تازہ ترین

کورونا وائرس اور عوامی لاپرواہی | اب تو بس کریں اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے

تاریخ    5 اکتوبر 2020 (00 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
ملک میں جان لیوا اور مہلک ترین عالمی وبا کورونا وائرس سے ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد65لاکھ کا ہندسہ عبور کرچکی ہے۔یہ اعدادوشمار کسی بھی طرح اطمینان بخش نہیں ہیں اور چیخ چیخ کر بتارہے ہیں کہ ملک میں کورونا ابھی بھی بے قابو ہی ہے ۔ایسے میں حالات ہم سے تقاضا کررہے ہیں کہ ہم زیادہ ہوش مندی کے ساتھ اپنے معاملات چلائیں ۔ویسے بھی ایک نئی تحقیق کے مطابق بھارت میں اگر فیس ماسک اور سماجی فاصلوں کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمدہوتا ہے تویکم دسمبر تک کم از کم 2لاکھ اموات کو روکا جاسکتا ہے۔امریکہ میں واشنگٹن یونیورسٹی کے انسٹی چیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ اوالویشن کی ایک سروے میں کہاگیا ہے کہ بھارت کے پاس اموات کم کرنے کا موقعہ ہے۔مذکورہ تحقیق کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے وضع کردہ رہنماخطوط پر مکمل طور عملدرآمد کیاجاتا ہے تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں ورنہ صورتحال گھمبیر ہوسکتی ہے کیونکہ بھارت میں ابھی بھی کووڈ انیس کا عروج پر پہنچنا باقی ہے اور ملک کی ایک بڑی آبادی کو اس وائرس سے خطرہ لاحق ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر لاک ڈائون قدغنوں میں یونہی نرمی برتنے کا سلسلہ جاری رہا اور لوگوں کی جانب سے فیس ماسک استعمال کرنے کا رجحان بھی موجودہ ہیت میں ہی رہا تو بھارت میں یکم دسمبر تک قریب پانچ لاکھ اموات ہوسکتی ہیں اور اس منظرنامہ میں کم ازکم 13ریاستوں میں دس ہزار سے زیادہ اموات ہونگیں اور ان ریاستوں میں جموںوکشمیر کو بھی شامل رکھاگیا ہے۔
 متذکرہ بالا تحقیق اگر چہ حوصلہ افزاء بھی ہے تاہم اس میں غور و فکر کا مواد بھی بدرجہ اتم موجود ہے ۔روز اول سے ہی ہم یہی بتاتے آرہے ہیں کہ خدا را کورونا کو ہلکا مت لیجئے او ر اس سے اپنے اور اپنے اہل خانہ کو بچانے کی کوشش کریں لیکن بدقسمتی سے کہنا پڑرہاہے کہ ہم اپنی بے ڈھنگی چال بدلنے کا نام لے رہے ہیں۔آج بھی آپ باہر نکلیں تو دیکھتے ہیںکہ ہم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ماسک کا کہیں نام ونشان نہیں ہے اور سماجی فاصلے گئے تیل لینے ۔بازاروں میں بھیڑ بھاڑ رہتی ہے ،جو تھوڑا بہت پبلک ٹرانسپورٹ چلنے لگا ہے ،وہاں حکومتی ہدایات کے باوجود سواریوں کو بھیڑ بکریوںکی طرح ہانکا جارہا ہے ۔مسافر گاڑیوں میں یاتو تمام سیٹیں بھری جاتی ہیں یا بسا اوقات اوور لوڈنگ بھی کی جارہی ہے حالانکہ سرکار کی واضح ہدایات ہیں کہ مسافر گاڑیاں صرف پچاس فیصد سواریاں ہی بھریں لیکن یہاں کوئی ماننے کو تیار نہیں ہے۔جہاں ڈرائیور حضرات خطا کار ہیں تو وہیں عام لوگ بھی کم سزاوار نہیں ہیں کیونکہ وہ جان بوجھ کر اس ہجوم کا حصہ بن رہے ہیں اور از خود بھیڑ بھاڑ کا باعث بن رہے ہیں۔
ظاہر ہے کہ یہ کوئی خوش کن صورتحال قرار نہیں دی جاسکتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں کووڈ انیس کے معاملات لگاتار بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں کیونکہ ہم احتیاطی تدابیر سے کوسوں دور ہیں۔ہمیں نہ اپنی پرواہ ہے اور نہ سماج کی ۔ظاہر ہے جس انسان کو اپنی پرواہ نہیں ہوگی تو وہ بھلا سماج کی پرواہ کیسے کرے۔تحقیق کہہ رہی ہے کہ اگر ہم فیس ماسک استعمال کریں اور سماجی فاصلے بنائے رکھیں تو ہم دو لاکھ اموات روک سکتے ہیں اور یہ کوئی معمولی تعداد نہیںہے ۔ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ہمارے معمولی سے اقدامات سے کتنا بڑا فرق پڑ سکتا ہے ۔تحقیق کہتی ہے کہ اگر موجودہ روش ہی برقرار رہی تو پانچ لاکھ افراد کی موت کیلئے تیار رہیں تو قطعی کوئی اچھی صورتحال قرار نہیں دی جاسکتی ہے ۔
حکومت بلا شبہ اپنی طرف سے بار بار احتیاطی تدابیر کی تشہیر کررہی ہے اور عوام پر زور دے رہی ہے کہ وہ ان پر عمل پیرا ہوجائیں لیکن بالآخر عوام کو ہی ان تدابیر پر عمل کرنا ہے ۔اگر عوام حکومتی ہدایات کو خاطر میں نہ لائیں تو اُس کا کیا کیاجاسکتا ہے ۔ظاہر ہے کہ ایسا کرکے ہم اپنی تباہی کا سامان کررہے ہیں اور اس صورت میں ہمیں انتہائی تباہ کن صورتحال کیلئے تیاررہناچاہئے تاہم بہتر ہے کہ ایسی صورتحال سے بچا جائے ۔بچا کیسے جاسکتا ہے؟ صرف اسی صورت میں بچا جاسکتا ہے جب ہم اپنی جان کی پرواہ کریں کیونکہ جب ہم اپنی جان کی پرواہ کریں گے تواس سے خود بخود سماج بچ جائے گا کیونکہ جب افراد بچیںگے تو سماج کا بچنا طے ہے۔
امید کی جانی چاہئے کہ لوگ اس وائرس کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے اس کو مذاق نہیں سمجھیں گے بلکہ اس کا خوف کھاتے ہوئے اپنے معمولات جاری رکھیں گے ۔کمانے پر کسی کو اعتراض نہیں ہے اور نہ ہی سرکار کہتی ہے کہ آپ لوگ اپنے معمولات سے باز رہیں۔سرکار کی بس ایک ہی التجا ہے کہ اپنے معمولات کے دوران احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں اور یہ احتیاط کا دامن تھامے رہنا اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔اگر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو کورونا کو شکست دی جاسکتی ہے تاہم اگر ہم نے من مانی یونہی جاری رکھی تو اس کے حملہ سے بچنا محال ہے ۔فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہمیں کیا چاہئے تاہم عقلمندی اسی میںہے کہ ہم کورونا کو حاوی نہ ہونے دیں اور عقل و دانش سے کام لیکر تمام ضروری احتیاطی اقدامات بروئے کار لاتے ہوئے اس کو شکست سے دوچار کریںجس میں ہم سب کی بھلائی کا راز مضمر ہے۔
 

تازہ ترین