تازہ ترین

لمحہ ٔ گُریزاں

کہانی

تاریخ    18 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


طارق شبنم
بھیانک کالی رات اور اسپتال کے خوف زدہ کرنے والے ماحول میں فکر و اضطراب میںڈوبی خدیجہ ایمر جنسی واڑ میںچار پائی پر بے ہوش پڑے اپنے شوہر کے سرہانے بیٹھی حالت ندامت میںاللہ سے بخشش طلب کرتے ہوئے اس کی صحت یابی کے لئے دُعا کر رہی تھی۔ شوہر کی اچانک اس طرح حالت بگڑنے پر وہ انگشت بدندان تھی جب کہ گھر میں موجود بیٹی ،جس کا پائوں بھاری تھا،کی فکر بھی اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔
اس کا شوہر حفیظ دن بھر کی کٹھن دوڑ دھوپ سے فارغ ہو کر شام کو جب گھر پہنچا تو اس کا انگ انگ دردکی شدت میں ڈوبا ہوا تھا ،رنج و الم کی بے شمار لکیریں اس کے ماتھے پر رقص کر رہی تھیں۔وہ بغیر کچھ کھائے پئے گُم سم کمرے میں دبک کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ رات دیر گئے اس کے سر میں درد کی شدید لہریں اٹھنے لگیں اور وہ سخت بے قراری کی حالت میں اپنا سر پیٹنے لگا ۔کچھ دیر بعد ہی اس کے نتھنوں سے خون ٹپکنے لگا۔خدیجہ نے اس سر پر ٹھنڈا پانی ڈالا اور کئی دوسری تدابیر آزمائیں لیکن بے سود ۔جب نتھنوں سے خون کے پھوارے پھوٹنے لگے تو خدیجہ نے چند پڑوسیوں کی مدد سے اس کو اسپتال پہنچایا ۔
’’خدیجہ ۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔وہ بے چا۔۔۔۔۔۔‘‘۔
قریب آدھی رات کو بے ہوشی کی حالت میںاس کے ہونٹ دھیرے سے بڑ بڑائے۔خدیجہ چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوگئی لیکن وہ بدستور کوما جیسی حالت میں ہی تھا ۔خدیجہ کے با ر بار پکارنے پر بھی اس نے لب کھولے نہ آنکھیں ۔۔۔ خدیجہ کے چہرے پر افسردگی کی برف جم گئی۔وہ اس کے چہرے ،جس سے جیسے سارا خون نچوڑ لیا گیا تھا ،کو تکتے ہوئے گہری سوچوں میں ڈوب گئی ۔۔۔۔۔۔
حفیظ صبح حسب معمول خوش وخر م بازار کی طرف نکلا تھا ۔چو راہے پر پہنچ کر اس کا سامنا بستی کے آسودہ حال کھڑ پہنچ مقبول خان سے ہوا جس کے ہاتھ میں دس اور پانچ روپے کے کچھ نوٹ تھے ۔اسے کچھ بات کرنے سے پہلے ہی اس کا دھیان علی احمد کی بیوہ زونی کی طرف گیا جو بس سٹاپ کے نزدیک ایک دکان کے تھڈے پر درد سے تڑپ رہی تھی جبکہ اس کی جوان بیٹی بے بسی کی حالت میں اس کے پاس بیٹھی تھی اور ارد گرد کئی تماش بین گپ شپ میں مصروف تھے ۔حفیظ لپک کے وہاں گیا اور زونی کا حال دریافت کرنے لگا ۔
زونی دوران شب بیمار ہوئی تھی ۔صبح جب بیٹی نے اس کو مقامی اسپتال پہنچایا تو وہاں ایک خاکروب کے سوا کوئی بھی موجود نہیں تھا، لیکن اسپتال کی بغل میں موجود دوا فروش نے اس کا طبی معائینہ کرکے اس کی خراب حالت کے پیش نظر اسے فی الفور علاج کے لئے شہر کے اسپتال میں لے جانے کا مشورہ دیا ۔ مشورہ سن کر بے چاری لڑکی، جس کے ہاتھ بالکل خالی تھے ،کے پائوں تلے زمین کھسکنے لگی اور وہ گھبرا کر خوف زدہ ہرنی کی طرح مدد کے لئے ہاتھ پیر مارنے لگی ۔اسی لمحے مقبول خان کا گزر وہاں سے ہوااور زونی کے حالات جان کر اس کی غیرت جاگی ،اس نے بڑے ہی چائو سے دس روپے کا نوٹ جیب سے نکال کر چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کردی۔۔۔۔۔
لڑکی روتے ہوئے حفیظ کو اپنی رودار سنا رہی تھی تو مقبول خان بھی آ دھمکا اور ہاتھ میں موجود رقم لڑکی کی طرف بڑھاتے ہوئے مغرور لہجے میں بولا ۔
’’ پورے بازار میں گھوم پھر کے میں نے تین سو روپے جمع کئے ہیں ،یہ لے اور جلدی سے زونی کو شہر لے جا‘‘ ۔
