تازہ ترین

۔11ویں جماعت کی ماس پرموشن نہیں ہوگی

متعلقہ سکولوں میں امتحانات لئے جانے کا امکان

تاریخ    14 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


سعید رضوان گیلانی
سرینگر // جموں و کشمیر سٹیٹ بورڈ آف سکول ایجوکیشن نے چند دن قبل’’ تدریسی کمیٹی ‘‘کی  ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیاجس میں 11ویں جماعت کے امتحانات منعقد کرانے کے بارے میںتفصیلی غور و خوض کیا گیا ۔ میٹنگ میں 8ویں اور9ویں جماعت کے سالانہ امتحانات کے انعقاد پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ میٹنگ کا انعقاد اسوقت ہوا ہے ،جب 11ویں جماعت کے طالب علم مسلسل ماس پرموشن کی مانگ کررہے ہیں۔ گیارہویں جماعت کے طلبہ پچھلے چند دنوں سے متواتر طور پر ماس پرموشن کی مانگ کررہے ہیں۔بورڈ آف سکول ایجوکیشن کے ایک افسر نے بتایا کہ تدریسی کمیٹی نے 11ویں جماعت کے امتحانات منعقد کرنے کے حوالے سے چند دن قبل ایک میٹنگ منعقد کی لیکن مذکورہ افسر نے ماس پرموشن کے کسی بھی امکان کو خارج کردیا۔ مذکورہ افسر نے بتایا ’’ کسی بھی جماعت کے طلبہ کو ماس پرموشن دینے کا کوئی بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔مذکورہ افسر نے بتایا’’ سرکار نے پہلے ہی 10ویں سے 12ویں جماعت تک کے طلبہ کے نصاب میں 30فیصد کمی کا علان کیا ہے‘‘۔ مذکورہ افسر نے کہا کہ میٹنگ کے دوران لئے گئے فیصلے ابھی سامنے نہیں آئے لیکن بعد میں ان فیصلوں کومنظوری کیلئے سرکار کو بھیجا گیا ہے۔ مذکورہ افسر نے بتایا ’’ جب میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کو سرکاری کی منظوری ملے گی تو 11ویں جماعت کے طلبہ کیلئے حتمی فیصلہ کا اعلان کیا جائے گا‘‘۔مذکورہ افسر نے بتایا کہ اس بات پر بھی تفصیلی بات ہوئی ہے کہ کیا 11ویں جماعت امتحانات سکولوںمیں ہی لئے جاسکتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے آخری فیصلہ سرکار کو تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی لینا ہوگا۔ مذکورہ افسر نے کہا’’ متعلقہ سکولوں میںبھی 11ویں جماعت کے امتحانات منعقد کئے جاسکتے ہیں لیکن ایسالگتا ہے کہ یہ امتحانات بھی 10ویں اور 12 ویںجماعت کے طرز پر لئے جائیں گے۔ مذکورہ افسر نے بتایا’’ 11ویں جماعت کے امتحانات متعلقہ سکولوں میں لینے کے کم ہی امکانات موجود ہیں‘‘۔ جموں و کشمیر سٹیٹ بورڈآف سکول ایجوکیشن کی چیرپرسن وینا پنڈتا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ تدریسی کمیٹی کی میٹنگ کا انعقاد چند دن قبل کیا گیا تاہم انہوں نے کوئی بھی تفصیل بتانے سے انکار کیا ۔وینا پنڈتا نے کہا ’’ حتمی فیصلے کا اعلان سرکار کو ہی کرنا ہے‘‘۔