تازہ ترین

انتظار

کہانی

تاریخ    11 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


رافیہ محی الدین
حلیمہ آج بھی ٹیلی ویژن پر گمشدہ لوگوں کے بارے میں اطلاعاتی ٹیلی کاسٹ دیکھ رہی تھی ۔ ٹیلی کاسٹ کے فوراََ بعد حلیمہ آہ بھرتے ہوئے اپنے داہنے ہاتھ کو  رخسار کا سہارا بنا تے ہوئے بیتے لمحوں کے سمندر میں تیرنے لگی۔ باہر سے پرندوں کے شور و غُل نے اُس کے خیالوں کو اور تقویت بخشی۔ اپنے شوہر عزیز کے ساتھ گزارے  ہوئے ہر پل کی یادیں اُس کی روح کو کریدتی رہیں۔آج وہ سارا منظر پھر سے اُس کی آنکھوں کے سامنے ہو بہ ہو ایسا  ہی ہے ،جیسے کہ یہ سب ماضی میں نہیں بلکہ حال میں ہو رہا ہو۔
اپنے شوہر عزیز سے روٹھنا ۔۔۔روٹھ کے منانا ۔۔۔۔ جس کے ساتھ وہ اپنے دکھ سکھ بانٹ رہی تھی ۔وہ خوشیوں کے پل۔۔۔۔محبت کے رنگ ۔۔۔۔غرض کہ ہر وہ لمحہ جو اُس نے اپنے شوہر کے ساتھ گزاراتھا۔ ان حالات میں وہ دیوانوں کی طرح تنِ تنہا کبھی ہنستی ہے تو کبھی خوشیوں کے اُجڑنے پہ من ہی من سسکیاں بھرتی رہتی ہے۔خیالوں ہی خیالوں میں عزیز سے باتیں کرنا ۔۔۔ اُسے ملن کے ابتدائی مراحل  میں کئے ہوئے وعدے یاد دلانا۔۔۔۔۔۔حلیمہ کا ماضی سے نکل کر حال میں حقیقت کا سامنا کرنا کسی قیامت سے کم نہیں۔۔۔۔۔ 
عامر اپنے کمرے سے اُونچی آواز میں چلاتے ہوئے۔۔۔۔۔
 امی ۔۔امی۔۔  ارے اوامی ۔۔۔  من ہی من اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے ۔۔۔۔۔شاید اَمی سو گئی ہو گی۔۔۔ یہ کہتے ہوئے عامر اپنی اَمی کے کمرے کی اور بڑھنے لگا۔۔۔۔
 اُدھر حلیمہ اپنے خیالوں میں اس قدر مگن کہ عامر کی آواز کا اُس کے گوش سماعت تک پہنچ پانا ناممکن ثابت ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
کمرے میں پہنچ کر عامر ایک بار پھر اپنی امی کو پکارتے ہوئے۔۔۔
امی۔۔ امی ۔۔امی ۔۔ ارے او امی ۔۔۔ کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔۔ 
یہ کہتے ہوئے عامر حلیمہ کے جسم کو ہلانے کی کوشش کرتے ہوئے۔۔۔۔
 ابھی عامر نے حلیمہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ حلیمہ کو اچانک سے ایسا جھٹکا لگا جیسے کہ اُسے کسی نے خوشیوں کے باغ سے اٹھا کر پھر سے ایک ویران نگر میں ڈال دیا ہو۔ جونہی ہوش سنبھالا تو حلیمہ نے اپنی تمام خوشیوں کے محل خانوں کو اپنی آنکھوں سے چور ہوتے ہوئے دیکھا۔ وہ جنت نما مناظر اچانک سے اس قدر غائب ہوگئے کہ حلیمہ خوف و دہشت اور زندگی کے دلدل میں کانپتی رہی ۔۔۔۔ ۔۔ حقیقت کے اس ویرانے میں ا پنے بیٹے عامر کو پاکر حلیمہ کی حالت میں قدرے بہتری آئی۔ عامر میں اُسے جینے کی وجہ مل گئی۔عامر کو گلے لگا کر حلیمہ بے تحاشہ رونے لگی، اور کیوں نہ روتی بے چاری۔ آخر وہ ہی تو ہے اُس کا ہمرازِ ہمسفر۔ من ہی من حلیمہ  خالقِ کائینات سے کچھ ایسے سوال کرتے ہوئے جن کا جواب مل پانا اس وقت مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی نظر آرہا ہے۔۔۔۔ جینے کی اس کشمکش میں حلیمہ سسکیاں بھرتے ہوئے بے ہوش ہوگئی۔۔۔۔۔
