تازہ ترین

طلاق

کہانی

تاریخ    18 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر عقیلہ
   پری آج تم پھر دیر سے آئیں… مجھے تمہارا دیر سے آنا بالکل اچھا نہیں لگتا…جانتی ہو میں ایک گھنٹے سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔…شہاب نے غصے سے کہا۔
اچھا بابا سوری… دیکھو میں کان پکڑتی ہوں… اب آئندہ دیر سے نہیں آؤں گی۔ 
لیکن سنو! تمہارا یہ غصہ کرنے کی عادت ٹھیک نہیں ہے… ذرا ذرا سی بات پر تم اتنا غصہ کرتے ہو… غصہ تو جیسے تمہاری ناک پر رکھا ہو … پری نے شہاب کی ناک پر شرارت سے انگلی کرتے ہوئے کہا۔ اور دونوں ہنس دیئے۔
دیکھو پری مجھے غصہ ذرا زیادہ ہی آتا ہے۔ کیا تم میرا ہر حال میں ساتھ دوگی۔ شہاب نے ذرا مایوسی سے پوچھا؟
کیوں نہیں! میں زندگی کے ہر موڑ پر تمہارا ساتھ دوں گی ۔ یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔ شہاب نے پری کو گلے سے لگا لیا۔
اور ہاں کیا تم نے اپنے گھر والوں سے بات کی؟ پری نے پوچھا؟
کون سی بات؟
ارے وہی ہماری شادی کی بات۔
ہاں! کی تھی لیکن گھر والے راضی نہیں ہیں۔
اور کیا تم نے اپنے گھر والوں سے بات کی شہاب نے پری کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ہاں! لیکن وہ بھی راضی نہیں ہیں۔
تو کیا ہم اب جدا ہو جائیں گے۔ شہاب ! میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ پری نے روہانسی آواز میں کہا۔
اچھا ! تو اب بس ایک ہی راستہ ہے۔ اگر تم راضی ہو تو! کون سا راستہ؟ پری نے پوچھا؟
کورٹ میرج! شہاب نے کہا
کورٹ میریج ! پری نے دھراتے ہوئے کہا۔
ہاں کورٹ میرج ! شہاب نے ذرا زور لگا کر کہا۔
پری نے کچھ دیر سوچا اور کہا اگر کورٹ میریج ہی ہمارے ملن کا راستہ ہے تو یہی سہی۔ میں تیار ہوں۔
ٹھیک ہے کل ہم کورٹ میریج کریں گے ۔ شہا ب نے کہا
’’او شہاب آئی لو یو‘‘ کہتے ہوئے  پری شہاب کے گلے لگ گئی۔
شادی کے بعد دونوں ممبئی شفٹ ہوگئے۔ 
شہاب نے نوکری کرنے کے ساتھ بلڈنگ میں فلیٹ کرائے پر لے لیا۔ بلڈنگ کے اوپر والے فلیٹ میں ایک بزرگ رہتے تھے جنھیں سب رحمت چاچا کہتے تھے۔ رحمت چاچا نمازی پرہیزگار اور نیک انسان تھے۔…ان کی بیوی دس سال پہلے گزر چکی تھیں… اور بچے امریکہ میں مقیم تھے۔…رحمت چاچا اپنے اس فلیٹ میں اکیلے رہتے تھے… شہاب اور پری سے بھی رحمت چاچا کی اچھی جان پہچان تھی… شہاب اور پری اکثر رحمت چاچا کے پاس آتے جاتے تھے … رحمت چاچا ان کو دین کی باتیں بتاتے… دنیا اور آخرت کی باتیں سمجھاتے اور نیک راستے پر چلنے کی ترغیب دیتے۔
پری نے نوکری کے لئے جو انٹرویو دیا تھا اس کی سلیکشن کی خوش خبری وہ شہاب کو سنانا چاہتی تھی۔ اس لیے وہ خوشی سے دوڑتے ہوئے گھر آ رہی تھی کہ شہاب کو بتائے گی کہ اسے نوکری مل گئی… مارے خوشی کے اس کے پیر زمین پر ہی نہیں پڑ رہے تھے… جیسے تیسے وہ گھر پہنچی تو دیکھا شہاب اس کا غصے میں انتظار کر رہا ہے۔ 
