قتلِ ناحق گناہِ عظیم

کتاب و سنت

تاریخ    16 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


پیرزادہ بلال یوسف
ایک مسلمان کا جان و مال، عزت وآبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے،کسی کا مال لینا، کسی کی عزت سے کھیلنا گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ میں بھی سخت ترین گناہ، سخت ترین فسق وفجور، بہت بڑا ظلم وستم لیکن ان سب سے بڑا گناہ ظلم ہے کہ مسلمان کو قتل کر دیا جائے یا قتل کرادیا جائے، یا اس کی جان لے لی جائے۔حدیث میں ہے:’’دنیا کا ختم ہوجانا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے معمولی چیز ہے(ترمذی شریف)مسلمانوں کے خون کی اس قدر قیمت ہے کہ دنیا کی تباہی وبربادی ایک مسلمان کے خون کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی، اللہ کو دنیا کا برباد کر دیا جانا منظور ہے مگر مسلمان کا قتل کر دیا جانا منظور نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:’’اگر بالفرض سارے آسمان وزمین والے کسی مومن کے قتل میں شریک ہوجائیں تو اللہ تعالی سب کو جہنم میں جھونک دے گا‘‘۔(رواہ ترمذی)
ارشاد ربانی ہے جو کسی مسلمان کو قصد اً قتل کر ڈالے اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔اس پر اللہ کا غضب ہے اور اس کی لعنت ہے ،ایسے شخص کے لئے اللہ تعالی نے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔(سورہ نساء، آیت 93) کسی مسلمان کو قتل کرنا درکنار، کسی مسلمان کے قتل میں ذرہ برابر بھی اعانت ومدد، خواہ مشورہ کی ہو، قاتل کے ساتھ ہمدردی کی ہو،ساز باز میں شامل ہو،قتل سے خوش ہونے کی ہو ،اتنا بڑا گناہ ہے کہ یہ شخص قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس حال میں حاضر ہوگا کہ پیشانی پر لکھا ہوگا ’’ اللہ کی رحمت مایوس‘‘(ابن ماجہ) ۔سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی فرماتے ہیں’’مت قتل کرو کسی جان کو ،کہ جسے اللہ نے حرام فرمایا ہے مگر حق کے ساتھ، اور جو جو مظلومانہ قتل کر دیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے پس وہ قتل کے بارے میں حدّ شرع سے تجاوز نہ کرے،وہ نصرت ومدد سے نوازا گیا ہے‘‘۔کسی ایک انسان کو ناحق قتل کرڈالنا، پوری انسانیت کو قتل کر ڈالنا ہے کیونکہ ایک کے قتل نا حق سے، دوسرے بھی جرم دلیر ہوتے ہیں، لہٰذا جس نے ایک کو قتل کر کے خون نا حق اور بدامنی وشروفساد کی بنیاد رکھی، گویا اس نے قتل نا حق اور عام بدامنی وشروفساد کا دروازہ کھول دیا اور جس نے کسی ایک کو پنجہ قاتل سے رہائی دلائی، اس نے اپنے عمل سے گویا سارے انسانوں کو بچانے اور مامون کرنے کی دعوت دی۔
ارشاد ربانی ہے’’اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جو شخص کسی شخص کو بلا معاوضہ دوسرے شخص کے یا بغیر فساد کے جو کہ زمین پر اس سے پھیلا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو قتل کر ڈالا، اور جو شخص کسی کو بچالے،گویا اس نے تمام لوگوں کو بچالیا(سورہ مائدہ آیت ۳۳) ۔ایک مسلمان، دوسرے مسلمان کی گردن مارے ،اس کے قتل کے در پے ہو،ایمان واسلام سے بہت بعید ہے،یہ راستہ سیدھا جہنم میں جاتا ہے۔اسی طرح دو شخص ایک دوسرے کی جان لینے نکلے ہوں، دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کے چکر میں ہوں اور موقع تلاش کرتے ہوں اور ان میں سے ایک کامیاب ہو گیا تو دونوں جہنم میں جائیں گے، قاتل بھی مقتول بھی۔حدیث میں آیا ہے کہ جب مسلمانوں کی ایک دوسرے سے اس طرح مد بھیڑ ہو کہ ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھائیں تو دونوں جہنم کے کنارے پہنچ جاتے ہیں۔پھر جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو دونوں جہنم میں چلے جاتے ہیں۔دوسری روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعیں نے دریافت کیا قاتل کا جہنم میں جانا سمجھ میں آتا ہے ،مقتول کیوں جہنم میں جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’وہ بھی تو اس کو قتل کرنے کا حریص تھا (مگر اتفاق سے کامیاب نہ ہو سکا خود قتل ہوگیا‘‘(بخاری ومسلم )۔ اس قتل کو مظلومانہ قتل نہ کہیں گے، قاتل کو قتل کا گناہ ہوگا ہی ،مقتول بھی جہنم میں جانے سے نہ بچ سکے گا۔ 
حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعیں کے عظیم الشان مجمع کو خطاب کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا:میرے بعد کافروں جیسے نہ ہوجاتا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔میرے عزیز ہم وطنو!حشر کے میدان میں حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کی پوچھ ہوگی لیکن حقوق العباد میں سب سے پہلے خونِ ناحق کا فیصلہ ہوگا۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ ہوگا(بخاری ومسلم )۔ مقتول قاتل کو پکڑ کر اللہ کے سامنے لائے گا۔اس کی پیشانی اور سر پکڑ کر لائے گا، سر کے بالوں کو کھینچتا اور گھسیٹا ہوا لائے گا، مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، وہ کہے گا میرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا تھا۔یہاں تک کہ بالکل عرش الہٰی کے قریب پہنچ جائے گا یعنی اللہ کے انتہائی قریب جاکر فریاد کرے گا۔داد رسی چاہے گا، ظلم کا بدلہ چاہیے گا۔سوچئے! اس وقت اللہ کے قہر و غضب کا کیا عالم ہوگا۔اور قاتل کس کَسَمپْرسی کے عالم میں ہوگا، اس وقت کی جو درگت بنے گی، اس کے کالے کارنامے اور گھناؤنے فعل کی جو سزا ملے گی، اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
مسلمان کو ہتھیار دکھانا حرام ہے، مسلمان کو خوف زدہ کرنا حرام ہے، مسلمان پر کسی ہتھیار سے اشارہ کرنا بھی حرام ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ کسی دوسرے مسلمان کو ڈرائے دھمکائے(ابودائود )۔ دوسری حدیث میں ہے:جس نے ہم پر تلوار اٹھائی وہ ہم سے نہیں(بخاری )۔ ایک اور حدیث میں ہے:جس نے اپنے مسلمان بھائی کی طرف لوہے یعنی ہتھیار سے اشارہ کیا، اس پر فرشتے لعنت کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسے رکھدے، اگر چہ اس کا سگا بھائی ہو(بخاری شریف )۔بظاہر سگے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ، مارنے اور جان لینے کے لئے نہیں ہوسکتا، لیکن پھر بھی منع کیا گیاتو کسی اور کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرنے کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے اور اگر مارنے کا ارادہ ہو تو اس کی اجازت کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، اس لئے کہ اس کو نہیں معلوم شاید شیطان اس کے ہاتھ سے ہتھیار کھینچ لے اور اس کی وجہ سے وہ دوزخ کے گڑھے میں جاپڑے(بخاری ومسلم )۔ حدیث میں آتا ہے کہ مسجدوں، بازاروں اور عام جگہوں پر کھلا ہتھیار لے کر نہ چلیں، تلوار کو نیام میں رکھ لیں،تیر کو کمان میں رکھ لیں، بندوق بھری ہوئی نہ ہو، چاقو کھلا ہوا نہ ہو۔کہیں کسی مسلمان کو لگ نہ جائے(بخاری ومسلم )۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ اس شخص کیلئے ہے جس نے میری امت پر تلوار کھینچی(ترمذی شریف )۔ عبداللہ بن مْغَفَّل ؓنے ایک شخص کو دیکھا کہ کنکری پھینک رہا ہے، آپ نے فرمایا کنکری مت پھینکو، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سے نہ شکار کیا جاسکتا ہے نہ کسی دشمن کو زخم لگایا جاسکتا ہے۔لیکن تم یوں پھینک پھینک کر کسی کے دانت توڑ دو گے کسی کی آنکھ پھوڑ دو گے (بخاری ومسلم ) ۔
 اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:’’ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، ان میں آپس میں ہمدردی، میل ملاپ اور غمگساری ہونی چاہئے، نہ کہ دشمنی اور عداوت ہو،ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہو۔ ایک دوسرے کو مٹانے اور قتل کردینے کے درپے ہو( سورہ حجرات آیت نمبر10)۔معاذاللہ معاذاللہ کتنا خوفناک اور خطرناک یہ گناہ ہے۔اس پر اللہ کے یہاں کتنی سخت پکڑ ہے ،جہنم کی دہکتی ہوئی آگ، ایک دوسرے کو کھاتے ہوئے انگارے، سانپ، بچھو، لہو، پیپ، کانٹے دار پھل، کھولتاہوا آنتوں کو کاٹ کر رکھدینے والا پانی، کیا کسی کے اندر طاقت ہے کہ اس عذاب کو سہہ سکے، برداشت کرسکے؟ اس کی ہولنا کی، اذیت وتکلیف کا اندازہ درکنار، تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔مظلوم تو شہید مرے گا، قاتل کے لئے ہمیشہ کی ہلاکت وبربادی لکھدی جائے گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں’’ جو اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا قتل کیا گیا وہ شہید ہے جو اپنی جان کی حفاظت کرتا ہوا قتل کیا گیا وہ شہید ہے، جو اپنے دین کی حفاظت کرتا ہوا قتل کیا گیا وہ شہید ہے ۔جو اپنے اہل وعیال کی حفاظت کرتا ہوا قتل کیا گیا وہ شہید ہے(ترمذی ) ۔
ہائے افسوس!ہم مسلمان دنیا کی چند روزہ زندگی اور اس کی آسائش وراحت کے اتنے حریص ہوگئے ہیں کہ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرسکتے، زندہ نہیں رہنے دینا چاہتے، کس کو ؟ اسی کو جو ہمارا دینی بھائی ہے ،جو رشتہ میں ہمارے ہر رشتہ سے بڑھ کر ہے،خاندانی اور نسبی رشتہ سے بھی بڑھ کر دین وایمان کا رشتہ ہوتا ہے۔اتنے عظیم الشّان رشتہ وتعلق کو بھول کر مومن بھائی کے خون کے پیاسے ہوجائیں ،شرم ہے ہمارے مسلمان ہونے پر ،تْف ہے ہمارے دعویٰ ٔ ایمان پر۔
 رابطہ ۔ اچھہ بل سوپور،حال امام وخطیب مرکزی جامع مسجد ملک صاحب صورہ سرینگر 
موبائل نمبر۔ 7006826398
 

تازہ ترین