تازہ ترین

’عوامی اتحاد‘ کو عوامی اعتماد کا فقدان!

شورِ نشور

تاریخ    20 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


شاہ عباس
جموں کشمیر کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں، نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی نے آخری انتخابات کے بعد حکومت سازی کیلئے ہاتھ ملایا ہوتا تو علاقائی مفادات کا تحفظ بھی ممکن ہوتا اور عوام کے’ وقار‘ کو بھی بر قرار رکھنے میں مدد ملتی۔نیز دونوں پارٹیوں کو شاید نئی دلی کے ہاتھوں اُس ہزیمت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا جو اب تاریخ کا حصہ ہے۔اب دونوں نے باقی ماندہ چھوٹی پارٹیوں کے ہمراہ ایک ایسے وقت ’عوامی اتحاد‘ عمل میں لایا ہے جب جموں کشمیر کی سابقہ پوزیشن کی بحالی کیلئے فقط عدلیہ کا واحد دروازہ کھلا ہے۔عوامی حلقوں کو شکوہ ہے کہ این سی اور پی ڈی پی ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جن کا مقصداول روز سے حصول اقتدار رہا ہے اور اس کیلئے دونوں نے کبھی بھی عوامی جذبات، احساسات اور مفادات کو خاطر میں نہیں لایا ہے۔
جموں کشمیر کی سب سے بڑی اور تاریخی سیاسی پارٹی نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ’خصوصی پوزیشن‘، اور’لوگوں کی عزت و آبرو‘کے نعروں پر اپنی سیاسی دکان چمکائی ہے۔ان جذباتی نعروں نے ہمیشہ مذکورہ پارٹی کو سب سے بالا تر رکھا ہے یہاں تک کہ چند برس کو چھوڑ کر یہ پارٹی لگاتار مسند اقتدار پر براجماں رہی ہے۔ یہی وہ پارٹی ہے جس نے کبھی رائے شماری تو کبھی سبز رومال کے خواب دکھا کر اپنی پوزیشن اس قدر مستحکم بنائی کہ اس کیخلاف بات کرنے والوں کیخلاف کفر کے فتویٰ تک لگتے تھے، تب بھی جب پارٹی نے رائے شماری کو اقتدار کیلئے قربان کیا ، تب بھی جب’ عزت و آبرو‘ کے دھجیاں اڑائی گئیں اور تب بھی جب پارٹی کی اٹانومی قرار داد کو ردی کی نذر کیا گیا۔
 پی ڈی پی نے بھی مسلسل اپنے قیام سے ہی جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور کشمیر مسئلے کے حل کو لیکر سیاست کی۔حالانکہ مذکورہ پارٹی کو خفیہ اداروں کی تخلیق کہا جاتا رہا لیکن اس نے ’ہیلنگ ٹچ‘ اور ’سیلف رول‘ کے نعروں کا سہارا لیکر نیشنل کانفرنس کو کڑا مقابلہ دیتے ہوئے تاریخ میں پہلی مرتبہ یہاں حزب اختلاف کے تصور کوعملی صورت عطا کی۔تاہم جب حصول اقتدار کا موسم آیا تو پی ڈی پی نے بھی سمجھوتوں کا اپنا ریکارڈ قائم کیا ،یہاں تک کہ اس نے 2014میں عوام سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو جموں کشمیر سے دور رکھنے کیلئے ووٹ مانگے لیکن بعد ازاں اسی پارٹی کے ساتھ اتحاد عمل میں لاکر پہلی بار دائیں بازو کی پارٹی کو جموں کشمیر میں سیول سیکریٹریٹ تک رسائی کا موقع فراہم کیا۔اپنی اس سیاسی قلع بازی کو صحیح ثابت کرنے کیلئے پارٹی نے کیا کیا جتن نہیں کئے!پارٹی نے بھاجپا کے ساتھ رشتوں کی برقراری کیلئے نہ جانے کیا کیا اصطلاحیں بیان ایجاد کیں! لیکن اس کا ماحصل بھی نیشنل کانفرنس کی طرح ہی ’ڈاک کے وہی دو پات ‘کی صورت میں سامنے آیا۔
