تازہ ترین

پریس کالونی کار پارکنگ میں تبدیل | صحافیوں کو گاڑیاں پارک کرنے میں دقت | حکام سے مداخلت کی اپیل

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


نمائندہ عظمیٰ
 سرینگر // پریس کالونی سرینگر کو عام لوگوں نے کار پارکنگ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ،جس کے نتیجے میں صحافیوں اور اخبارات سے وابستہ افراد کو اپنے گاڑیاں کھڑا کرنے کیلئے جگہ ہی دستیاب نہیں ہوتی ہے ۔ مختلف اخبارات سے وابستہ صحافیوں کا کہنا ہے کہ روزانہ دن کو کالونی میں عام شہری اپنی گاڑیاں کھڑاکر دیتے ہیںجس کے نتیجے میں نہ صرف انہیں آمد ورفت میں کافی دقتوں کا سامنا رہتا ہے، بلکہ انہیں اپنی گاڑیاں پارک کرنے کیلئے جگہ بھی دستیاب نہیں ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پریس کانونی کو لوگوں نے کار پارکنگ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ،جبکہ یہاں کوئی بھی پارکنگ نہیں ہے اور لوگ مفت میں اس کو پارکنگ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔صحافیوں کا مزید کہنا تھا کہ کبھی کبار انہیں راستے میں اپنی گاڑیاں چھوڑ کر آفس میں کام کرنے پہنچنا پڑتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں ذہنی عذاب اُس وقت ہوتا ہے جب انہیں کام کے دوران یہ فون کال محصول ہوتی ہے کہ اپنی گاڑی کو’ سائڈ کریں ‘یا نکالیں ۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی وجہ سے ان کا کام بھی متاثر ہوتا ہے ،کئی ایک صحافیوں کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال 5اگست سے قبل سابق آئی جی پی ٹریفک الوک کمار نے پریس کالونی میں ایک ٹریفک اہلکار تعینات رکھا تھا اور مذکورہ اہلکار صرف پریس کی گاڑیوں کو ہی اندر داخل ہونے کی اجازت دیتا تھا ،لیکن 5اگست کے بعد اس ٹریفک اہلکار کو بھی یہاں سے ہٹا دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کالونی میں گاڑیوں کی بھرمار ہوتی ہے اور پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔صحافیوں نے محکمہ ٹریفک کے ایس ایس پی سرینگر سمیت دیگر اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کالونی میں ایک ٹریفک اہلکار کو تعینات کریں تاکہ صحافیوں کو گاڑیاں پارک کرنے میں کوئی مشکلات پیش نہ آئے ۔
 

تازہ ترین