تازہ ترین

سماجی تانے بانے کا بکھرائو۔۔۔ آخر کیوں؟

تاریخ    17 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


 گوکہ 5اگست 2019کے بعد کشمیر کا سیاسی نقشہ بدل چکا ہے اور یونین ٹریٹری کی صورت میں عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں لیفٹنٹ گورنر سرکارچلا رہے ہیں تاہم اس سیاسی بحث سے قطع نظر وادی میںکورونا وباء کے باوجود گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران سماجی سطح پر متعدد ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن سے اس سماج کے بتدریج بڑھتے ہوئے کھوکھلے پن کی تصدیق ہوجاتی ہے ۔ جس طرح صنف نازک کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کی المناک کہانیاں اخبارات میں شائع ہورہی ہیں،انہوں نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ایک وقت تھا جب یہی قوم اپنی شائستگی ،اخلاق اور ایمانداری وجہ سے پوری دنیا میں اپنی مثال آ پ تھی، تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارے سماج کا تانا بانا اس حد تک بکھر گیا کہ اب ہماری انفرادی شناخت کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے۔ اگر چہ اس سب کیلئے کئی ایک عوامل کارفرما ہیں تاہم عمومی طور پر نوجوان نسل کی بے حسی اور انتظامی غفلت شعاری کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا جارہا ہے لیکن کیا واقعی ہماری نوجوان نسل اکیلی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوگئی ہے ؟۔ مسئلہ کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ حقیقت سے بعید نظر آرہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ نوجوان نسل جس راستے پر گامزن ہے اس کی منزل اخلاقی اعتبار سے تباہی کے سوا کچھ اور نہیں لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ نوجوان نسل کی اس حالت کیلئے ہمارا پورا سماج ذمہ دار ہے۔سماج کی بنیاد افراد پرہے اور افراد کی پرورش سب سے پہلے گھروں میں ہوتی ہے اور گھر کسی بھی فرد کی پہلی دانش گاہ ہے۔سماج کے بکھرائوکیلئے ہمیں پہلے اپنا اور اپنے گھر کا محاسبہ کرنا ہوگا۔اگر گھر کا ماحول صحیح ہو توبچے کی صحیح انداز میں پرداخت ہونا قدرتی امر ہے۔اس زاویہ سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ ہمارے گھروں کے اندر وہ ماحول نہیں رہا ہے جہاں بچے کو واقعی مثالی انسان بننے کا درس دیا جاتا ہے حالانکہ ماضی قریب میں یہی گھرانے اخلاقی قدروں سے انسانی وسائل کی تشکیل کرتے تھے اور نتیجہ کے طور پر ہر لحاظ سے مہذب اورجرائم سے پاک سماج قائم تھا جبکہ ان دنوں تعلیم اور تعلّم اورعلم وآگہی کو اتنا فروغ نہیں ملا تھا جتنا آج کل دیکھنے کومل رہاہے لیکن اس کے باوجود اخلاقی عروج کا یہ عالم تھا کہ بھیانک قسم کے جرائم ، جو آئے دن دیکھنے کو ملتے ہیں، سے کشمیری عوام قریب قریب نا آشنا تھے۔اب علم و آگہی بھی ہے اورتعلیم بھی عام ہے لیکن سماج کا حال بے حال۔نہ ماضی کی وہ آن رہی نہ شان بلکہ اب ہماری کرتوت ایسی کہ شرم سے سر جھک جاتا ہے۔گرد وپیش کی حالت کو دیکھیں تو زبان گنگ اور ، قلب و نگاہ مضطرب ہوجاتی ہے مگر کیا یہی بے حسی اور خاموشی اس کا علاج ہے ،ہرگز نہیں۔ موجودہ نازک ترین مرحلہ پر ہماری خاموشی کا مطلب ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو ورثے میں ایک ایسا سماج دیتے جارہے ہیں جس کو کسی بھی طرح منظم اور مہذب قرار نہیں دیا جاسکتا۔یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ اس وقت بھی سماج کے تئیں ہمیں اپنی ذمہ داریوںکا احساس نہیں ہورہا ہے۔حالیہ انسانیت سوزواقعات نے جس طرح سماج کے باشعور حلقہ کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے،اس کا تقاضا یہ تھا کہ ہم غفلت کی نیند سے بیدار ہوکر اپنے دل و دماغ پر حائل مادی پردوں کو ہٹا کر سماج کو بکھرنے اور اپنے کل کو اس دلدل سے نکالنے کی سبیل پیدا کرنے کیلئے عملی طورمیدان میں کود پڑتے لیکن ہمارا ضمیر اس حد تک خفتہ ہوچکا ہے کہ قوم کی عفت مآب بیٹیوں کی چیخ و پکار ہمارے بہرے کانوں تک پہنچتی ہی نہیں۔ دینی جماعتیں ،سیول سوسائٹی اور دیگر رفاعی ادارے حسب دستور اس حساس معاملہ پر بیان بازی میںمصروف ہیں۔یہ تمام ادارے ہر برائی کیلئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے کے عادی بن چکے ہیں تاہم اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے اپنے گریباں میں جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی ہے حالانکہ اس تشویشناک رجحان کیلئے سماج کا ہر فرد برابر کا ذمہ دار ہے۔حالات کا تقاضا ہے کہ دوسروں کو موردالزام ٹھہرانے اور حکومت پر تکیہ کرنے کی بجائے ہم خود بیدار ہوجائیں اور اپنی شناخت کے تحفظ کیلئے کم از کم اس مسئلہ پر مادی دنیا کی تگ ودو سے چند لمحے نکال کرغور وفکرکریں کہ سماج کی موجودہ شرمناک حالت کیلئے کون سے عوامل ذمہ دار ہیں اور طوفان بدتمیزی کے بھنور میں پھنسی کشتی کو کیسے کنارے لگایا جاسکتا ہے۔اس ضمن میں سیاسی اور نظریاتی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک متحرک اور مؤثر آگاہی اور انتباہی مہم چلانے کی ضرورت ہے جس میں سماج کے ہر طبقے کی شمولیت لازمی ہے کیونکہ مسئلہ پورے سماج کودرپیش ہے۔اس کے علاوہ اصلاحی عمل گھروں سے شروع کرکے مدرسوں اور دیگر تعلیمی اداروں اور معلّمین کا پوسٹ مارٹم بھی ناگزیر بن چکا ہے۔اگر گھر اور مدارس بہتر ہوں تواعلیٰ اخلاقی قدروں کے حامل سماج کی تشکیل یقینی ہے۔

تازہ ترین