نئی دلی کو راضی رکھنے کیلئے کئی سیاست دانوں نے مزاحمتی خیمے سے علیحدگی اختیار کرکے ’بڑے بھائی‘ تک کی اصطلاح کا استعمال کیا لیکن جب بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی نئی دلی سرکار نے اپنے عوام کے ساتھ کئے گئے چناوی وعدوں کو پورا کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو ’چھوٹے بھائی‘ کے ساتھ ساتھ سابق ریاست کی اب تک کی اولین خاتون وزیر اعلیٰ اور بھاجپا کی سابق سرکار میں مرکزی وزیر مملکت برائے خارجہ امور رہنے والے کو بھی موجودہ رکن پارلیمان والد سمیت پس از دیوار کیا گیا۔
اب جبکہ سبھی قابل ذکر علاقائی پارٹیوں نے خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے ’اتحاد ‘قائم کیا ہے تو یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ ان کا طرز عمل کیا رہے گا۔ آیا وہ نئی دلی پرکسی طرح کاسیاسی دبائوبنائیں گی یا سپریم کورٹ کے سامنے ایک اور مشترکہ عرضی پیش کرکے قانونی راہ اپنائیں گی۔سیاسی مبصرین دونوں کی وکالت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیاسی دبائو کے ساتھ ساتھ قانونی راہ اختیار کرنا ہی بہتر طرز عمل ہوسکتا ہے کیونکہ عدالتی دریچہ ہی فی الوقت اُمید کی ایک کرن کی صورت میں نظر آرہی ہے۔اس دریچے سے زیادہ سے زیادہ روشنی حاصل کرنے کیلئے تینوں سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق، عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی کو سیاست کا ہر پتا آزما کر اپنے لوگوں کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا بصورت دیگر عام لوگوں کے ساتھ ساتھ خود اُن کی سیاست کو ڈبونے کیلئے سارا سامان پہلے ہی تیاررکھاجاچکا ہے۔ 
حالانکہ سبھی مین اسٹریم علاقائی پارٹیوں سے عام لوگ کافی مایوس ہیں اور ’عوامی اتحاد‘ قائم ہونے کے بعد بھی وہ کسی خوش فہمی میں مبتلاء نہیں ہیں لیکن ماہرین سیاست کا ماننا ہے کہ مخالف سیاسی جماعتوں کا یکجا ہونا ہی اپنی جگہ کافی اہم ہوتا ہے اور ایسا ہونے سے جو پیغام جاتا ہے وہ وقت پر اپنا کام ضرور کرتا ہے۔ پھر یہاں کی مین اسٹریم سیاسی جماعتیں جس نظام سیاست پر یقین رکھتی ہیں اُس میں بھی سبھی پارٹیوں کا ہاتھ ملانا اہمیت کا حامل تصور ہوتا ہے اور ایسے اقدام ضرور ثمر آور ثابت ہوتے ہیں، لیکن شرط صرف اتنی ہے کہ مذکورہ پارٹیاں کتنی مخلص ہیں ، کس حد تک استقامت کا مظاہرہ کرتی ہیں اور کس طرح کی سیاست اختیار کری ہیں۔مذکورہ پارٹیوں کی استقامت کو توڑنے کیلئے بہت کچھ کیا جائے گا،بالکل ویسے ہی جیسے مذکورہ پارٹیاں اپنے اپنے دور اقتدار کے دوران مزاحمتی خیمے کا دم خم توڑنے کیلئے زور آزمائی کرتی رہیں ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ نئی دلی کے سامنے کون کس قدر کھڑا رہ سکتا ہے جس نے گذشتہ برس جموں کشمیر کے بارے میں پارلیمنٹ کے ذریعے ایک ایسا فیصلہ لیا جسے دور رس نتائج کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ ’عوامی اتحاد‘ اگربرقرار رہا تویہ نئی دلی کیلئے درد سر ہو گا۔