تازہ ترین

عارفہ خانم شیروانی

غیر جانبدارانہ صحافت کی علمبردار

تاریخ    8 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


محمد اشرف
 غیر جانبداری اور عدم طرفداری صحافت کا سب سے اہم اور بنیادی اصول ہے۔صحافت صرف خبر رسانی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ رائے عامہ ہموار کرنے کا اہم ترین وسیلہ ہے۔صحافت عوام اور حکومتی مشینری کے درمیان پل کا کام کرتی ہے۔صحافت عوام کی آواز بن کر حکومت سے سوال کرتی ہے اور عوام کی آوازحکومت کے گوش گزار کرتی ہے۔صحافت نے ہردور میں ظلم و جبرکے خلاف آوازبلند کرنے میں نمایاںکرداراداکیا۔جمہوریت کے اس چوتھے ستون کی اہمیت کو اجاگرکرتے ہوئے اکبرالہ آبادی نے کہا تھا  ؎
کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو
 دنیا میں ہر چیزکے اندر مثبت و منفی دونوں طرح کی خصوصیت ہوتی ہے۔ کسی بھی چیز کے فائدے اورنقصان کی ذمے داری اس کے استعمال کرنے والوں پرعائد ہوتی ہے۔ کچھ یہی حال صحافت کا بھی ہے۔ صحافت ایک مقدس پیشہ ضرور ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے کس طرح استعمال کیا جارہا ہے۔دنیا کی تاریخ میں صحافت کے بڑے بڑے کام لیے گئے ہیں تو ساتھ ساتھ اس کاغلط استعمال بھی کیا گیا ہے۔جرمنی میں ہٹلرنے یہودیوں کے خلاف اس ہتھیار کا خوب استعمال کیا تھا۔ دور حاضر میں بھی میڈیا کو ایک ہتھیار کی طرح استعمال کیا جارہا ہے۔پوری دنیا میں یہ گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔ اس معاملے میں اس ہندوستانی میڈیا بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ہمارا میڈیا حکومت سے سوال کرنے کے بجائے ہمہ وقت ملک کی اقلیتوں اور اپوزیشن جماعتوںکو کٹہرے میںکھڑا کرتا ہے ،ان سے سوال کرتا ہے اور انہیں ہی ہر مشکل کامورد الزام بھی ٹھہراتاہے۔
 اگر ملک میں اس وقت پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کے حوالے سے بات کریں تو اسے ہم لوگ شایدموجودہ دور کی بد قسمتی ہی کہیں گے کہ چند باضمیر صحافیوں کو چھوڑ کر ایسا لگتا ہے جیسے بقیہ مجموعی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ایک مخصوص طبقہ کے مٹھی بھر لوگوں کی رائے کو پورے ہندوستانی نظا م پر مسلط کرنے میں لگا ہے۔ایسا  محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ملک کا میڈیا دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنی اصل قوت کو کھو کر خود تو گمراہی کے ایک اندھے کنویں کی طرف گامزن ہے ہی ،ساتھ ہی ملک کے مستقبل کو بھی تاریکیوں میں غرق کرنے پر تلا ہوا ہے ۔تاہم میڈیامیں بھی ابھی کچھ ایسے باضمیر اور باحوصلہ افراد موجود ہیں جو مظلوموں اور کمزوروں کے لیے امید کی کرن ہیں۔نفرت کے اسی دور میں کچھ صحافی ایسے بھی ہیں جو اپنی عدم جانبداری اوراپنے بے باک رویے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ انہیںمیں ایک اہم اور نمایاں نام عا رفہ خانم شیروانی کا بھی ہے۔ان کی پیدائش نومبر1980ء میں بلند شہر اتر پردیش میں ہوئی۔ابتدا سے لے کر انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم اپنے آبائی وطن میں ہی رہ کر حاصل کی ۔ موصوفہ اپنے علاقے کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے سائنس شعبے کا انتخاب کیا جس کے لئے انہیں اپنے گھر سے دور مخلوط تعلیمی ادارے کا رخ کرنا پڑا کیوں کہ اس علاقے میں لڑکیوں کی اعلی تعلیم کاکوئی بند وبست نہیں تھا اس لئے گریجویشن کے لیئے انہیں میرٹھ کا رخ کرنا پڑا۔ یہاں سے انہوں نے سی سی ایس یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے شعبۂ صحافت میں پوسٹ گریجویشن ڈپلومہ کیا ۔پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی سے ’’دلت اور مسلم‘‘سماج کے عنوان پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔انہیں شروع سے ہی ملک و ملت کے مسائل سے دلچسپی تھی۔ انہوں نے اپنے شوق کو کریئر کے طور پر منتخب کیا اور صحافت سے وابستہ ہو گئیں۔