عامر نے حلیمہ کی بے ہوشی کو نیند سمجھ کر اُسے بستر پر لِٹادیا اور خود رات بھر ان ساری پریشانیوں سے  نکلنے کی بے سود کوششوں میں اپنی آنکھوں کو خون کے چشموں میں تبدیل کرتے ہوئے اُجالے کا انتظار کرتا رہا۔شاید اس امید میں کہ صبح کے نور سے اس کے مشکلات کا کچھ ازالہ ہو پائے۔۔۔
    اُدھر حلیمہ  کے لئے دن تو کیا ایک ایک لمحہ گذارنا قیامت کی مانند مشکل ثابت ہو رہا ہے۔شوہر کی یاد نے اُسے دیوانہ بنا دیا ہے اور اس کے انتظار میں وہ سارے مصائب کا سامنا کر رہی ہے۔ عزیز کی پرچھائیاں گھر کے اندر باہر ہر جگہ حلیمہ کو نظر آتی ہے۔اگر اب اُسے جینے کی کوئی خواہش ہے توصرف اور صرف عزیز سے ملنے کی۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کی زبان پر اکثر یہی درد بھرے الفاظ ہوتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔
 ابھی آئے گا ۔۔۔۔ آج ضرور آئے گا ۔۔۔۔ میرا عزیز ۔۔۔ آج ضرور آئے گا۔۔ میرے اندھیرے کا ستارہ۔۔۔ اسی امید میں دن گذر رہے ہیں۔۔۔
  عزیزجو شادی کے صرف دوسال بعد کام کے سلسلے میں بیرون ریاست گیا تھا بیس سال گذرنے کے بعد بھی آج تک اُسکا کوئی اتا پتا نہیں۔۔۔نہ کوئی خط اور نا ہی کوئی فون۔۔۔۔
وہ کہاں ہوگا  ۔ کیا کر رہا ہوگا۔ زندہ ہوگا  یا مُردہ ۔ یہ باتیں حلیمہ کو روز ستاتی ہیں ۔ یوں اچانک عزیز کے غائب ہوجانے سے حلیمہ اب بالکل ٹوٹ چکی ہے ۔ اُس کی جینے کی خواہش ہی ختم ہو چکی ہے۔وہ ایک زندہ لاش کی طرح دن کاٹ رہی ہے۔شاید صرف اس لئے کہ اُس کے غم سے اُسکا اکلوتا بیٹا عامر بھی کہیں بکھر نہ جائے۔  آخر وہ ہی تو صرف اُن دونوں کی محبت کی نشانی ہے۔ بیٹے کی زندگی اور لوگوں کے طعنوں سے بچنے کی خاطر حلیمہ اکثر اپنے ہونٹوں پر مجلسی تبسم سجاتی ہے۔ لیکن اُس کی آپ بیتی صرف اُس کو معلوم !!!!!!
آخر کب تک اُس کو بناوٹی طرزِ زندگی کا سہارا لینا پڑے گا؟ کب اُس کی مجلسی مسکراہٹ حقیقی مسکان میں بدل جائے؟ ایسے بہت سے سوالات حلیمہ کے سکونِ قلب کو ہر روز ریزہ ریزہ کر رہے ہیں ۔ اب ان ریزوں کی جھلک پورے مُحلے میں دکھائی دینے لگی ہے۔ اس کو چھُپانا اب حلیمہ کے بس سے باہر نظر آرہا ہے۔
حلیمہ کو اس طرح دیوانگی کے عالم میں دیکھ کر محلے والے بھی اُس پر اب طعنے کسنے لگے ۔ عزیز کی جدائی نے جو کسر باقی چھوڑی تھی اب وہ  مُحلے والوں کے طعنوں سے پوری ہو رہی ہے۔آخر بے  چاری کتنوں کا سامنا کرے ۔لیکن خالقِ کائنات نے حلیمہ کو ایسا ہنر بخشا ہے کہ وہ یہ  سب کچھ سہتے ہوئے اپنے درد کو چھپا کر سب سے اچھے برتاواور نرم دلی سے پیش آتی ہے ۔