کیونکہ بھارت کی اندرون ریاست (ڈیپ سٹیٹ)جانتی ہے کہ اس اتحاد میں اُن کیلئے دو لمبی دوڑ کے گھوڑے بھی شامل ہیں جن کا اس طرح کاندھے سے کاندھا ملاکر اُس کیخلاف کھڑا ہوجانا کسی بھی صورت میں ملک کے حق میں نہیں ہے ۔اس لئے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ پہلے تو ’عوامی اتحاد‘ کو توڑنے کیلئے ہر کوشش انجام دی جائے گی اور اگر اُس میں کامیابی نہیں ملی تو نئی دلی دلی کسی نہ کسی بہانے ’عوامی اتحاد‘ کو راضی کرنے کی راہ ضرور اپنائے گی۔     
 زمینی سطح پر علاقائی پارٹیوں سے اہل وادی کی مایوسی کا اندازہ گذشتہ دنوںسوشل میڈیا سے ٹھیک ٹھیک لگایا جاسکتا تھا جہاں ’عوامی اتحاد‘ کو لیکر لوگوں کے تاثرات کا سیلاب اُمڈ آیا تھا۔سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوے فیصد لوگوں کے خیالات منفی تھے اور اُن کا ماننا تھا کہ این سی، پی ڈی پی اور دیگراں کا یہ ’اتحاد‘ مذکورہ پارٹیوں نے اپنے مفادات کیلئے عمل میں لایا ہے۔سہیل نامی ایک فیس بک استعمال کرنے والے کا  یہاں تک لکھنا تھا’’گپکار الائنس؛ پہلے ہم باری باری لوگوںکو۔۔۔۔کرتے تھے، اب مل کر ۔۔۔۔گے ۔ اس سے لوگوں کو تھوڑی راحت ملے گی!‘‘۔
عوامی حلقوں کو محبوبہ کا وہ آڈیو پیغام بھی زیادہ متاثر نہیں کرسکا جو اُنہوں نے 13اکتوبر کی شام اپنی رہائی کے چند منٹوں بعد جاری کیا اور جس میں اُنہوں نے 5اگست2019کے پارلیمانی فیصلے کو ’’ڈاکہ زنی‘‘ سے تعبیر کیا۔تاہم بعض حلقے اس بات کو لیکر محبوبہ کو ضرور کریڈٹ دے رہے ہیں کہ اُنہوں نے عمر کے برعکس اپنی رہائی کے بعد پُر اسرار خاموشی اختیار نہیں کی۔
جموں کشمیرمیں مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں کے اتحاد قائم کرنے کی زیادہ روایات موجود نہیں ہیں ۔شاید اس کی ایک وجہ یہاں کی سیاست پرنیشنل کانفرنس کی مسلسل اُجارہ داری رہی ہے۔1987کے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے ’مسلم یونائٹیڈفرنٹ‘ نامی جو اتحاد قائم ہوا ،وہ اصل میں علیحدگی پسند سیاست کی پہلی اجتماعی صورت تھی لیکن اس کو پنپنے نہیں دیا گیا ۔مبصرین کہتے ہیں کہ اگر مذکورہ اتحاد کو حکومت سازی کا موقع بھی ملتا تو بھی وہ اپنے مخصوص اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔اب جو ’عوامی اتحاد‘ قائم ہوا ہے وہ یہاں کی مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں، جنہیں مقامی سیاست میں بھارت نواز کہا جاتا ہے، کا اپنی نوعیت کا منفرد سیاسی اتحاد ہے۔اس ’اتحاد‘کو کس حد تک کامیابی حاصل ہوتی ہے ؟اس کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔تاہم اس ’اتحاد‘ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا خود ان پارٹیوں کے اپنے مفاد میں بھی ہے ۔