تازہ ترین

دچھن میں مواصلاتی نظام ڈیڑھ ماہ سے ٹھپ | طلبا و مریض پریشان،ایک فون کرنے کیلئے کئی کلو میٹر کا سفر طے کرناپڑتاہے

تاریخ    6 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


عاصف بٹ
  کشتواڑ// جہاں حکومت  ملک کو  ڈیجیٹل بنانے کا دعویٰ کررہی ہے وہیں کشتواڑ کے دچھن علاقہ میں مواصلاتی نظام کا یہ حال ہے کہ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے سارا نظام ٹھپ پڑاہے جس کے نتیجہ میں نہ صرف عام لوگوں بلکہ طلاب کو بھی مشکلا ت کاسامناکرناپڑرہاہے۔ سب ڈویژن مڑواہ کی  تحصیل  دچھن میں واحد مواصلاتی نظام فراہم کرنے والی کمپنی بی ایس این ایل  پچھلے ڈیڑھ ماہ   سے مکمل  بند  ہے جس کے سبب علاقہ کے غریب عوام  کو ہر وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مقامی لوگوں نے  کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گزشتہ کئی سال سے بی ایس این ایل اس علاقے میں  اپنی خدمات انجام دے رہی ہے،لیکن ڈیڑھ ماہ کے زائد عرصے سے  اس کا سارا نظام ہی ٹھپ پڑاہے جس  کے سبب علاقہ کے لوگوں  کا ملک کے دیگر  حصوں میں اپنے رشتہ داروں و احباب  کے ساتھ  رابطہ نہیں ہوپارہا اور وہ  مجبور ہوکر گھر سے کئی کلومیٹردور جاکر ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر  ضلع ہیڈکواٹر کا رخ کرتے  ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا  کہا کہ ایسا  پہلی بار  نہیں ہوا کہ علاقہ میں مواصلاتی نظام ٹھپ ہوگیاہوبلکہ ہر ایک یا دو ماہ کے بعد ٹاور میں معمولی فالٹ آجاتا ہے جسے پھر ٹھیک کرنے میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ انتظامیہ غفلت کی نیند سوئی ہوئی ہے اور اسے ٹس سے مس نہیں ہورہا جس کا خمیازہ عام لوگ بھگت رہے ہیں۔مواصلاتی نظام کے  بند ہونے سے مریضوں و انکے تیمارداروں کو سخت مشکلات درپیش ہیں اور ان کا کسی سے رابطہ کرنا بھی مشکل ہے۔مقامی  لوگوں  نے سابقہ وزرااور ممبران قانون سازیہ و انتظامی افسران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ہر بار ان سیوعدے کئے  کہ بہت جلد  علاقہ میں  نجی کمپنی کے  ٹاور نصب کرکے مواصلاتی نظام کو بہتر بنایاجائے گالیکن وہ دن ابھی تک نہیں آیا اور لوگ آج بھی اسی انتظار میں ہیں کہ کب علاقہ میں چوبیس گھنٹے مواصلاتی نظام چل سکے گا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ  15روز قبل بی ایس این ایل حکام نے یہ بتایا تھا کہ تکنیکی خراب ہوئی تھی اور اسے ٹھیک کرنے کے لے سازوسامان لایا گیا ہے  اور  ٹیم بھی کام کررہی ہے اور بہت جلد علاقہ میں مواصلاتی نظام کو ٹھیک کیا جائے گا لیکن اتنا عرصہ گزرجانے  کے باوجود  اسے ٹھیک نہیں کیا گیا۔دچھن سے آئے مقامی نوجوانوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ علاقہ میں آج بھی ترقی کا نام ونشان نہیں ہے  اورجہاں ملک کو ڈیجٹیل بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں وہیں انتظامیہ آج تک انہیں بہتر  مواصلاتی نظام فراہم نہ کرپائی ہے۔ان کاکہناتھاکہ ان کے بچے آن لائن تعلیم سے محروم ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر بی ایس این ایل کمپنی لاکھوں روپے کماتی ہے تو پھر و ہ علاقہ میں بہتر سروس کیوں نہیں فراہم کرتی اورلوگوں سے کس بات کے پیسے وصول کئے جارہے ہیں۔انہوں نے مانگ کی کہ کمپنی کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ایک طالبہ نورینہ بانو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ پنجاب میں اپنی تعلیم حاصل کررہی تھی لیکن وبائی بیماری کے  پھیلنے کے  بعد وہ گھر آگئی اوراب کچھ عرصے سے اس کی آن لائن کلاسز چل رہی ہیں لیکن علاقہ میں فون بھی نہیں چلتاتو پھر انٹرنیٹ کہاں چلے گا۔انہوں نے کہاکہ وہ مجبورہوکر کشتواڑ آئی ہے اور اب یہاں سے آن لائن کلاسز میں حصہ لے رہی ہے۔نورینہ نے لیفٹنٹ گورنر سے اپیل کی کہ ان کے حال پر رحم کھاکر دچھن میں مواصلاتی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے تاکہ غریب لوگ دردر کی ٹھوکریں نہ کھائیں۔
 

تازہ ترین