ای ڈی میں ڈاکٹر فاروق کی طلبی،7گھنٹوں تک سوال جواب

پوچھ تاچھ سے گزرنے کے بعد دفعہ370کی بحالی کیلئے جدوجہد پر قائم رہنے کا اظہار کیا

تاریخ    20 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی

 انتقام گیری کی سیاست: پیپلز الائنس

 
سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر اور پارلیمنٹ ممبر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ کے مبینہ کرکٹ اسکینڈل کے سلسلے میں7گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی اور ان کا بیان ریکارڈ کیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ قریب11بجے انفورسمنٹ ڈائیکوٹریٹ پہنچے اور 5بجے تک ان سے پوچھ تاچھ ہوتی رہی۔اس دورا ن انہیں دوپہر کا کھانہ کھانے کیلئے وقت بھی میسر نہیں ہوا۔ای ڈی اہلکاروں و افسران نے ڈاکٹر فاروق سے جموں کشمیر کرکٹ ایسو سی ایشن میں سال2012میں ہوئے گھپلے کے بارے میں پوچھ تاچھ کی۔ فاروق عبداللہ سے پوچھ تاچھ ا یک ایسے وقت میں کی گئی جب جموں و کشمیر کی 6 مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے اتحاد برائے گپکار اعلامیہ (پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن) کے پرچم تلے4 اگست 2019 کی پوزیشن کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات شروع کرانے کے لئے جدوجہد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انفورسمنٹ دفتر میںطویل7گھنٹے گزارنے کے بعد ڈاکٹر فاروق باہر آکر نامہ نگاروں کو بتایا کہ’’ انفورسمنٹ اپنا کام کرے، میں اپنا کام کروں گا‘‘۔ ان کا کہنا تھا’’میں بے داغ ہوں ،میں ہمیشہ اُن کا سامنا کرو ںگا ،میرا فیصلہ عدالت کرے گی ،جب وہ میرا کیس عدالت میں پیش کریں گے‘‘۔انہوں نے کہا’’آج کھانا کھانے کا وقت بھی نہیں ملا ،کیوں کہ وقت نہیں تھا ‘‘۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہیں اتحاد برائے گپکار اعلامیہ (پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن)  کے پیش نظر طلب کیا گیا تو ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ’’ گپکار اعلامیہ کو اس میں مت گھسیٹوں‘‘۔ نامہ نگاروں نے جب نیشنل کانفرنس کے صدر سے پوچھا کہ کیا انہیں جموں کشمیر کرکٹ ایسو سی ایشن گھپلے کیلئے طلب کیا گیا تھا تو انہوں نے کہا’’ آپ کو کیا چٹی پڑی ہے،ان سے(انفورسمنٹ ڈائریکوٹریٹ) سے پوچھو‘‘۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے طلبی پر دفعہ370کی سر نو بحالی کیلئے  جدوجہد کا عزم کمزور ہونے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ صرف ان کے تنہا کا عزم نہیں ہے۔انہوں نے کہا’’ یہ جموں کشمیر کے عوام کا عزم ہے اور یہ جاری رہے گا چاہے فاروق عبداللہ زندہ رہے یا مر جائے‘‘۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے انفورسمنٹ ڈائیکوٹریٹ کی کارروائی کو سیاسی انتقال گیری سے تعبیر کیا ہے تو انہوں نے کہا’’ مجھے اس سلسلے میں کچھ بھی کہنا نہیں ہے‘‘۔ ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے افسران اور اہلکاروں کا رویہ نرم اور دوستانہ تھا‘‘۔
کرکٹ اسکینڈ ل کیا ہے؟
 کرکٹ اسکینڈل کیس کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کررہی ہے۔ جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے جموں وکشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے حوالے سے سامنے آنے والے اسکینڈل کو 3 ستمبر 2015 کو سی بی آئی کے حوالے کر دیا تھا۔ اس سے قبل اس اسکینڈل کی تحقیقات جموں وکشمیر پولیس کی خصوصی تحقیقات ٹیم (ایس آئی ٹی) کررہی تھی۔اس نے 16 جولائی 2018کو کیس میں چارج شیٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) سری نگر کی عدالت میں داخل کیا تھا۔ چارج شیٹ میں ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، سابق جنرل سکریٹری محمد سلیم خان ، سابق خزانچی احسان احمد مرزا اور جموں وکشمیر بینک منیجر بشیر احمد کے نام شامل کئے گئے تھے۔ سی بی آئی نے چارج شیٹ ڈاکٹر فاروق کو چھوڑ کر باقی ملزمان کی موجودگی میں دائر کی تھی۔ سی بی آئی نے کیس کے سلسلے میں فاروق عبداللہ کا بیان جنوری 2018 میں ریکارڈ کیا تھا۔ ڈاکٹرفاروق نے ستمبر 2015 میں کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا’میں خوش ہوں کہ کیس کی تحقیقات شروع کی گئی ہے،مجھے امید ہے کہ سی بی آئی کیس کی تحقیقات کو تیزی سے اپنے اختتام تک لے جائے گی۔ یہ اسکینڈل 2002 سے 2011 تک بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کی طرف سے جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کو جموں کشمیر میں کرکٹ کی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے فراہم کئے گئے113 کروڑ 67 لاکھ روپے سے متعلق ہے۔ اس رقم میں سے مبینہ طور پر40 کروڑ روپے کا خرد برد کیا گیا تھا۔ یہ خرد برد اس وقت کیا گیا جب فاروق عبداللہ جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔ایس آئی ٹی ( خصوصی تحقیقاتی ٹیم)نے اپنی تحقیقات میں انکشاف کیا تھا کہ کروڑوں روپے مختلف جعلی بینک کھاتوں میں منتقل کئے گئے تھے۔ اسکینڈل کے سلسلے میں پولیس تھانہ رام منشی باغ میں درج کی گئی پہلی ایف آئی آر میں صرف سابق جنرل سکریٹری محمد سلیم خان اور سابق خزانچی احسان احمد مرزا کو نامزد کیا گیا تھا۔

پیپلز الائنس

 عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ(پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن) نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے طلبی کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس عمل کو مرکزی حکومت کی طرف سے سیاسی انتقام گیری سے تعبیر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مرکزی سرکار ملک بھر میں مخالف اور عدم اتفاق کی آواز کو بند کررہی ہے۔بیان میں کہا گیا ’’ یہ5اگست2019کے غیر آئینی اور یک طرفہ فیصلے کو منسوخ کرنے اور4اگست سے قبل کی پوزیشن کی بحالی کے جائز مطالبے کو خاموش کرنے کے عمل کی کڑی ہے‘‘۔ الائنس نے مرکزی حکومت کو یاد دہانی کرائی کہ اس طرح کے حربے جموں کشمیر اور لداخ کے عوام کے حوصلوں اور عزم کو کمزور نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت تمام خطوں اور طبقوں میں گپکار اعلامیہ کے مقاصد کی حصولیابی کیلئے اتحاد اور سیول سوسائٹی گروپوں و سیاسی جماعتوں کی جانب سے قومی سطح پر حمایت سے خائف ہوگئی ہے۔ انہوں نے حکومت ہند پر زور دیا کہ اس عمل میں انتقال گیری اور خوف و ہراس کا ماحول  پیدا کرنے کے سنگین نتائج کا ادراک کرے اور اس طرح کی انتقام گیری سے باز رہے۔الائنس کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں موجودہ بے چینی کو ختم کرنے کیلئے تمام فریقین کے ساتھ بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔
 

تازہ ترین