لڑکی نے روپے لئے اور مایوس نگاہوں سے اماں کی اور تکنے لگی کیوں کہ تین سو روپے میں علاج تو کیا شہر پہنچنا بھی ممکن نہیں تھا ۔زونی کی حالت دیکھ کر حفیظ ماہی بے آب کی طرح تڑپ اُٹھا ،اس کے دل میں کانٹے سے چبھنے لگے ۔
’’حوصلہ رکھو بیٹی ۔۔۔۔۔۔ اللہ سب ٹھیک کردے گا ،جب تک میں واپس نا آئوں تم یہی رکنا‘‘ ۔
  اس نے مقبول خان کی طرف نفرت اور غصے سے بھر پور نظر ڈالتے ہوئے لڑکی کا شانہ تھپتھپاتے ہوئے شفقت بھرے لہجے میں کہااور الٹے پائوں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے واپس گھر پہنچ گیا ۔
’’خدیجہ ۔۔۔۔۔۔ وہ تمہارے پاس کچھ روپے ہیں وہ مجھے دے دو۔۔۔۔۔۔ جلدی‘‘ ۔
’’وہ جو لیلیٰ کے لئے۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’ہاں ۔۔۔۔۔۔ وہی ،ذرا جلدی کرو۔۔۔۔۔۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے‘‘۔
اس نے خدیجہ کی بات کاٹتے ہوئے جھنجھلا کر کہا ۔
خدیجہ نے اس کی تشویش کو بھانپتے ہوئے جلدی سے رقم نکال کر اس کے حوالے کردی ۔
’’میں شہر جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
کہہ کر وہ تیز تیز قدموں سے واپس نکلا ۔حفیظ، جو مالی لحاظ سے زیادہ خوشحال نہیں تھا، نے یہ دو ہزار روپے اپنی بیٹی،جس کے پائوں بھاری تھے ،کے لئے سنبھال کے رکھے تھے تاکہ ضرورت پڑنے پر کام آسکیں ۔اس کے جاتے ہی خدیجہ کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمودار ہوگئے کیوں کہ بیٹی کی زچگی کا وقت قریب تھا اور گھر میں اب ایک پھوٹی کوڑی بھی موجود نہیں تھی۔
حفیظ گھر سے نکل کر سیدھے خواجہ رحیم کی دکان پر پہنچ گیا اور اس سے کچھ رقم اُدھار مانگی، جو اس نے بغیر کسی پس و پیش کے دے دی کیوں کہ حفیظ پوری بستی میں نہ صرف اپنی سچائی اور ایمانداری کے لئے مشہور تھا بلکہ صحیح معنوں میں درد دل رکھنے والا اس چنار کے مانند تھا جو خود تپتی دھوپ میں جھلستا ہے لیکن تھکے ماندے مسافروںکو ٹھنڈی چھائوں فراہم کرتا ہے ۔خواجہ رحیم سے رقم لے کر وہ دوڑتے ہانپتے بس سٹاپ پر پہنچا ۔ اس پر نظر پڑتے ہی زونی کی بیٹی ،جو عالم یاس و اضطراب میں بے چینی سے اس کی راہ تک رہی تھی ،کی نم آنکھوں میں امیدوں کے جگنو چمکنے لگے ۔حفیظ نے وقت ضایع کئے بغیر عجلت میں زونی کو ایک سومو گاڑی میں سوار کیا اور خود بھی اسی کے ساتھ شہر کی طرف رو انہ ہوا ۔ زونی کی نازک حالت کے پیش نظر اس نے ڈرائیور سے گاڑی تیز چلانے کی عاجزانہ گزارش کی جس سے متاثر ہو کر ڈرائیور نے سڑک کی خستہ حالی کے باوجودگاڑی کی رفتار بڑھادی ،تب جا کے حفیظ کو کچھ اطمینان سا ہوا ۔اب اس کی ایک نظر زونی کے چہرے پر تھی تو دوسری نظر یہ دیکھتی تھی کہ سفر کتنا طئے ہو گیا ۔آدھے سے زیادہ سفر طئے کرنے کے بعد گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی ۔آگے سڑک پر رکی ہوئی گاڑیوں کی لمبی قطار دیکھ کر وہ تذبذب میں مبتلا ہو کر ہاتھ ملنے لگا ۔پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ضروری سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب لوگ سرکار کے خلاف بطور احتجاج سڑک پر دھرنا مار کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔وہ حواس باختگی کے عالم میں دھرنے کی جگہ پر پہنچ گیا جہاں درجنوں مرد و زن بیچ سڑک پر بیٹھ کے سرکار کے خلاف جم کر نعرے بازی کر رہے تھے۔ جبکہ کچھ کھڑ پیچ چھاتیاں پھیلائے اندھوں میں کانے راجے بنے ان کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے ۔حفیظ نے انتہائی عاجزی سے غم زدہ لہجے میں اس یقین کے ساتھ انہیں پوری روئیدار سنادی کہ مریضہ کی نازک حالت اور اس کی بزرگی کا پاس لحاظ کرتے ہوئے وہ انہیں جانے کی اجازت دیں گےلیکن ان کانے راجوں پر اس کی فریاد کا کچھ اثر نہ ہوا ۔انہوں نے اس کی ایک نہیں سنی اور متکبرانہ انداز میں ٹوکتے ہوئے کہا۔
