تازہ ترین

درماندہ 5,87,139شہریوں کی واپسی | اڑانوں کے ذریعہ 3858مسافرجموں اور سرینگر پہنچے

تاریخ    12 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
جموں//حکومت جموں وکشمیر نے کووِڈلاک ڈائون کے سبب ملک کے مختلف حصوں میں درماندہ جموںوکشمیر کے5,87,139شہریوں کو براستہ لکھن پور اور کووِڈخصوصی ریل گاڑیوں اور بسوں کے ذریعے تمام رہنما خطوط اور ایس او پیز پر عمل پیرا  رہ کر یوٹی واپس لایا۔حکومت نے لکھن پور کے ذریعے اَب تک بیرون ملک سے937مسافرو ں کویوٹی واپس لایا ہے ۔اِس طرح جموںوکشمیر حکومت نے اَب تک 155کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوں اور براستہ لکھن پور بسو ںکے کاروان میں اَب تک بیرون یوٹی درماندہ 5,87,139شہریو ں کو کووِڈ۔19 وَبا سے متعلق تمام اَحتیاطی تدابیر پرعمل کرکے واپس لایا۔تفصیلات کے مطابق 10 اکتوبرسے11 اکتوبر 2020ء کی صبح تک لکھن پور کے راستے سے نیپال سے 03اَفراد سمیت 6579درماندہ مسافریوٹی میں داخل ہوئے۔اَب تک 134ریل گاڑیوں میںیوٹی کے مختلف اَضلاع سے تعلق رکھنے والے 124,596درماندہ مسافر جموں پہنچے جبکہ 21خصوصی ریل گاڑیوں سے 15,696مسافر اودھمپور ریلوے سٹیشن پر اُترے۔ادھر جموں وکشمیر یونین ٹریٹری میں گھریلو پروازو ں کے دوبارہ چالو ہونے کے 139 ویں دِن 3,858 مسافروں کو لے کر اتوارکو29پروازیں جموں اور سر ی نگر ہوائی اڈوں پر اُتریں۔1782مسافروں سمیت12کمرشل پروازیں جموں ہوائی اڈے اور 2076مسافروں کو لے کر17 پروازیں سری نگر کے ہوائی اَڈے پر اتریں۔واضح رہے کہ25 مئی سے اب تک جموں ایئر پورٹ پر1,264گھریلو پروازیں اُتری ہیں جن میں 125,885 مسافروں نے سفر کیا ۔ اسی طرح سری نگر ائیر پورٹ پر2,064 گھریلوں پروازیںاُتریں  جن میں2, 80,417مسافروں نے سفر کیا۔نیز جموں وکشمیر حکومت نے عالمی وَبا کے پیش نظر اَب تک متعدد ممالک سے تقریباً3,806مسافروں کو خصوصی اِنخلأ پروازوں کے ذریعے جموںوکشمیر یوٹی میں واپس لایا۔ہوائی اَڈے پر اُترتے ہی تمام مسافروں کا کووِڈ۔19ٹیسٹ کیا گیا اوردونوں ہوائی اَڈوں سے اَپنے منازل کی طرف تما م اَحتیاطی تدابیر پر عمل پیر ا رہ کر روانہ کئے گئے۔حکومت نے ہوائی پروازوں کے ذریعے یوٹی میں وارِد ہونے والے تمام مسافروں کی آمدپر سکریننگ نمونے لینے اور قرنطین مراکز کی طرف لے جانے کے لئے معقول ٹرانسپورٹ اِنتظامات کئے ہیں اور اِس دوران مرکزی  شہری ہوا بازی اور صحت و خاندانی بہبود کی وزارتوں کی جانب سے مقرر کئے گئے رہنما خطوط اور ایس او پیز کا خاص خیال رکھا جارہا ہے۔