرسنٹ زیادہ ہو، جن کا رول ہزار دو ہزار سے زیادہ نہیں ۔ ان احکامات کے صادر ہوتے ہی فیس کاتقاضا زور پکڑنے لگا ،اور ساتھ ہی ٹیوشن فیس کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ چارجز کے تقاضے بھی شدومد سے ہونے لگے ۔
 کچھ ہفتے پہلے ہی ارباب اقتدار کی طرف سے ایک اور حکمنانہ اخبارات کی زینت بن گیا جس میں تیس پرسنٹ فیس معاف کرنے کے احکامات تھے ، لیکن جہاں تک ہزاروں والدین کا تعلق ہے، یہی بات ہر نجی تعلیمی ٹکسال سے آرہی ہے کہ یہ آرڈر ہمارے پاس نہیں پہنچا ہے ، فیس کی ادائیگی کا آرڈر صرف چند لمحات کے اندر ہی نجی اداروں کی طرف سج ا ور سنور کر فیس بک پر تشہیر کے لئے ڈالا گیا تھا تاکہ تمام والدین صاف واضح طور پر بغیر چشمہ لگائے یہ آڈر پڑھ لیں لیکن جب تیس پرسنٹ کی رعایت کا آڈر سرکیو لیٹ ہوتا ہے تو حیران کن بات ہے کہ نجی تعلیمی اداروںکے مالک اس سے اپنی لاتعلقی اور آڈر موصول ہونے کا اقرار نہیں کرتے۔
 یہ کہانی صرف اس لاک ڈائون اور کووڈ کے دورانیہ کی نہیں بلکہ اس سے پہلے کئی بار ایسے نا مساعد حالات میں یہی کچھ ان کا وطیرہ رہا ہے بلکہ ماضی قریب میں ان مالکاں نے ہائی کورٹ کے آڈر کو بھی بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی من مانی راہ اختیار کی تھی۔ ایک اور انتہائی حیرانگی اور سینہ زوری کی بات یہ ہے کہ یہ نجی ادارے تمام والدین سے انیول چارجز کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ یہ انیول چارجز کیا ہیں ؟ میرے خیال میں یہ پہلے تعلیمی اداروں میں پرنٹنگ چارجز کہلاتی تھی ۔ اگر یہ وہی چارجز ہیں تو ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ امتحانات ہونے کا ابھی کوئی احتمال ہی نہیں ، اورجب پچھلے برس سے سوالنامے چھاپنے کی نوبت ہی نہیں آئی اور جب نجی ادارے ابھی تک مقفل ہیں تو انیول چارجز کے نام پر والدین کی مجبوریوں اور بے کسیوںکا اتنا بڑا اور منظم استحصال کیوں ؟۔ سرکار کے واضح احکامات ایڈمشن فیس سے متعلق یہ ہیں کہ کوئی تعلیمی ادارہ اس مد میں کوئی ڈیمانڈ نہیں کرسکتا ۔کیا اس پر کسی بھی ایک ادارے نے آج تک عمل کیا ہے ؟ یہ سب سرکار اور ارباب اقتدار کو معلوم ہے اور یہ رقم بغیر کوئی رسید اجرا کئے لی جاتی اور ایک لاکھ تک بھی پہنچ چکی ہے۔ 
ان حالات میں والدین نجی تعلیمی ٹکسالوں کے یر غمال ہوچکے ہیں۔ عملی طور پر یہ تعلیمی ٹکسال بلیک ہولز میں تبدیل ہوچکے ہیں جو مجموعی طور پر سارے معاشرے کو نگل رہے ہیں ۔ا س سوال کا جواب دینا لازمی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو نجی اداروں میں ہی کیوں داخل کرنے کے لئے مجبور ہیں ؟ اس کا جواب یہی ہے کہ اس بات کا یقین سرکاری استاد نے ہی عوام میں اجاگر کیا ہے کہ تعلیم کی اصلی دیویاں ان ہی نجی اداروں میں محو رقص ہیں کیونکہ اپنے سرکاری سکولوں کو چھوڑ کر اپنے ’’کار نبوت ‘‘سے فرار حاصل کرکے اس منصب کو محض آمدنی کا ایک معقول ذریعہ سمجھ کر اپنے تعلیمی اداروں کی جڑیں کھو کھلی کیں اور اپنے بچوں کو ان نجی ’’ تعلیمی عمارتوں ‘‘کے حوالے کیا ۔معاشرے میں اس بات سے کیا پیغام جاتا ہے ؟ لو گوں نے نتائج اخذ کئے کہ اصل تعلیمی دیوتا یہ مالکان ہیں جو شاید ہی یونیورسٹی اور کالج تک بھی خود تعلیم حاصل کر سکے ہوں اور ان کے ادارے ہی تعلیمی آماجگاہیں ہیں ،جن کے طریق تعلیم میں تعلیم بہت ہی کم اور شو اور دکھاوا بہت زیادہ ہے جو والدین کو اتنا مرعوب کئے ہوئے ہے کہ صبح چھ بجے والدین بڑی بڑی کتابوں کی بوریاں سیمنٹ بوریوں کی مانند اپنے شانوں پر ان اداروں کی بسوں میں اپنے بچوں کے ساتھ ڈھوتے نظر آتے ہیں۔ کتابوں کی ان بوریوں میں کئی کتابیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں کبھی کھولا بھی نہیں جاتا لیکن انہیں خریدنا لازمی ہوجاتا ہے ۔نجی تعلیمی اداروں نے والدین کو خوف اور ڈر میں مبتلا کر رکھا ہے اور بار بار اس ایک جملے کو دہرا کر اپنی من مانی میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو کہیں اور پڑھائی کے لئے لے جاسکتے ہیں۔ 