’’جب تک نہ حکام بذات خود یہاں آکر ہمارے مسائیل حل کریں گے ہم کسی بھی گاڑی کو جانے کی ہر گز اجازے نہیں دیں گے‘‘ ۔
اگر چہ احتجاج کرنے والوں میں شامل چند لوگوں نے بیماروں کو جانے دینے کی فہمائیش بھی کی لیکن کھڑ پیچوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بات نہیں بنی ۔زندگی اور موت کے درمیان تڑپ رہی ایک انسانی جان کے تئیں اس قدر غیر انسانی روئے پر حفیظ کے وجود میں ہل چل مچ گئی ۔تأسف اور تیش کے ملے جلے جذبات سے اس کا چہرہ خشم ناک ہو گیا لیکن حالات کی نزاکت کے پیش نظر اس کے پاس خاموش رہ کر زہر کا گھونٹ پینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔وہ بے بس ہو کر واپس آیا ۔زونی کی حالت لمحہ بہ لمحہ نازک ہوتی جا رہی تھی جب کہ ماں کی بگڑ تی حالت دیکھ کر بیٹی کی آنکھوں سے آنسئوں کی بارش ہو رہی تھی ۔یہ تکلیف دہ صورت حال حفیظ کے لئے کسی بڑے عذاب سے کم نہیں تھی ۔ اس کا پریشان دماغ موٹر کے پہیے کی طرح گھومنے لگا اور جلد ہی اس کے دماغ میں ایک نئی ترکیب سوجھی ۔اس نے ڈرائیور کو واپس جاکر دوسرا راستہ اختیار کرنے کو کہا جو اگر چہ کافی طویل تھا لیکن اس کے سوا دوسرا کوئی چارہ بھی نہیں تھا ۔ڈرائیور نے آنا کانی کرنی چاہی تو حفیظ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ۔
’’ہم یہاں بیٹھے بیٹھے ایک انسانی جان کے ساتھ کھلواڑ نہیں کر سکتے ۔تمہیں جتنے روپے چاہیں مجھ سے لے لو لیکن ہمیں جلدی سے اسپتال پہنچا دو‘‘ ۔
روپیوں کی بات سن کر ڈرائیور بھیگی بلی بن گیا اور بغیر کسی چوں چرا کے گاڑی واپس موڑ کر نئے راستے سے تیز رفتاری سے سفر شروع کیا ۔            
  قریب ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد شہر میں داخل ہوتے ہی وہ پھر سے بری طرح سے پھنس گئے ۔ چھوٹی بڑی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں وقفے وقفے سے چند قدم رینگ کر رک جاتی تھیںاگر چہ ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار صورت حال کو سنبھالنے اور ٹریفک کی روانی کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہے تھے، لیکن گاڑیوں کے سیلاب کے آگے ان کی یہ کو ششیں رائیگاں ثابت ہو رہی تھیں۔زونی ،جس نے اب تڑپنا اور کراہنا بھی چھوڑ دیا تھا ،کی حالت بہت زیادہ بگڑ چکی تھی ،اس کی سانسیں اگر چہ اب بھی چل رہی تھیں لیکن اس کی آنکھیں مردہ اور چہرے کا رنگ زرد پڑگیاتھا،وہ ایک بے جان لاش کی طرح گاڑی میں پڑی تھی ۔ حفیظ ، جواس کی حالت پر بن جل کے مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا سخت بے چینی کی حالت میں گاڑی سے نیچے اترا اور پولیس اہلکاروں کی منت سماجت کرنے لگا ۔