کہاں گئی تھی میری اجازت کے بغیر؟ کس یار سے ملنے گئی تھی؟ بتا؟ شہاب نے غصہ سے کہا۔
شہاب تم کیسی بات کر رہے ہو؟ 
میں! میں! اور پری نے اس سے کچھ کہنا چاہا لیکن شہاب نے اسے بولنے کاموقع ہی نہیں دیا۔
اور پھر شہاب نے غصہ سے پری کا ہاتھ زور سے جھٹکا …اور چیختے ہوئے کہا۔ کس سے پوچھ کر تم نے نوکری کی؟ بتا؟
پری نے ڈرتے ہوئے کہا ، ش ، ش ، شہاب !
چپ رہو! شہاب اور زیادہ غصہ میں چیخنے لگا۔ جاؤ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔ طلاق ! طلاق ! طلاق!
پری نے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا نہیں شہاب! خدا کے واسطے مجھے گھر سے مت نکالو۔
کہتے ہوئے پری بے ہوش ہوگئی…اور جب ہوش میں آئی تو اس نے دیکھا کہ شہاب ایک کونے میں بیٹھا اپنے سر کو پکڑے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو رہا ہے… یہ میں نے کیا کر دیا ؟… یہ مجھ سے کیا ہوگیا؟… اب میں کیا کروں؟… کس سے کہوں؟ …کس کے پاس جاؤں؟… کہتے ہوئے پری کے گھٹنوں پر سر رکھنا چاہا ۔
نہیں ! مجھ سے دور رہو! اب میں تمہارے لئے غیر ہو چکی ہوں۔
مجھے مت چھوؤ۔
نہیں پری ایسا مت کہو! میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
شہاب مسلسل رو رہا تھا۔
لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہمارا رشتہ ٹوٹ چکا ہے ۔ پری نے روتے ہوئے کہا۔
نہیں میری پیاری پری! ایسا مت کہو۔ مجھے صرف ایک موقع دو … میں تمہاری قسم کھا کر کہتا ہوںکہ میں بدل جاؤں گا۔ میں کبھی تم پر غصہ نہیں کرونگا۔
لیکن اب کیا ہوسکتا ہے شہاب؟ تم نے تو سارے دروازے ہی بند کر دیئے۔
اب کوئی راستہ نہیں ہے جو مجھے تم تک پہنچا سکے۔
اچھا! اچھا!  ایک راستہ ہے… چلو رحمت چاچا کے پاس چلتے ہیں … اس مسئلے کا حل وہی بتا سکتے ہیں۔
ٹھ… ٹھ… ٹھیک ہے… شہاب رحمت چاچا کا دروازہ زوروں سے پیٹنے لگا۔ 
ارے بھئی کون ہے؟ دروازہ توڑ ہی ڈالو گے کیا؟
رحمت چاچا نے جلدی سے دروازہ کھولا… ارے میاں! تو تم ہو … بھئی یہ دروازہ توڑنے کی کیا سوجھی؟ کہو خیریت تو ہے نا؟ رحمت چاچا نے چشمہ اپنی لنگی سے صاف کیا اورکانوں پر لکاتے ہوئے کہا۔
چاچا خیریت ہی تو نہیں ہے… شہاب نے جلدی جلدی جواب دیا۔ اچھا بھئی چلو اندر… اطمینان سے بیٹھو ! اور بتاؤ کیا پریشانی ہے ۔
چاچا ! چاچا! کہتے ہوئے شہاب نے پوری تفصیل بیان کر دی۔
رحمت چاچا نے غور سے سوچا اور کہا:
 ’’ برخوردار معاملہ تو بہت پیچیدہ ہے … ہوں! تو اب تو کچھ نہیں ہوسکتا ۔ تین طلاق واقع ہو چکی ہے۔
نہیں چاچا! خدا کے واسطے ہماری مدد کرو …کوئی راستہ بتاؤ؟ ہم بہت امید سے آپ کے پاس آئیں ہیں۔ شہاب نے چاچا کے پیر پکڑ لئے۔
اچھا ہاں! ایک راستہ ہے۔
چاچا جلدی بتائیے شہاب نے کہا ۔ وہ کون سا راستہ ہے؟
میاں راستہ بہت مشکل ہے۔ چاچا نے کہا۔
چاچا میں اپنی پری کے لئے مشکل سے مشکل راستہ طے کرنے کو تیار ہوں۔
