تازہ ترین

جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ بحالی

وسعت قلبی کا مظاہرہ کیاجائے!

تاریخ    7 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


 جموںوکشمیر میں موبائل انٹرنیٹ کی مکمل بحالی ہنوز ایک خواب بنا ہوا ہے ۔گوکہ گاندربل اور ادہم پور اضلاع میں 4۔جی موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا دعویٰ کیاگیا ہے تاہم ان دواضلاع کے لوگوں کی بھی شکایت ہے کہ کہنے کو تو 4۔جی انٹرنیٹ چل رہاہے لیکن اس کی رفتار قطعی 4۔جی نہیں ہے بلکہ یہ 2۔جی سے ذرا بہتر ہے ۔باقی اضلاع میں مسلسل 2۔جی انٹرنیٹ سروس ہی چل رہی ہے اور ایک کے بعد ایک حکم نامہ جاری کرکے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ فی الحال اس یونین ٹریٹری میں موبائل انٹرنیٹ کی مکمل بحالی حکومت کے زیر غور نہیں ہے ۔اور تو اور ،اب تو مرکزی حکومت نے سست رفتار موبائل انٹرنیٹ کو لائق کار قرار دیا ہے کیونکہ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا کہ 2۔جی  انٹرنیٹ کے سہارے جموںوکشمیر کا آن لائن تعلیمی نظام بخوبی چل رہا ہے اور 4۔جی انٹرنیٹ کی زیادہ ضرورت نہیں ہے ۔
 انٹرنیٹ رفتار پر قدغن کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے اکثر وبیشتر ایسے جواز پیش کئے جارہے ہیں ،جو غیر منطقی لگتے ہیں۔حکومت کا کہنا کہ تیز رفتار انٹرنیٹ اس وجہ سے بحال نہیں کیاجاسکتا ہے کیونکہ دراندازی میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کی جانب سے ملک دشمن سرگرمیوں کیلئے اس کا استعمال ہوسکتا ہے ،بالکل بے تُکا سا بیان لگتا ہے ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ چند مٹھی بھر لوگوں کیلئے آپ سوا کروڑ آبادی کو کیسے یرغمال رکھ سکتے ہیں۔مانا کہ کچھ لوگ انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرسکتے ہیں لیکن وہ محدود رفتار کے ساتھ بھی ویسا کرسکتے ہیں ۔اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ محض اندیشوں کی بنیاد پر کروڑوں لوگوں کوجدید دور کی اس بنیادی ضرورت سے محروم رکھیں۔سپریم کورٹ نے بھی کشمیر انٹرنیٹ بندش کیس میں حکومت سے کہا تھا کہ غیر معینہ مدت کیلئے انٹرنیٹ پر پابندی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور یہ ضوا بط کے منافی ہی نہیں بلکہ دورِ جدید میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کے مترادف بھی ہے ۔گوکہ حکومت نے تب کہاتھا کہ انٹرنیٹ بحال کیاجارہا ہے لیکن اب جس طرح محض دو اضلاع میں آزمائشی بنیادوں پر انٹرنیٹ کی بحالی کے ساتھ ہی اس کیس کو نپٹایاگیا ،وہ حیرت میں ڈالنے والا تھا ۔ظاہر ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کے حوالے سے کوئی ٹھوس بیان نہیںدیاتھا تو ایسے میں کیس کو ہی داخل دفتر کرنے کرنا عجیب سا لگتا ہے ۔بہر حال عدالتی منطق کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے اور یقینی طور پر حکومتی دلائل سے اتفاق کرکے ہی عدلیہ نے کیس نپٹایاہوگا لیکن حکومت کو عدلیہ کے سابق احکامات کی روشنی میں اب پورے جموںوکشمیر میں انٹرنیٹ کی مکمل بحالی میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔
پہلے ہی مفصل تحقیقی رپورٹوں سے واضح کیاجاچکا ہے کہ انٹرنیٹ کی سُست رفتاری کی وجہ سے جموںوکشمیر کی معیشت ہی نہیں بلکہ تعلیمی شعبہ کو بے پناہ نقصانات سے دوچار ہونا پڑا،ایسے میں ارباب بست و کشاد کو اُن تحقیقی رپورٹوں کو خاطر میں لاتے ہوئے آزمائشی بنیادوں پر 4۔جی انٹرنیٹ کی بحالی کا چکر ختم کرکے پورے جموںوکشمیر میں برق رفتار انٹرنیٹ بحال کرنا چاہئے ۔بلا شبہ سیکورٹی معاملات پر حکام ہی بہتر فیصلہ لے سکتے ہیں کیونکہ ان کی معاملات پر عقابی نگاہ ہوتی ہے تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ سیکورٹی خدشات کی آڑ لیکر لوگوں کو اس بنیادی سے مسلسل محروم کرتے رہیں گے ۔ٹیکنالوجی کے دور میں انٹرنیٹ بنیادی ضرورت بن چکا ہے اور آپ لوگوںکو اس ضرورت سے کب تک یونہی محروم رکھیں گے۔
کورونا عروج پر ہے ۔تجارت کی چال بے ڈھنگی سی ہے ۔درس و تدریس کا نظام مفلوج ہے ۔ای کامرس ٹھپ ہے کیونکہ انٹرنیٹ نہیں ہے ۔محدود رفتار کے انٹرنیٹ سے ہونے والے نقصانات کا اگر شمار کرنے بیٹھیں تو فہرست بہت طویل ہوجائے گی اور اس سہولت کو محدود کرنے کے عذرات محدود ہی ہونگے ۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سے ہورہے نقصانات کو ملحوظ خاطر رکھ کر حکام بالا اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔ادہم پور اور گاندربل اضلاع میں یہ آزمائشی سلسلہ ختم کرکے انٹرنیٹ سروس کو مستقل بنیادوںپر چلانے کے علاوہ جموںوکشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی اس سروس کو بحال کیاجائے کیونکہ ٹیکنالوجی کے دور میں آپ سیکورٹی کے حوالے سے خدشات کو دیگرذرائع سے بھی ایڈرس کرسکتے ہیں۔
اس ضمن میں نئے لیفٹنٹ گورنر سے کچھ مثبت فیصلہ کی امید کی جاسکتی ہے کیونکہ تاحال اُن کا اپروچ مثبت ہی رہا ہے اور اُن کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ اُنہیں عوامی معا ملات کی فہم ہے اور وہ وسیع سیاسی تجربہ رکھتے ہوئے لوگوں کے مسائل سے بالکل غافل نہیں ہیں۔گزشتہ چند روز کے دوران ان کے بیانات سے ایسا ہی تاثر ملتا ہے کہ وہ عوامی بہتری کے فیصلوں میں کسی پس وپیش سے کام نہیں لیں گے۔ چونکہ انٹرنیٹ سروس کا معاملہ کورونا وبا کی وجہ سے بند پڑے تعلیمی اداروں کو دیکھتے ہوئے ہمارے مستقبل کے ساتھ براہ راست جڑا ہوا ہے ،تو امید راسخ ہے کہ لیفٹنٹ گورنر ترجیحی بنیادوں پر آزمائشی بنیادوں پر انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کا ورد کروانا بند کریں گے اور جموںوکشمیر کے عوام کو 4۔جی انٹرنیٹ سروس فراہم کروائیں گے جس سے وہ اب گزشتہ ایک برس سے زیادہ عرصہ سے محروم ہیں۔
 

تازہ ترین