تازہ ترین

کووڈ ۔19… احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں

تاریخ    8 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


  کورونا وائرس کے تازہ معاملات میں کافی حد تک کمی آئی ہے اور مسلسل نئے معاملات میں کمی آرہی ہے جو بادی النظر میں ایک خوش آئند رجحان ہے تاہم ماہرین کمی کے اس رجحان پر اتنے خوش نہیں ہیں اور اُن کاماننا ہے کہ اگر جارحانہ ٹیسٹنگ کی جائے تو معاملات پھر بڑھ سکتے ہیں کیونکہ اُن کا استدلال ہے کہ کورونا وائرس سوسائٹی میں کافی گہرائی تک سرایت کرچکا ہے ۔
 بلا شبہ نہ صرف تجارتی و کاروباری سرگرمیاں کافی حد تک بحال ہوچکی ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ بھی اب تقریباً معمول کے مطابق چلنے لگا ہے اور یوں کم و بیش سماج کے سبھی طبقوں سے وابستہ افراد کو دو وقت کی روٹی کمانے کا موقعہ مل رہا ہے تاہم یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ بھلے ہی بندشوں میں نرمی کی جارہی ہو لیکن کورونا کہیں گیا نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے ساتھ ہی موجود ہے اور مسلسل ہمارا تعاقب کررہا ہے۔گزشتہ دنوں ایک نیوز پورٹل کی وساطت سے ڈاکٹر س ایسو سی ایشن کشمیر کے سربراہ ڈاکٹرنثار الحسن کی جو باتیں بیماری کی حالت میں بھی عوام تک پہنچائیں گئیں،وہ ہمارے رونگٹے کھڑی کردینے کیلئے کافی تھیں۔ڈاکٹر نثار چونکہ انفلیونزا ایکسرپٹ بھی ہیں اور کورونا کے حوالے سے اُن کے کافی تحقیقی مقالے بھی طبی جرائد میں حالیہ ایام میں شائع ہوچکے ہیں تو اُن کی باتوں کو سرسری نہیں لیاجاسکتا ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے جس طرح ہسپتالوں کی حالت بیان کی ،وہ پریشان کن تھی اور یقینی طور پر اس بحرانی صورتحال کی جانب اشارہ کررہی تھی جس کا فی الوقت ہمیں سامنا ہے لیکن اس سے سنگین مسئلہ وہ ہے جس کی جانب انہوںنے مستقبل کے حوالے سے اشارہ کیا ۔اُن کا کہناتھا کہ اکتوبر کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہوسکتی ہے اور ہمیں آج ہی ضلعی و سب ضلعی ہسپتالوں کو اس کیلئے تیار کرنا ہوگا کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ سردیوںکے آغاز کے ساتھ ہی کووڈ یہاں بھیانک رخ اختیار کرسکتا ہے اور اُس وقت تک اگر ہم نے ضلعی اور سب ضلعی سطح پر ہسپتالوں کو انتہائی طبی نگہداشت والے وارڈوں کے علاوہ وینٹی لینٹروں سے لیس نہ کیا تو ہمارا پورا طبی نظام ہی مفلوج ہوسکتا ہے کیونکہ پھر شہر کے بڑے ہسپتال مریضوں کا بڑھتا ہوا رش برداشت نہیں کرپائیں گے ۔
یہ انتباہ انتہائی پریشان کن ہے اور یقینی طور پر جہاں حکومت کیلئے نوشتہ دیوار ہونا چاہئے وہیں عوام کیلئے بھی اس میں کئی اسباق موجود تھے ۔ اب ہمیں یہ مان کر چلنا ہے کہ ہمیں بہت دیر تک اس وائرس کا سامنا رہے گا اور ہمیں یونہی اپنا طرز زندگی بھی تبدیل کرتے رہنا ہے ۔اب ہم قطعی اُس طرح کا طرز ِ زندگی اختیار نہیں کرسکتے جو کورونا وبا سے پہلے ہمارا معمول تھا ۔اب حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں۔فیس ماسک ہماری زندگی کا بالکل اُسی طرح حصہ بننا چاہئے جس طرح خوراک اور پوشاک ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔اسی طرح جسمانی دوریوںکے چلن کو بھی ہمیں بالکل اُسی طرح اپنا نا ہوگا جس طرح ہم عبادات کو فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ذاتی صفائی ویسے بھی مستحسن عمل ہے اور اسلام میں اس پر خاصا زور دیاگیا ہے کیونکہ اسلام کا ماننا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن موجودہ حالات میں اب ذاتی صفائی کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے اور ہمیں ذاتی حفظان صحت کا بھرپور خیال رکھنا پڑے گا۔
بے شک سردیوں کا موسم ہمارے لئے ویسے بھی پریشانی کا باعث ہوتا ہے کیونکہ سردیوں میں کھانسی ،نزلہ زکام اور بخار عام ہوتے ہیں۔موجودہ حالات میں اس طرح کے امراض اس لئے بحرانی صورتحال کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ کورونا کے بھی ایسے ہی علائم ہیں اور ویسے بھی کہاجاتاہے کہ سرد ی میں یہ وائرس پورے شباب پر ہوگا کیونکہ سردی کا سیزن اس کا اپنا سیزن ہے ۔اس لئے ہمیں آج سے ہی اس کیلئے تیار رہنا پڑے گا۔وائرس کمیو نٹی میں موجود ہے ۔اب تو اس کی نئی نئی صورتیں سامنے آرہی ہیں اور یہاں تک حرکت قلب بند ہونے والے مریضوںمیں بھی اس وائرس کی تشخیص ہورہی ہے اور طبیبوںکا ماننا ہے کہ دراصل آکسیجن کی کمی کی وجہ سے نظام تنفس ٹھپ ہوجاتا ہے جو اچانک حرکت قلب بند ہونے کا موجب بن جاتا ہے اور اس کو بھی کورونا سے جوڑا جارہا ہے ۔
مختصراً یہی کہاجاسکتا ہے کہ کورونا وائرس ہمارے آس پاس موجود ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم گھر کی چاردیواری تک محدود رہیں ۔بے شک عوام کودو وقت کی روٹی کا بندو بست کرنے کیلئے باہر نکلنا ہے لیکن روزی روٹی کمانے کے دوران عوام کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ کہیںوہ اپنے اور اہل خانہ کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندو بست کرنے کے دوران اپنے یا اہل خانہ کیلئے کسی بڑی پریشانی کا موجب تو نہیں بن رہے ہیں۔جب مکمل حفاظتی بندو بست سے لیس ڈاکٹر حضرات کووڈ کی زد میں آسکتے ہیں تو عام لوگوں کا بچنا محال ہی نظر آرہا ہے ۔اسی لئے عقلمندی اسی میں ہے کہ ہم کووڈ پروٹوکول پر سختی سے عمل کریں اور اپنی طر ف سے حتی المقدور کوشش کریں کہ اس وائرس سے محفوظ رہیں کیونکہ جب ہم خود محفوظ رہیں گے تو بحیثیت مجموعی سماج بھی محفوظ رہے گا اور اگر ہم خود خطرے میں پڑ گئے تو سماج کا بچنا پھر محال ہی ہے ۔اس لئے امید کی جاسکتی ہے کہ کل سے معمولات ِ زندگی بحال کرنے کے دوران لاپرواہی کی بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اور اپنے سماج کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔
 

تازہ ترین