’’چاچا ۔۔۔۔۔۔ ہم کیا کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہاں کے لوگ قاعدے قانوں کو کسی خاطر میں ہی نہیں لاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اپنی ہی من مانیوں اور غلط ڈرائیونگ کی وجہ سے خود بھی پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ہمارے لئے بھی مسائیل کھڑے کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس آفیسر نے فنکارانہ انداز میں اپنا پلو جھاڑتے ہوئے کہا ۔وہ نا امید ہو کر واپس آیا اور زونی کی بیٹی جو گاڑی میں زار و قطار رو رہی تھی کو دلاسہ دینے لگا ۔قریب آدھا گھنٹہ اسی حالت میں رہنے کے بعد اچانک چمتکار ہو گیا ۔ایک زور دار سائیرن بجنے کے ساتھ ہی ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار ایک دم متحرک ہو گئے اور لال بتیوں والی موٹروں کے قافلے کاگزر بغیر کسی رکاوٹ کے ممکن بنانے کے لئے بڑی مستعدی سے جار حانہ انداز میں اپنا فرض نبھانے لگے ،جس کے نتیجے میں چند منٹوں میں ہی ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی اور ان کی گاڑی بھی اسپتال کی طرف چل پڑی ۔
’’ او مائی گاڑ ۔۔۔۔۔۔ بہت دیر ہو چکی ہے‘‘ ۔
ایمر جنسی واڑ میں داخل کرکے اس کا معائینہ کرنے والے ڈاکٹر نے انگلی دانتوں تلے دباتے ہوئے کہا اور بڑی مستعدی سے اس کا علاج شروع کیا لیکن بے سود ۔علاج شروع ہونے کے کچھ دیر بعد ہی زونی نے دھیرے سے آنکھیں کھولیںاور اپنی بیٹی پرایک بھر پورحسرت بھری نگاہ ڈالنے کے بعد حفیظ کی طرف دیکھتے ہوئے تھکے سے لہجے میں گویا ہوئی ۔
’’میں اپنی اس یتیم اور بے کس بچی کو تمہیں سونپتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ اس کا خیال ر رکھنا۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔
بات پوری ہونے سے پہلے ہی زونی کا دم گھٹ کر گلے میں پھنس گیا اور چند لمحے تڑپنے کے بعد اس کی آنکھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گئیں، جس کے ساتھ ہی اس کی جوان سال بیٹی اپنے بال نوچنے لگی جبکہ حفیظ ،جس کے پورے وجود میں درد کی ایک ٹیس بجلی کی سی رفتار میں دوڑ گئی ،ہکا بکا ہو کر رہ گیا ۔اسے لگا کہ اس کے پیروں تلے زمین شق ہو رہی ہے ۔
’’خدیجہ ۔۔۔۔۔۔ خدیجہ ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ 
صبح کی پو پھٹتے ہی پریشان سوچوں کی بھول بھلیوں میں کھوئی خدیجہ ،جس پراب غنودگی سی چھا گئی تھی، کی سماعت سے دفعتاً حفیظ کی آواز ٹکرائی ۔
’’ہاں  ہاں بولو ۔۔۔۔۔۔ میں یہیں ہوں‘‘۔
اس نے محبت اور مٹھاس بھرے لہجے میں کہا ۔حفیظ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ڈاکٹر واڑ میں داخل ہوکر حفیظ کا طبعی معائینہ کرنے لگا۔
’’ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔۔ اب کیسی حالت ہے ان کی‘‘ ۔
خدیجہ نے پوچھا۔ 
’’یہ اب بالکل ٹھیک ہیں ،تھوڑی کمزوری ہے جو چند دن کے آرام سے ٹھیک ہوجائے گی ۔اب آپ گھر جا سکتے ہو‘‘۔
ڈاکٹر نے نسخے پر کچھ لکھتے ہوئے کہا اور چلا گیا جس کے ساتھ ہی حفیظ ،جس کی آنکھوں میں درد کا بیکراں سمندر ساپنہاں تھا،خدیجہ کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’خدیجہ ۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔ وہ بے چاری بے کس زونی بے موت مر گئی ،اگر وقت پر اسپتال پہنچ گئی ہوتی تو شاید ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسئوں کی دھار نکل کر رخساروں پر بہنے لگی جب کہ خدیجہ، جس کی آنکھوں کی نمی پہلے ہی بغاوت پر آمادہ تھی ،کی آنکھوں سے بھی موٹے موٹے آنسوںایسے گرنے لگے جیسے موم کے گرم گرم قطرے قطار در قطار ٹپکتے ہیں  ۔
٭٭٭
رابطہ؛ اجس بانڈی پورہ (193502)کشمیر 
ای میل؛tariqs709@gmail.com