تازہ ترین

گندے پانی کی نکاسی کیسے ممکن ؟ | شہرمیں متعدد پروجیکٹوں پر کام سست رفتاری کا شکار

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//شہر سرینگر میں گندھے پانی اور فضلہ کی نکاسی کیلئے صرف40فیصد ڈھانچہ ہی موجود ہے،جبکہ اسمارٹ سٹی کے تحت جن20پروجیکٹوں کو منظوری ملی تھی،اس میں سے بھی نصف پروجیکٹ سست رفتاری کے نتیجے میں پائے تکمیل کو ابھی تک پہنچ نہیں پائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینگر میں سمارٹ سٹی کے تحت پانی کی نکاسی کیلئے جن20پروجیکٹوں کو سال2019-20میں شروع کیا گیا تھا،ان میں سے بھی11ہی مکمل ہوئے اور باقی9سست رفتاری کی بھینٹ چڑ گئے ہیں۔سرینگر مونسپل کارپوریشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینگر میں پانی کی نکاسی کیلئے صرف40فیصد نظام موجود ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوںکے دوران نہ ہی سرینگر مونسپل کارپوریشن اور نہ ہی محکمہ تعمیرات عامہ نے شہر میں نکاسی آب کے نظام کو درست کرنے کی کوشش کی،اور یہ معاملہ شہری عوام کیلئے درد سر بنا ہواہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شیخ باغ،الہی باغ،باغات،شہنشاہ کالونی اور دیگر علاقوں میں پانی کی نکاسی کیلئے قریب ایک کروڑ روپے کی لاگت سے جو کام شروع کئے گئے تھے وہ ابھی تک 75فیصد سے زیادہ مکمل نہیں ہوئے ہیں۔راجباغ میں پانی کی نکاسی کیلئے جو کام شروع کیا گیا تھا وہ بھی ابھی تک پائے تکمیل کو نہیں پہنچا ہے۔محکمہ کا تاہم ماننا ہے کہ موجودہ کویڈ 19کی صورتحال کے نتیجے میں کام میں تاخیر ہوئی،تاہم انکا کہنا ہے کہ صد فیصد ہدف کو جلد ہی پائے تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔محکمہ کے ایک سنیئر انجینئر نے بتایا کہ منصوبوں کے ادھورے ہونے کی بنیادی وجہ فنڈز کی کمی ہے۔تعمیراتی ٹھیکداروں کا تاہم کہنا ہے کہ ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے شہر میں ڈرینج کی کمی پائی جارہی ہے۔سینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار کا کہنا ہے کہ سرینگر میں750کلو میٹر مجموعی طور پر نکاسی آب کے نظام کے بغیر ہے۔انکا کہنا ہے کہ سرینگر میں مجموعی طور پر1295کلو میٹر پر نکاسی آب کا نظام محیط ہونا چاہے تاہم گزشتہ ایک دہائی میں صرف550کلو میٹر کو ہی مکمل کیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا ’’ ضلع سرینگر کے 60 فیصد رقبے میں نکاسی آب کا نظام موجود نہیں ہے،جبکہ غیر منصوبہ بند تعمیرات وادی میں نکاسی آب کے ناقص نظام کی بنیادی وجوہات ہیں۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ 2دہائی قبل جہاں سٹی ڈرینج کو10کروڑ روپے سالانہ رقومات فراہم کئے جاتے تھے،اس کا حجم گھٹا کر ایک کروڑ کیا گیا،جو ناکافی ہے،جبکہ اس عرصے میں آبادی اور شہر کے حدود کے پھیلائو میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ان کا کہنا تھا ’’ امرت اسکیم کے تحت ڈرینیج کے جو کام کرائے گئے اس سے نقصان ہوا،ایک تو خزانہ عامرہ  پر 3گناہ بوجھ پڑا،اور دوسرا وقت پر پروجیکٹوں کی تکمیل بھی نہیں ہوئی‘‘۔
 

تازہ ترین