دوسری طرف ہمارے ارباب اقتدار ان سکولوں کے بڑے احاطوں میں والدین کے سامنے اپنی تقاریر میں ان کے رول کی ستائش کرتے ہوئے زمین و آسماں کے قلابے ملاکر اپنے سرکاری اداروں کوگھسے پٹے ، ڈی فنکٹ،سرکار پر ایک بوجھ، اور ڈیڈ ووڈ قرار دیتے ہوئے نجی تعلیمی اداروں کے مفادات اور ان کی لوٹ کھسوٹ کو جائز اور درست قرار دیتے رہے ہیں۔ یہ سمجھ سے باہر ہے ، لیکن کوئی پہیلی نہیں ، ہم ان حجابات کو نہیں اٹھائیں گے کیونکہ والدین بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہماری رگوں سے لہو کے قطرے کیسے اور کیونکر چوسے جاتے ہیں۔نجی تعلیمی ٹکسالوں کے حدود کاغذی طور حکومت ضرور طے کرتی ہے لیکن اس پر عمل پیرا اور انہیں لاگو کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ۔ ان کے لئے گائیڈ لائن سرکار سے آنی چاہئے تھیں لیکن اس کے بر عکس یہ سارے ادارے مکمل اتحاد اور اتفاق کے ساتھ تمام آئینی حدود کو توڑ کر اپنے لئے سال بھر کے لئے شیڈول طے کرتے ہیں جس میں تما م قسم کے غیر ضروری فیسوں کی ادائیگی کے علاوہ عجیب و غریب قسم کے فیس اختراح کئے جاتے ہیں۔ایک سکول نے تو باضابطہ فٹ بال کھیلنے یا کھلانے کا فیس ، اپنے گیمز فنڈ کے علاوہ بھی ایجاد کیا اور بچوں سے ماہوار ایک خاصی رقم وصول کی۔افسوس کہ والدین یہ سب سمجھتے ہیں ، جانتے ہیں لیکن کوئی آ پشن شاید انہیں اس کے بغیر نظر نہیں آتا کہ اپنے چولہوں کو سر د کرکے ان نجی اداروں کے مالکاں کی بھٹیوں میں ایندھن ڈالتے رہیں۔
 حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب کچھ اور تعلیم سے جڑے تمام معا ملات اسی نہج اور ڈگر پر چلتے رہیں گے ۔ والدین اور بچے ان تعلیمی ٹکسالوں کے یرغمال ہی رہیں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آخر دسویں جماعت کا امتحان ان سب بچوں کو سرکاری تسلیم شدہ ٹیکسٹ کا ہی دینا پڑتا ہے ۔ اس کے باوجود یہ ٹریڈ ایک منظم مافیا کی صورت ایک ایسے اناکونڈا کی صورت ابھر چکار ہے جس سے والدین پالنے کے لئے مجبور اور بے دست وپا بھی ہیں۔ یہ سب اس لئے ممکن ہوا ہے کہ ہمارا مدرس اپنے مقام سے ہٹ چکا ہے ،اس نے اپنا محاسبہ چھوڑا ہے اور تعلیمی عمارت اور ڈھانچے سے اس کی روح چھین کر اس سے ویران کرکے خود بھی اس انا کونڈا کا شکار ہوچکا ہے ۔میرا یقین محکم ہے کہ عالیشان اور بڑی بڑی بلند وبالا عمارتیں ، خوشنما و خوبصورت ،وضع قطع اور بڑے بڑے ٹرانسپورٹ قافلے اعلیٰ تعلیمی معیار کی نہ تو  نشاندہی کرتے ہیں اور نہ ثبوت ہوتے ہیں بلکہ اصل تعلیم وتربیت کچی پکی چار دیواروں کے اندر بھی رقص کرتی ہے اگر ’’تعلیم دینے والا ’’ استاد، گرو ، رہبر و رہنما ‘‘ زندہ ہو اور یہاں وہی رہنما و رہبر جسم کے ساتھ زندہ تو ہے لیکن اس کی اپنی روح مر چکی ہے۔جس نے تعلیمی کاروانوں کے لئے ایسے میر کاروانوں کو جنم دیا ہے جو تعلیم کو بھی متاع کوچہ و بازار کی سطح تک لے ہی آئے ہیں
رابطہ۔سوپور کشمیر،rashid.parveen48@gmail.com
موبائل نمبر۔9419514537
���������������