تازہ ترین

شہر خاص میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد سوہانِ روح

لوگوں کاگھروں سے باہر نکلنا پُرخطر، میونسپل حکام کے تئیں عوام نالاں

تاریخ    20 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   
(File Photo)

نیوز ڈیسک
 سرینگر // شہر خاص میں ہر گزرتے دن کے ساتھ آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد سے عام لوگوں کا جینا مشکل ہو رہا ہے۔شہر خاص کے خیام، خانیار، رعناواری، زندشاہ مسجد ، سعیدہ کدل ، خوجہ یار بل، شاہ آباد ، کاٹھی دروازہ ، بادام واری، حول ،علمگری بازار، نوہٹہ ،راجوری کدل، کائو ڈارہ، ، خواجہ بازار اور دیگر علاقوں میں آوارہ کتوں کی ہڑبونگ کی وجہ سے لوگ سخت پریشان ہیں۔ رعناواری سے تعلق رکھنے والے جہانگیر احمد بٹکاکہنا ہے کہ ’’ خیام ، خانیار اور رعناواری میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے نہ صرف بچوں اور بزرگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ صبح اور شام کے وقت کتوں کی بڑی تعداد ان علاقوں کے اندرونی محلہ جات میں داخل ہوکر لوگوں کو زخمی کردیتے ہیں‘‘۔جہانگیر نے بتایا کہ زندہ شاہ مسجد، کرالہ یار اور دیگر محلہ جات میں آوارہ کتوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہاں لوگوں کو صبح اور شام کے وقت نماز کی ادائیگی میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ سعیدہ کدل سے تعلق رکھنے والے بلال احمد نے بتایا کہ خواجہ یار بل ،شاہ آباد، سینٹر ل جیل ، ممہ خان اور دیگر علاقوں آوارہ کتوں کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے اور سردی کے ایام کے دوران غذا کی عدم دستیابی سے یہ عام لوگوں پرحملہ کرتے ہیں‘‘۔بلال نے بتایا کہ چند سال قبل تک آوارہ کتوں کی تعداد کافی کم تھی لیکن میونسپل حکام کی جانب سے کوڑے دان سڑکوں پر رکھنے سے کتوں کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ کتوں کو غذا دینا بند کردیتے ہیں تو وہ مونسلپٹی کے کوڑے دانوں سے غذا حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جگہوں پر آوارہ کتے عام لوگوں پر حملہ کرتے ہیں۔ نوہٹہ سے تعلق رکھنے والے منظور احمد نے بتایا کہ مونسپلٹی حکام کو بار بار اس جانب دھیان دلایا گیا لیکن ہر بار وہ خاموش تماشائی بنے رہے۔ لوگوںنے میونسپل حکام سے اپیل کی ہے کہ ایام متبرکات کے دوران صبح و شام لوگوں کی نقل وحرک کو یقینی بنانے کیلئے آوکتوں کو قابو کرنے اور انکی تعداد کم کرنے کے ترجیحاتی بنیاد پر اقدامات کرے تاکہ عوام کو راحت نصیب ہو۔
 

تازہ ترین