عارفہ خانم شیروانی نے اپنے کریئر کا آغاز2000ء میں ایک ایجنسی میں بطور انٹر نشپ کیا۔ اس کے بعد دی ایشین ایج پیپر میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر عہدے پر فائزہوئیں ۔ اپنی صلاحیت وقابلیت کی بنیاد پر بہت جلد الیکٹرانک میڈیا سے منسلک ہو گئیں اور سال2003ء میں مشہور نیوز چینل این ڈی ٹی وی میں بحیثیت نیوز اینکر منتخب ہوئیں اور کئی سال تک اپنی خدمات بخوبی انجام دیتی رہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیگر بڑے میڈیا گروپ سہارا سمے اور لائیو انڈیا میں بھی کام کیا۔اس کے علاوہ موصوفہ نے ’’تعلیمی کارواں‘‘ نامی ایک دستاویزی فلم بھی بنائی جس میںانہوں نے اتر پردیش کے دیہاتوں اور چھوٹے قصبوں کی حقیقت کو اجاگر کیا۔میدان صحافت میں دنیا بھر میں بیباک،نڈر،دلیرانہ اور ایماندارانہ صحافت سے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ۔امیٹی اسکول آف کمیونیکیشن میں بطور گیسٹ لکچر دیا ۔امریکہ میںٹی سی این کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں انڈین مسلم ،دلت ،آدیواسی اور انڈین سیاست پر خطاب کیا ۔اس کے علاوہ ہندوستان کے مشہور پروگرام ٹیڈ ایکس میں’’ اپنے آپ کو فیک نیوز سے کیسے بچائیں ‘‘کے عنوان پروقیع لکچر دیا۔علاوہ ازیں آپ علی گڑھ مسلم یونیوسٹی کے اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کی سابق صدر بھی رہ چکی ہیں۔ فی الحال موصوفہ’’ساؤتھ ایشین وومن ان میڈیا ‘‘کی ایک فعال رکن ہیں۔
عارفہ خانم شیروانی کی بہادری اور سچی صحافت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے بڑی بے باکی سے اقتدار کی کرسیوں پربیٹھے سیاستدانوں سے ان کی ناکامی اور غلط منصوبوں پر کھل کر سوال کئے۔ اس ضمن میں ان کے بہت سارے پروگرام بہت مقبول ہوئے جن میں ’’مودی کو آخر سوال کیوں پسند نہیں؟،بھگوا دہشت گردی ،ماب لنچنگ ،کیا مولویوں نے مسلم سماج کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ؟،تین طلاق،دستور بنام آستھا(شری شری روی شنکر)،امیت شاہ کا جادوئی وکاس،مودی کے پیڈ انٹرویو کا پوسٹ مارٹم،امیت شاہ کا ڈی این اے ٹیسٹ،کیا ہندوستانی میڈیا امریکہ کی طرح آزاد ہوپائے گا؟ہندو مسلم اسٹوڈیو بحث اورحقیقت،بابری مسجد سانحہ اور صحافت کا کردار ،یہ میرے بچپن کا بلند شہر نہیں ، جیسے مشہوراقساط شامل ہیں۔ اگر ان کی گراؤنڈ رپورٹنگ کی بات کی جائے تو انہوں نے کشمیر کے علاوہ عراق اور افغانستان کے جنگ زدہ علاقوں میں جاکر بھی وہاں کی گراؤند رپورٹنگ کی ہے۔ ان کا عملہ وہ واحد عملہ تھا جو ہندوستان کے لئے وہاں کے الیکشن کی خبروں اور معلومات کو اکٹھا کر رہا تھا۔ اس رپورٹنگ کی وجہ سے انہیں ایک الگ پہچان اور کافی پذیرائی ملی۔ کشمیر کے تعلق سے وہ کہتی ہیں کہ ایسے حالات انہوں نے جنگ زدہ ملکوں میں بھی نہیں دیکھے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے ایک بہت ہی مشہور ٹی وی شو’’ ستیہ میو جیتے‘‘ کے پروڈکشن کے وقت آپ نے عامر خان کے ساتھ بھی کام کیا۔’’دستور بنام آستھا‘‘ شو کے لئے انہوں نے شری شری روی شنکر کا انٹرویو لیا۔ اس کے لئے انہیں ریڈ انک ایوارڈ سے نوازا گیا ۔یہ انٹرویو مارچ 2018ء میں شری شری روی شنکر کے اس بیان کے بعد لیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر رام جنم بھومی تنازعہ حل نہیں ہوا تو ہندوستان سیریا بن جائے گا ۔انٹرویو کے دوران عارفہ کے تیکھے سوالات پر شری شری کی ٹیم نے اچانک انٹرویوبند کرا دیا ۔ہندی اکیڈمی کی جانب سے ساہتیہ سمان ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔اس کے علاوہ بہترین صحافت کے لیئے چمیلی دیوی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
عارفہ خانم شیروانی کو الیکٹرانک میڈیا سے جڑے صحافیوں میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے خصوصی طور پو اقلیتوں کے مسائل کو لے کر گراں قدر خدمت انجام دیںہیں۔ آپ وہ پہلی ٹی وی جرنلسٹ ہیں جس نے سچر کمیٹی رپورٹ کے حقائق کو پیش کیا۔آپ نے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی رپورٹنگ کی ،دلتوں کے ساتھ ہو رہی نا انصافیوں کے تئیں آپ ہمیشہ سے فکر مند رہیں اور اسی غرض سے انہوں نے کئی دلت گاؤں کے دورے بھی کئے۔مستقبل کے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے موصوفہ کہتی ہیں کہ وہ سماجی مسائل پر مبنی ایک فلم بنانا چاہتی ہیں ۔موصوفہ اس وقت اپنی صحافتی خدمات دہلی میں ’’دی وائر ‘‘خود مختار آزاد اور پبلک فنڈ سے چلنے والے میڈیا ادارے سے منسلک ہیں ۔جہاں ہندوستانی میڈیا غلط پروپیگنڈے اور منفی خبریں پھیلا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام کر رہا ہے وہیں دوسری جانب عارفہ خانم جیسے بیباک صحافیوں نے صحافت کے معیار کو بلند کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ملک کو آج یسے ہی بے باک ،نڈر اور غیر جانبدار صحافیوں کی سخت ضرورت ہے تاکہ ہمارے ملک کے چوتھے ستون کی روح پاکیزہ رہے اور مظلوموں کے حق میں ایسی ہی بے باکانہ اور غیر جانبدار صحافت زندہ رہے۔
(مضمون نگارمولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدرآباد میں ایم سی اے کے طالب علم ہیں)
 

تازہ ترین