پراپرٹی ٹیکس عائد نہیں کیا جائیگا

پنچایتی نمائندوں کے مشاہرے میں اضافہ ہوگا

تاریخ    20 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


فیاض بخاری

یوٹی انتظامیہ نہیںمنتخب بلدیاتی نمائندے فیصلہ کریں گے: لیفٹیننٹ گورنر

 
بارہمولہ// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ یونین ٹریٹری انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کی املاک پر کوئی ٹیکس عائد نہیںہوگا اور نہ کسی قانون میں کی گئی ترمیم کو تھونپا جائیگا۔ بلکہ اس بات کے فیصلے کا اختیار منتخب بلدیاتی نمائندوں کو ہے،جو چاہئیں تو عوام کا اعتماد حاصل کرکے فیصلہ لے سکتے ہیں۔پیر کویہاں ’میرا شہر میری شان‘ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا’’کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ لوگوں پر پراپرٹی ٹیکس تھونپا گیا ہے، لیکن میں ذمہ داری کیساتھ کہنا چاہتا ہوںکہ یو ٹی انتظامیہ کی جانب سے کوئی پراپرٹی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا‘‘۔لیفٹیننٹ گورنر نے تاہم مزید کہا’’ چنے ہوئے بلدیاتی اداروں کے نمائندے، جو آپ کے بھائی ہیں، اگر عوامی سہولیات کی فراہمی کیلئے آپ کو اعتماد میں لیکر کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان فیصلوں کو سیاسی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے، لیکن انتظامیہ کی طرف سے پراپرٹی ٹیکس نہیں تھونپا جائے گا‘‘۔
جموں و کشمیر پنچایت ایکٹ میں کی جانے والی حالیہ ترمیم کے حوالے سے موصوف نے کہا ’’میں تمام پنچایت نمائندوں کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت ان کو دیئے جانے والے مشاہرے میں اضافہ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ جو اس مشاہرے کو بند کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں وہ محض افواہیں ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر پنچایت راج ایکٹ میں حالیہ ترمیم کے بدولت ہر ضلع میں ضلع ترقیاتی کونلسز کا قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ لوگوں کو ترقیاتی سرگرمیوں سے فائدہ پہنچے۔ یاد رہے کہ وزارت داخلہ نے گذشتہ ہفتے جے اینڈ کے میونسپل ایکٹ 2000 اور جے اینڈ کے میونسپل کارپوریشن ایکٹ 2000 میں ترمیم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی یونین ٹیریٹری انتظامیہ کو یہاں پراپرٹی ٹیکس نافذ کرنے کے اختیارات دے دیئے۔ یہ ٹیکس تمام اراضی، عمارتوں اور خالی پڑی اراضی پر لگے گا، تاہم ٹیکس کتنا دینا ہوگا یہ طے کرنے کا اختیار مقامی بلدیاتی اداروں کو دیا گیا ہے۔جہاں بی جے پی کو چھوڑ کر دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے وزارت داخلہ کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے وہیں تجارتی انجمنوں اور عام لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس وقت نئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبانے کی بجائے پھر سے کھڑا ہونے کیلئے سہارے کی ضرورت ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اس موقع پر ایک پل کا افتتاح کیا۔ 
 

تازہ ترین