کورونا کے دوران خواتین، معمر افراد، بچوں میں بے چینی اور ذہنی اضطراب

شہری علاقوں میں گھریلو تشددکے واقعات میں اضافہ ،نئے شادی شدہ جوڑوں میں بھی افسردگی

تاریخ    11 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


سید امجد شاہ
جموں// جموں و کشمیر میں کووڈ 19 کی صورتحال نے پچھلے سات ماہ کے دوران خواتین، بچوں اور عمر رسیدہ افراد میں ذہنی صحت کی خرابی اوراضطراب کی سطح کو بڑھا دیا ہے۔ کورونا سے اب تک 1313 معصوم جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔جموں کے ایک معروف ماہر نفسیات منان اروڑہ کے مطابق صورتحال خاص طور پر اس لئے سنگین ہے کہ بہت سے نوجوان بالغ افراد اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اوراسکول بند ہیں جس وجہ سے بچے اپنے گھروں کی چار دیواری میں قیدہوکر رہ گئے ہیں ۔ڈاکٹر اروڑہ،جنہیں اس طرح کے معاملات نمٹانے کا تجربہ ہے، نے کہا کہ کووڈ 19 نے لوگوں کو اس صورتحال سے دوچار کردیا ہے جس کی وجہ سے وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس قدر تناؤ کا شکار ہوگئی ہے جس میں بچوں، نوجوان بالغوں اور معمر افراد میں ذہنی عارضہ بڑھ گیا ہے جو نہ باہر جاسکتے ہیں ،نہ لوگوں سے مل سکتے ہیں اورنہ ہی اپنے ہم عمر گروپوں کے ساتھ بیٹھ کے ساتھ مل سکتے ہیں۔ڈاکٹر نے کہا’’معاشرتی، معاشی اور مالی طور پر ملازمت سے محروم ہونے اور گھروالوں کے مابین کووڈ متاثرین کی وجہ سے لوگوں میں اضطراب کی سطح میں مزید اضافہ ہوا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگوں کی توقع سے بالاتر ہے،لوگوں نے حقیقت کو جزوی طور پر قبول کرلیا ہے۔ان کاکہناتھا’’بچے باہر جانا چاہتے ہیں لیکن وہ گذشتہ سات ماہ سے گھروں میں بند ہیں، اس صورتحال کی وجہ سے ہی وہ ذہنی تناؤ کاشکار ہیں اور وہ اپنے والدین سے بات نہیں کرتے ‘‘۔انہوں نے لوگوں کومشورہ دیا کہ وہ ایک دوسرے سے بات کریں اور موجودہ صورتحال کا مقابلہ کریں،یہ صورتحال جلد ختم ہونے والی نہیں ہے۔جموں کے ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر جگدیش راج تھاپا نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا’’مردوں کے مقابلے خواتین میں افسردگی میں اضافہ ہوا ہے، وہ گھروں میں ہی رہتی ہیں، رشتہ داروں یا دوسروں کے ساتھ ان کی بات چیت میں کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں وہ ذہنی پریشانی کا شکار ہوجاتی ہیں‘‘۔ڈاکٹر تھاپا نے کہا کہ خواتین میں جارحیت، نیند کی خرابی ، دکھ، لاچاری اور تنہائی ہے۔ایک معاملے میں ڈاکٹر تھاپا نے کہا کہ کووڈ 19 لاک ڈاؤن کے دوران حال ہی میں شادی شدہ ایک عورت افسردگی کا شکار تھی اور وہ عارضہ میں مبتلا ہوگئی۔ماہرنفسیات کاکہناتھا’’اس نے اپنی شادی کی منصوبہ بندی کی تھی اور یہ تقریب دلہن کی خواہشات کے مطابق کورونا پابندیوں کی وجہ سے نہیں ہوئی اور مہمان بھی کم تھے، آخر کار اس کی افسردگی کا باعث بنی‘‘۔انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں کے مقابلے میں جموں کے شہر ی علاقوں سے گھریلو تشدد میں اضافے کو جنم دیا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد کام کرنے والی خواتین میں بھی ذہنی پریشانیاں پیدا ہوئی ہیں کیونکہ انہیں وائرس سے متاثرہونے کا خوف ہے۔
 

تازہ ترین