آپ ! آپ بس بتائیے مجھے کیا کرنا ہے؟
اچھا میاں اگر تم اتنی ہی مند کرتے ہو تو وہ راستہ ہے حلالہ!
حلالہ ! شہاب نے دہراتے ہوئے کہا۔
ہاں حلالہ! تمہاری بیوی کو پہلے کسی اور مرد سے شادی کرنی ہوگی اور پھر جب وہ مرد تمہاری بیوی کو  طلاق دے گا تو تب کہیں جاکر تم اپنی بیوی سے دوبارہ شادی کر سکوگے۔
لیکن چاچا! میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو میری مدد کرسکے۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے شہاب نے چاچا کی طرف دیکھا اور کہا چاچا کیا آپ میری پری سے ایک رات کے لئے شادی کریں گے۔
نہیں میاں! میں بزرگ آدمی اب کہاں شادی وادی کروں گا۔ چاچا نے ذرا مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
نہیں چاچا! آپ میری مدد کریں ۔ بس ایک رات کی ہی تو بات ہے۔
چاچا پلیز میری مدد کیجیے ۔ میں زندگی بھر آپ کا یہ احسان نہیں بھولوں گا۔
اچھا میاں… اگر تم اتنا ہی اسرار کر رہے ہو تو میں تیار ہوں… یہ کہتے ہوئے چاچا نے موٹی موٹی آنکھوں کوگھمایا… اور ہونٹوں پر زبان کو پھیرا… اور چہرے پر عجیب سی خوشی ظاہر ہونے لگی… مانو بڑھاپے پر جیسے جوانی آگئی ہو…اور پھر سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا… اچھا اگر تم اتنی ضد کر رہے ہو تو میں تیار ہوں …صرف تمہارے لئے۔
فوراً مولوی کو بلاکر نکاح پڑھوایا گیا۔
اچھا تم اب ایسا کرو۔ جاؤ گھر اور آرام کرو۔ چاچا نے شہاب کو ٹرخاتے ہوئے کہا۔
رحمت چاچا میں کل صبح آؤں گا۔ شہاب نے بڑی عاجزی سے چاچا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
ہاں بھئی! صبح آ جانا ! اب جاؤ رات کافی ہو چکی ہے ۔ کہتے ہوئے چاچا نے دروازہ بند کر دیا۔
شہاب اپنے بستر پر لیٹ کر بے چینی سے کبھی اس طرف کروٹ لیتا اور کبھی اس طرف۔ لیکن اسے کس کروٹ چین نہیں آرہا تھا۔ ایک ایک لمحہ  صدیوں کی طرح گذر رہا تھا۔ جیسے تیسے کرکے رات کٹی اور فجر کی اذان ہوئی تو شہاب دوڑتے ہوئے رحمت چاچا کے فلیٹ پر گیا۔ اور زور زور سے ڈور بیل بجانے لگا۔ اندر سے کسی خاتون کی آواز آئی۔ ارے کون ہے؟ اتنی صبح کون آگیا۔ کہتے ہوئے خاتون نے دروازہ کھولا۔ تو شہاب اسے ایک طرف کرتے ہوئے فلیٹ میں رحمت چاچا ، رحمت چاچا پکارتے ہوئے گھس گیا… لیکن رحمت چاچا کہیں نظر نہیں آئے… تو عورت سے پوچھا رحمت چاچا ؟
ارے کون رحمت چاچا ! کہیں تم اس بوڑھے کی بات تو نہیں کر رہے ہو جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی؟
ہاں ! میں انھیں کی بات کر رہا ہوں۔ وہ کہاں ہیں؟ جلدی بتاؤ نا؟
وہ تو رات ہی فلیٹ چھوڑ کر چلے گئے۔
چلے گئے ! لیکن کہاں؟ کیوں؟
بھئی پتہ نہیں ۔ کہاں گئے ؟ کہہ رہے تھے بیگم کو لے کر دوسرے شہر جارہا ہوں اب وہیں رہیں گے۔
 
���
 اسسٹینٹ پروفیسربابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی، راجوری
موبائل نمبر؛7006979242

تازہ ترین