اب حلیمہ کو دن کے اُجالے سے بھی ڈر محسوس ہو رہا ہے۔ وہ اب گھر کے باہر نکلنے سے گریز کر رہی ہے۔ اگر نکلنا بھی پڑے تو پڑوسیوں سے چھُپ  چھُپ کر  نکلتی ہے۔دن میں لوگوں کے طعنے اور رات میں عزیز کی یاد  نے حلیمہ کو بے بس بنا دیا ہے اب اس کے سامنے اپنے من کی بے چینی کو دور کرنے کے لئے رونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔
رات کو دیر تک رو رو کے حلیمہ کابے ہوش ہو جانا اور ہوش میں آتے ہی اپنی بے ہوشی کو نیند قرار دینا  اور یوں خود کو تسلی دینا حلیمہ کے علاوہ شاید ہی دنیا کا کوئی دوسرا انسان کرپائے۔۔۔۔ حلیمہ کے حالات کچھ اس طرح ہیں کہ بہار میں بھی اُس کی زندگی کی خوشیوں کے پتے جَڑ رہے ہیں۔مایوسی اور رنج و غم کے عالم میں اب حلیمہ کو بہار کی آمد بھی خزاں کی صورت میں نظر آرہی ہے اُسے اب خود کے ساتھ ساتھ چمن کے سارے رنگ برنگے پھول بے رنگ نظر آنے لگتے ہیں۔۔۔۔
 ہر طرف مایوسی کا دھواں ہی دھواں نظر آرہا ہے۔غرض کہ اُس کی ہر سانس عزیز سے ملنے کی تڑپ رکھتی ہے۔۔۔۔
 اُدھرعامر سے روز روز اپنی امی کی مایوسی اور اس کی حالت برداشت نہیں ہوتی۔ اب حالات اور کشیدہ ہو رہے ہیں ۔ عامر کی اُلجھنوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف سے ر وزگار کی پریشانی اور دوسری جانب ماں کے بگھڑتے حالات اُس کے بس سے باہر ہو رہے ہیں۔ایک شام عامر من ہی من میںیہ سوچ رہا ہے کہ امی کو شہر سے باہر لے جاکر کچھ عرصہ کے لیے سیر کروا لائوں تو اُن کے حالات میں قدرے بہتری آسکتی ہے۔۔۔ غم دور تو ہو یا نہیں! مگر پھر بھی کچھ پل کے لئے اچھا محسوس کرے گی ۔اُس کی مایوسی  میں تھوڑی کمی ضرورآ جائے گی ۔ یہا ں ابا کی یادیںاور محلے والوں کے طعنے انہیں کچھ زیادہ ہی ستاتے ہیں ۔۔۔ ہاں اب یہی ٹھیک رہے گا ۔۔۔ میں اپنی ماں کو خوش رکھوں گا۔۔۔میں اُسے ایسے حال میں کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔۔۔آخر میں ہی تو اُس کا اکیلا سہارا ہوں۔۔۔من ہی من اپنے ہی آپ سے باتیں کرتے ہوئے عامرکی 
آنکھوں سے اشکوں کی گنگا بہنے لگی۔ ۔۔اور یوں بے چارہ اپنے بستر پر بے ہوشی کی حالت میں صبح تک پڑا رہا۔ 
  جھاڑے کے موسم کی آمد آمد تھی، ہلکی ہلکی سردیوں نے ہوائوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا تھا۔حلیمہ اور عامرسویرے کی چائے پینے میں مصروف تھے۔باتوں باتوں میں عامر اپنی امی سے مخاطب ہوتے ہوئے۔۔۔
امی کیوں نہ ہم کچھ دن کے لئے کہیں سیر کے لئے چلیں جائیں۔۔۔۔۔
حلیمہ آہ بھرتے ہوئے۔۔۔۔۔
بیٹا عامر میں کیا کروں گی سیر پہ جاکے۔۔۔ جب من ہی بجھ گیا ہو تو سیرو تفریح سے کیا فائدہ!!!!
