تازہ ترین

شوہر اور بیوی

عائلی زندگی کے دو اہم ستون

تاریخ    8 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


فدا حسین بالہامی
انسان ہمیشہ اور ہر دور میں اصول اور قوانین کی زنجیروں سے جکڑکر ہی انسانیت سے ہمکنار رہا ہے۔ اگر اسے ہر معاملے میں آزاد چھوڑ دیا جاتا تو ہر سماج میں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘کا قانون نافذ ہوتا۔ یہ دْنیا ایک جنگل کی صورت میں تبدیل ہوجاتی۔ جس میں طاقتور بلا پوچھے کمزور کونگل لیتا۔ انسانی خواہشات کے ہاتھوں کھلونا بن جاتا۔ پس انسانی زندگی کے ہر شعبے میں کچھ اصول و ضوابط مقرر ہوئے جن کو نظر انداز کرنا نہ صرف کسی بھی فرد کی زندگی کا توازن بگاڑ دیتاہے۔بلکہ سماجی سطح پر اصول و اقدار کی خلاف ورزی کے اثرات ظاہر ہو ہی جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جنسی احتیاج کے لئے ازدواجی قانون بنا ہے، اس قانون کی مخالفت جنسی بے راہ روی اور نظامِ قدرت کے خلاف جنگ پر محمول سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ جنسی ضرورتوں کو پورا کرنے کے واسطے اگر قانون ازدواج نہ ہوتا تو کیا نظام دنیا میں خلل نہ پڑتا؟ خلل ضرور پڑتا! کیونکہ ایک طرف دنیا میں آبادی کا اضافہ بے تحاشہ ہوجاتا تو دوسری جانب سب لوگ جانوروں کی مانند زندگی گزار لیتے۔ اسی لئے جنسی بے راہ روی سے روکنے کے لئے ازدواجی لگام کا سہارا لیا گیا۔ اس لگام سے آدمی غلط کاریوں سے بچ پایا۔ ازدواجی رشتے نے مرد کو غیرت و حمیت بخشی جس کی وجہ وہ قطعاً اپنی شریکِ حیات پر کسی غیر مرد کی نگاہ برداشت نہیں کرتا ہے۔ کیونکہ ہر مرد اپنی قرابتدار خواتین کا خصوصاً اور عموماً اپنی قوم کی عورتوں کا محافظ سمجھا جاتاہے۔ چنانچہ ایک غیور شخص جس طرح اپنی ماں، بہن، بہو، بیٹی وغیرہ کا دامنِ عصمت ہر وقت پاک و طاہر دیکھنے کا متمنی ہوتا ہے اسی طرح دوسروں کے دامنِ ناموس کو بھی تمام تر آلودگیوں سے منزہ دیکھنا چاہتا ہے۔ الغرض ازدواجی طرز عمل سے جنسی میلانات کا ایک بہترین عائلی نظام قائم ہوا۔
ازدواجی دائرے میں داخل ہوکر ہی انسان نے اپنی الگ پہچان بنائی۔ شادی سے قبل وہ صرف اپنے نام سے پہچانا جاتا ہے اور شادی کے بعد اپنے بچوں کے نام سے بھی منسوب ہوتا ہے۔ بال بچوں سے قدرتی طور لگاؤ کے نتیجے میں ایک خاندان وجود میں آجاتا ہے جس میں ہر ایک فرد اہل اہم کردار کا حامل ہوتا ہے۔ الغرض خاندان اسی ازدواجی اصول کی دین ہے۔ اس اصول کی عدم موجودگی میں کوئی بھی کسی کا عزیز نہ بنتا، نہ کوئی لڑکی کسی کی بہن ہوتی اور نہ کوئی عورت کسی کی ماں کہلاتی۔ چند ایسے مقدس رشتے جن پر  انسانیت کی اساس بڑی حد تک قائم و دائم ہے۔نیز جن سے انسانی احساسات کا ایک بڑا حصہ وجود میں آیا ہے وہ دنیا میں ناپید ہوتے۔ جس سمت بھی نظر دوڑائی جاتی ’’النفسی النفسی‘‘ کے مناظر دیکھنے کو ملتے۔ یہی وجہ ہے ہر ذی شعور انسان کی زندگی ایک ہمسفر کی متقاضی ہے۔ ایسا ہمسفر جو زندگی کے سفر میں قدم بہ قدم ہمراہ چلے تاکہ اس زیست کی ناہموار اور کٹھن راہوں کو طے کرنے میں کچھ سہولیات بہم پہنچے۔ وہ ہمسفر کہلانے کا یقیناً حقدار ہے جو خوشی کا موقع ہویا غم کی گھڑی، شادکامی کی منزل ہو یا مصیبت کا مرحلہ، ہر صورت میں کندھے سے کندھا ملا کے چلے۔ اس ہمسفر کو بجاطور ہمراز بھی کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ اسے کوئی بھی راز پوشیدہ نہیں رہ جاتا۔ نکاح سے قبل ایک انسان کسی کے سامنے افشا کرنے کا روا دار نہیں ہوتا ہے وہی پوشیدہ رازسارے بلاجھجک اپنے اس ہمراز کے سامنے کھول دیتا ہے۔ جو باتیں ماں، باپ، عزیز واقارب کو کہنا مناسب نہیں ہیں وہ باتیں شریک حیات کے سامنے بغیر ہچکچاہٹ کی جاسکتی ہیں۔ نتیجتاً شوہر اور بیوی شادی کے بعدایک دوسرے کے اتنے قریب آتے ہیں کہ ایک دوسرے کی شخصیت کو اچھی طرح پہچان پاتے ہیں۔ مردو زن کا وجود میں آنا بھی اسی بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ دونوں مقررہ مدت تک (بلوغیت تک) آپس میں دوری اختیار کریں اور پھر زندی بھر ان کی قربت میں دراڑ نہ پڑجائے۔ ان کی ہم نشینی راحت و چین کا سامان مہیاکرتی ہے۔ ان کا سلوک آپ میں شفقت سے لبریز ہو۔ چنانچہ گھریلو ماحول کو بگاڑنے یا سنوارنے میں میاں بیوی کلیدی رول نبھاتے ہیں۔ اس لیے ازدواجی زندگی میں جس قدر استحکام ہوگھریلو ماحول بھی اسی قدر اخلاقی تقاضوں کو روبہ عمل لاتا ہے۔ سیدھی سی بات ہے بچے اگر ماں باپ کو لڑتے جھگڑتے دیکھیں تو ان کی نفسیات بھی متاثر ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ بھی ماں باپ کی بری باتوں کے عادی ہوجاتے ہیں باالفاظ دیگر وقت گزرنے کے ساتھ بچے بھی اپنے طور ماں  باپ کی ان عادات کو بآسانی اپنا لیتے ہیں۔ زن و شوہر کے مابین چپقلش نہ صرف ازدواجی رشتے میں زہر گھول دیتی ہے بلکہ ایک گھر کو بربادی و تباہی کے منہ کی جانب دھکیل دیتی ہے۔ ان کی آپسی رنجش پاس پڑوس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ میاں بیوی کی نااتفاقی اس آگ سے مشابہ ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہرے بھرے گھر کو جلاکر راکھ کردیتی ہے۔ یہ نااتفاقی شوہر کی بے توجہی کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے اور بیوی کی لاپرواہی اور بے اعتنائی کا ثمرہ بھی؛ اس لئے ان دونوں کو ایک دوسرے کے لئے خاص خیال ہونا چاہئے۔ انہیں یہ بات ذہن نشین ہونی چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ دنیا کا دستور ہے کہ ’’ایک ہی ہاتھ سے تالی نہیں بجتی‘‘ لہٰذا مرد اگر ازدواجی زندگی میں اپنی بیوی کی بجاخواہشات کی قدر کرے، اس کے جذبات سمجھنے کی کوشش کرے اور اس کو ہر وقت خوش رکھنے کی سعی کرے، تو لازم ہے بیوی کے دل میں بھی اپنے شوہر کے تئیں عمیق محبت و الفت پیدا ہوگی۔ اس کی نگاہ میں شوہر کی قدر و منزلت بڑھتی چلی جائیگی۔ اس طرح گھر کا ماحول روح افزاء اور سکون قلب کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ 
عورت جسمانی طور دلکشی اور دلفریبی کی حامل ہوتی ہے۔ اسے اپنی زیبائش و آرائش کی جانب فطری طور زیادہ دھیان ہوتا ہے۔ یہ اپنی زیب و زینت سے اپنی شوہر کو دام الفت میں گرفتار کرسکتی ہے۔ بشرطیکہ اس کی زیب و زینت محض اپنے شوہر کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنیکی خاطر ہو۔ اصولاً عورت کے حسن و جمال سے لطف اندوز ہوتا صرف اسی کے شوہر کا ہی حق ہے۔ عورت اگر اپنا بناؤ سنگھار اپنے شریک سفر کے علاوہ غیر مردوں کی نگاہوں کا مرکز بننے کی نیت سے کرتے تو اسے ہرگز ایک مہذب اور نیک خصلت بیوی نہیں کہا جاسکتا ہے۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ آج کل کے ماڈرن دور کی بیشتر عورتیں اپنا زیادہ تر وقت سجنے سنورنے میں ہی گزار دیتی ہیں۔ جس کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ اگر بازار یا کہیں اور آدھے گھنٹے کے کام کے لئے جاتا ہو تو یہ پہلے ایک گھنٹہ تیار ہونے میں لگالیتی ہیں۔ فیشن پرستی کا رحجان اگر چہ غیر شادی شدہ لڑکیوں میں زیادہ پایا جاتا ہے تاہم لاتعداد شادی شدہ خواتین بھی اس معاملے میں ان سے کم تر نہیں ہیں۔ ازدواجی دائرے میں داخل ہونے کے باوجود بھی اکثر و بیشتر خواتین کے سرپر فیشن پرستی کا بھوت بری طرح سوار رہتا ہے۔ اس امر سے وہ گھر کے ماحول پر بوجھ بن جاتی ہے۔ چنانچہ ایک عورت جب اپنی تمام تر توجہ خود کو آراستہ اور پیراستہ کرنے میں ہی لگادے تو اسے اپنے گھر اور شوہر کی فکر کہاں رہ سکتی ہے۔ شوہر کو اس طرح بیوی کی فرمائش روز بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ بازار میں نئے طرز کا لباس آجائے تو یہ اپنی شوہر پر دباؤ ڈالتی ہے کہ اس طرح کا لباس کے لئے مہیا کیا جائے۔ چاہے گھر کی مالی حالت اس کے لئے سازگار نہ ہو۔ اب یہ صورتحال حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے جس نے ازدواجی زندگی میں زہر گھول دیا ہے۔ آج کل کے دورمیں بہت سی مثالیں ملتی ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ عورتوں کا ایک بہت بڑا طبقہ خود بینی میں کچھ اس طرح محو ہوگیا ہے کہ انہیں اپنے گھر بار کا کچھ خیال نہیں۔ اس سلسلے میں ایک زندہ مثال پیش کرنے جارہا ہوں تاکہ قارئین کرام خود ہی اندازہ لگاسکیں کہ ایک عورت کی خود بینی کیسی کیسی قبیح حرکتوں پر منتج ہوتی ہے۔ ایک شوہر اپنی زوجہ کے خلاف شکایت بھرے لہجے میں فریاد کناں ہے۔
شوہر کی اس شکایت پر نظر ڈالنے کے بعد ہم اس عورت کو وفادار اور فرمانبرداری کی بنیادوں کو منہدم کردینے والی زندہ تصویر کہنے پر کیسے دریغ کرسکتے ہیں؟کیا بے اعتنائی کی حد نہیں ہے؟ یہ ازدواجی بندھن کے اصولوں کو نبھانے کا ایک خوبصورت ڈھونگ نہیں ہے؟ مگر صرف عورت کے سر سارا الزام دھرنا ناانصافی ہوگی کیونکہ مردوں کا ایک بڑا طبقہ بھی عہد حاضر کے معاشرے میں اپنی شرمناک عادتوں اور حرکتوں سے اپنی رفیقِ حیات کی زندگی اجیران بنانے پر تلا ہوا ہے۔ آج کل کے تعلیم یافتہ دور میں جہاں بڑے پیمانے پر عورتوں کو ان کے حقوق دلانے کی تشہیر ہورہی ہے وہاں بے شمار مرد اس غلط فہمی سے نکلنے سے قاصر ہیں کہ ان کی بیویاں غلام ہیں اور وہ مالک! یہ غلط فہمی اور خود فریبی کے شکار شوہر بیوی کو ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں۔ یہ عورت کو محض بچہ پیدا کرنے والی مشین سے تعبیر کرتے ہیں۔ صنف نازک پر طرح طرح کے مظالم ڈھاتے ہیں۔ عورتوں پر اپنی بے جابالادستی کا رعب جمانے کے لئے مارپیٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ کوئی شراب خور شوہر لڑکھڑاتے ہوئے دیر سویر گھر پہنچتا ہے تو اس کا اپنی بیوی کے ساتھ مذموم برتاؤ لازمی امر ہے۔ آئے دن ریڈیو، اخبار، ٹیلی ویژن ،انٹرنیٹ وغیرہ سے اس طرح کی خبریں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں کہ آج فلاں جگہ ایک عورت نے اپنے شوہر کی بدسلوکی سے تنگ آکر خودکشی کرلی یا  شوہر نے اپنی ہی بیوی کو زندہ جلاڈالا۔ آخر اس ترقی یافتہ دور میں جہاں اس نے ستاروں پر کمنڈ ڈال دی ہے،وہاں یہ ازدواجی رشتوں میں اس قدر رسہ کشی کیوں! جبکہ شادی بیاہ کا مقصد کچھ اور ہے ، شادی دو انسانوں کو زندگی کی جنگ مل کر لڑنے کی دعوت دیتی ہے۔ اپنے آپ کو جسم و جاں کے سمیت کسی کے سپرد کرنے کا گر سکھاتی ہے۔ سماج میں عزت سے جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ شادی دو جسموں کے علاوہ دور روحوں کا ملن بھی ہے جنہیں الگ رہ کر چین و سکون کبھی میسر نہیں آسکتا۔ مادی لذائز کے پہلو بہ پہلو ازدواجی زندگی میں معنوی لذتیں بھی حاصل ہوتی ہیں۔ میاں بیوی میں آپسی محبت و الفت اسی معنوی فضا میں پروان  چڑھتی ہے۔ جنسی خواہش اگر ان کے پیار کا محرک ہوتی تو کسی بھی ازدواجی بندھن کو دوام نہ ملتا۔ جنسی تلذذ حاصل ہونے کے بعد ان کے درمیان نفرت کی خلاپھر سے پیدا ہوجاتی ہے
رابطہ۔ 7006889184
 

تازہ ترین