تازہ ترین

پالتھین لفافوں کا کاروبار جاری | روک لگانے والا کوئی نہیں

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
 سرینگر// شہر اور دیگرقصبہ جات میں پالی تھین لفافوں کا کاروبار بڑے پیمانے پر جاری ،عدالت عالیہ کے حکمنامے کو عملانے میں متعلقہ محکمہ جات بری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں ۔ کرنٹ نیو ز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں پالتھین لفافوں کے کاروبار پر انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عدالت عالیہ نے بھی پابند لگائی تھی، لیکن میونسپلٹی، محکمہ خورات و رسدات اور لیکس اینڈ واٹر ویز محکمہ عدالت اور انتظامیہ کے حکمنامے کو زمینی سطح پر عملانے میں بُری طرح سے ناکام ہوچکا ہے ۔ سرکار کی جانب سے باربار یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ کشمیر کو پالتھین سے پاک خطہ بنایا جائے گا تاہم بد قسمتی سے سرکاری اعلانات محض اخباروں کی سرخیوں تک ہی محدود رہے۔ جس کے نتیجے میں پالتھین کا کاروبار پہلے سے زیادہ پھیل گیا ۔ وادی کے تمام اضلاع میںپالیتھین لفافوں کا کاروبار اور اس کا استعمال جاری رہنے کی پاداش میں ماہرین ماحولیات اور ماحول دوست اشخاص نے سخت تشویش کااظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی خودغرضی کی وجہ سے قدرتی ماحول کو اب تک لاتلافی نقصان پہنچا ہے ۔ شہر سرینگر کے لالچوک ، ڈلگیٹ، بٹہ مالو، کرانگر اور دیگر اہم جگہوں اور بازاروں میں جہاں سے روزانہ متعلقہ محکمہ جات کے افسران اور ملازمین سفر کرتے ہیں اور ان ہی بازاروں سے ان کا آنا جانا ہوتا ہے میں کھلے عام دکاندار اور ریڈہ بان پالتھین لفافوں کا استعمال کرتے ہیں لیکن مذکورہ سرکاری ملازمین اپنی آنکھوں پر جیسے پٹی باندھے ہوئے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ متعلقہ محکمہ جات کی مارکیٹ چیکنگ ٹیمیں سرکاری ریکارڈ میں اندراجات کیلئے بازاروں کا دورہ کرکے چند دکانوں سے چند کلو پالتھین لفافے ضبط کرتے ہیں لیکن ڈیلروں اور کاروبارکرنے والوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں اُٹھاتے ہیں ۔ سرکار نے اگرچہ بار بار دعویٰ کیا  کہ وادی کشمیر کو پالتھین سے پاک قراردینے کیلئے پال تھین لفافوں کے استعمال اور اس کے کاروبار پر پابندی عائد ہو گئی لیکن زمین سطح پر سرکاری حکمنانے کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہے ۔ 
 

تازہ ترین