آپ یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں امی۔ آپ کو اپنا ذرا سا بھی خیال نہیں۔۔۔عامر بے بسی کی حالت میں حلیمہ کو مناتے ہوئے۔۔۔
لمبی گفتگو کے بعد حلیمہ بھی شاید اپنے بیٹے کی خوشیوں کی خاطرہاں کرنے پر مجبور ہوگئی۔اور یہ گفتگو مایوسی کے ایک دھوئیں میں تبدیل ہو گئی۔۔۔۔
 آخر ریاست سے باہر جانے کی تیاریاں مکمل ہو گئیں۔ حلیمہ اپنے ساتھ روزمرہ کی ضروریات کے علاوہ وہ سب کچھ لے گئی جس کے باعث وہ اکثر مایوس رہا کرتی تھی۔گھر سے باہر حلیمہ کی حالت میں کچھ حد تک تبدیلی تو ضرور آئی لیکن مایوسی نے اُسکا پیچھا ابھی  پوری طرح سے چھوڑا نہیں۔اپنے بچھڑے ساتھی کو پانے کی تڑپ اور اس سے ملنے کی بے قراری اُس کے رویئے سے  صاف ظاہر تھی۔ یہاں بھی دن ایسے ہی گذرتے گئے۔ اب عامر حلیمہ کا من بہلانے کے لئے نئی نئی ترکیبیں کر رہا ہے۔ 
جھاڑے کی دھوپ چھائی ہوئی تھی ۔ عامر اور حلیمہ ایک پارک میں تفریح کے لئے پہنچے ۔پارک میںلوگوں کی آمد آمد تھی۔ عامر حلیمہ کو ایک بینچ پر بٹھا کر خود  باہر کھانے کا کچھ سامان لانے نکلا ۔
حلیمہ اس بھیڑ میں بھی گم سُم اپنی زندگی (عزیز)کو دیوانوں کی طرح تلاش کر رہی ہے۔ پارک کی خوبصورتی اور گلوں کی خوشبو سے شاید ہی حلیمہ پر کچھ اثر ہو رہا ہے۔ اپنے ہمسفر کی جدائی کے دھوئیں میں کچھ دیکھ پانا حلیمہ کے لئے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ۔۔
اُدھر عامر اپنی امی کا دل بہلانے کے لئے الگ الگ ضیافتیں ڈھونڈ رہا ہے۔۔۔
پارک میں ایک معصوم بچے کی  چیخوں نے حلیمہ کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔حلیمہ بچے کو دیر تک دیکھتی رہی ۔ اس کی بیقراری بڑھنے لگی۔کم سِن کی آہ و پکار سے حلیمہ آپے سے باہر ہوگئی۔ اُس سے رہا نہ گیا اور اپنے قدم بچے کی اور بڑھا نے شروع کئے۔بچہ بار بار اپنی ماں کا پلو پکڑ کرکسی چیز کی طرف اشارہ کررہا تھا ۔بچے کی اچانک مسکان سے حلیمہ کے دل کو تسلی ہو گئی اور اُسے ایسا محسوس ہوا کہ شاید وہ اُس کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔لیکن بچے کی آنکھوں نے کچھ اور ہی دیکھا تھا اوراپنے منہ سے ابا ابا کے الفاظ کہتے ہوئے تیر کی مانند حلیمہ کو پار کر کے اُسکے انتظار کو ختم کرتے ہوئے پیچھے اپنے ابا کی بانہوں میں سمٹ گیا۔حلیمہ پیچھے مُڑی ہی تھی کہ اچانک ایسا سناٹاچھا گیا جیسے کچھ پل میں دنیا ختم ہونے والی ہو۔ حلیمہ کی آنکھوں پہ اندھیرا چھا گیا۔  
حلیمہ!!!
 عزیز۔۔۔عزیز ۔۔۔کے الفاظ گنگناتے ہوئے نیچے گرنے ہی والی تھی کہ عامر نے اُس کو اپنی بانہوں میں پکڑ لیا۔عامر کے لئے یہ لمحہ کسی قیامت سے کم نہیں ۔ اپنے والد،جس کو عامر نے صرف تصویروں میں ہی دیکھا تھا، کی گود میں  ایک کم سن بچے کو دیکھ کر وہ حلیمہ کی پیشانی کو چومتا رہا۔ اُس کی آنکھوں سے آنسوئوں کے دریا بہنے لگے۔وہ چیختا ہوا اپنی ماں کو پکارتا رہا۔۔۔
امی۔۔۔امی۔۔۔۔کیا ہوا ۔۔۔۔۔امی ۔۔۔ ۔۔۔
اور اپنا سر حلیمہ کے سینے پہ رکھتے ہوئے اُسے بیدار کرنے کی کوشش میں لگ گیا ۔۔۔
اُدھر عزیز اجنبیوں کی طرح کم سن بچے کو گود میں لئے ایک برقعہ پوش عورت کے ہمراہ چلا گیا!!!!!
 
 
برنٹی اننت ناگ کشمیر  
موبائل نمبر؛9906705778
rafiayaur90@gmail.com
 

تازہ ترین