تازہ ترین

بندھن

کہانی

تاریخ    4 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


شاہینہ یوسف
سجنا سنورنا! یہ سب شوق کس لڑکی میں نہیں ہوتا لیکن میں ان چیزوں سے پچپن سے ہی بے نیا ز تھی۔ایسا بھی نہیں تھا کہ میں اپنے آپ کی طرف توجہ نہ دیتی تھی لیکن اپنے آپ پر حد سے زیادہ توجہ دینا میں تضیع اوقات سمجھتی تھی ۔میں کبھی کبھی نہ جانے کن باتوں کو لے کر اپنا ذہن منتشر کرتی ہوں ،دراصل میں ہی نہیں بلکہ شاید ہر شخص بیٹھے بیٹھے نہ جانے خیالوں میں کہاں کی سیر کرتا رہتا ہے ۔کبھی پہاڑوں کی،کبھی سبزہ زاروں کی،تو کبھی کسی اور جگہ یہ سوچ کے دھارے ہمارے وجود کو لے جاتے ہیں ۔سوچ کے میدانوں سے واپس آکر میں نے آج اپنے کمرے کی حالت کا جائزہ لیا ۔آج نہ جانے کیوں مجھے یہ کمرہ بالکل ویران سا لگ رہا تھا ۔بکھرا ہوا بسترہ ،غرض ہر شئے نہ جانے کیوں آج مجھے بے رونق لگ رہی تھی۔آج کئی دنوں کے بعد مجھے اپنے کمرے کو سجانے کا خیال آیااور میں نے اپنے کمرے کو آج پھر سے خوش اندام بنایا۔کام ختم کرنے کے بعد میں  کالج کے لیے تیار ہو گئی۔
ابو میں کالج جارہی ہوں۔چائے پیئے بغیر ۔۔۔۔ابو آج زیرو کلاس ہے۔ دراصل ہماراسیلیبس syllabus)) ابھی مکمل نہیں ہوا اسی لیے ہمارے اساتذہ زیرو کلاس (zero class)لے رہیں ہیں ۔ہر بار کی طرح ابو نے بھی مجھ سے زیادہ سوالات نہ پوچھے اور مجھے الوداع کہہ دیا ۔امی سے میں نے آج اجازت نہ چاہی کیوں کہ امی ہر بار کی طرح مجھ پر سوالوں کی بوچھاڑ کر ڈالتی اور مجھے کالج کے لیے دیر ہو جاتی۔یوں تو میرا کالج گھر سے صرف بیس منٹ کی دوری پر تھا لیکن میں اکثر گاڑی میں ہی جانے کو ترجیح دیتی لیکن جب کبھی ٹریفک جام ہوتا تو میں پیدل چلنے کو ترجیح دیتی۔ آج بھی ایسا ہی ہوا آج سڑک پر معمول سے زیادہ ٹریفک تھا اور میں نے پیدل ہی کالج کی راہ لی۔یوں تو میری سہیلی رضیہ کبھی کبھی سڑک پر میرا انتظار کرتی لیکن اگر مجھے دیرہوجاتی تو وہ کالج کی طرف چل پڑی۔تھوڑی دور جا کر آج میں نے راستے میں ایک ضعیف شخص کو دیکھا جس کا دماغی توازن بھی ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ۔یوں تو میں ایسے افراد سے بہت ڈر جاتی ہوں لیکن میں نے دل کو مضبوط کر کے قدم آگے بڑھائے۔اتنے میں وہ شخص میری جانب آتا گیا اور مجھ سے منتیں کرنے لگا کہ بیٹا مجھ سے باتیں کرو میرا کلیجہ پھٹا جا رہا ہے۔میں ڈر کے اس سے دور جانے لگی ،وہ منتیں کرتا میرے سامنے آنے کی کوشش کرتا گیا ۔آخر کار میں اس شخص سے پیچھا چھڑانے میں کامیاب ہو گئی۔
شام کو کالج سے واپس آتے وقت میں بس میں چڑھ کر ہی گھر واپس آئی۔اگر چہ شام تک میرے ذہن میں اس شخص کا خیال کہیں نہ کہیں تھا لیکن صبح ہونے تک میں ا س واقعے کو پورا بھو ل چکی تھی ۔صبح اٹھ کر میں نے چائے پی اور میں کالج کے لیے تیار ہونے لگی۔گاڑی نہ ملنے پر میں نے پیدل ہی قدم آگے بڑھائے۔میں جوں ہی گھر سے آگے نکل گئی وہ ضعیف شخص، جس سے کل میں نے اپنی جان چھڑائی تھی، جیسے وہاں میرا ہی انتظار کر رہا تھا۔اس کو دیکھ کر میں پھر سے دم بخود ہوگئی اور میں نے چاہا کہ میں گھر ہی واپس جاؤں لیکن آج اُس شخص نے جیسے مجھ سے ملنے کا عزم کیا تھا ۔وہ برق سی تیز رفتاری کے ساتھ میرے روبرو کھڑا ہوگیا ’’بیٹا تم گھر کیوں نہیں آتی میں تمہارا ابّو ہوں۔۔۔۔۔دیکھو دیکھو میں تمہارا ابّو ہوں ۔میرادل آج نہ جانے کیوں اس سے باتیں کرنے کے لیے تیار ہو گیا ۔ اُس شخص کی بے بسی اور اس کے لیجئے سے عیاں غم مجھے نہ جانے کیوں بے قرار کرنے لگا ،جیسے اُس شخص سے میری صدیوں کی جان پہچان تھی۔میں اُس شخص کا درد اور کرب سننے کے لیے رُکنے ہی والی تھی کہ میری امی دفعتاََ اس راہ میں آکر کھڑی ہو گئی اور میرے بازوں کو کھنیچ کر مجھے گھر لے گئی ،میں نے امی کو سمجھانا چاہا کہ میں ایک بار اس کی باتیں سنوں گی کہ یہ مجھ سے کیا کہنا چاہتا ہے۔
امی نے میری ایک نہ سُنی اور مجھے گھر لے گئی۔۔۔۔۔۔’’اجنبیوں کی باتیں اور وہ بھی جن کا دماغی توازن ٹھیک نہ ہو، ایک بڑے گھر کی بیٹی کو سننا شبہ نہیں دیتا ‘‘۔میں امی سے کچھ کہے بغیر ہی اپنے کمرے میں چلی گئی۔دوسرے دن امی کے اصرار پر میں گاڑی میں کالج گئی۔دو تین دن گزرنے کے بعد مجھے پھر اُسی ضعیف شخص کا خیال آیا اور میں آج امی سے چھپ کر پیدل کالج چلی گئی لیکن کئی دنوں تک اسی راستے سے گزرتے ہوئے مجھے وہ ضعیف شخص نظر نہ آیا ۔ایک ہفتے لگاتار اسی راستے سے گزرتے ہوئے جب مجھے اُس شخص کا کوئی سراغ نہ ملا تو ایک دن میں نے گھر میں ہی تہیہ کر لیا کہ میں اُس شخص کے متعلق کسی سے پوچھوںگی لیکن جوں ہی میں اُس گلی میں پہنچی وہاں سے کسی کی میت کو قبرستان لیا جا رہا تھا ۔انسان بھی کتنا بے بس ہے نہ اپنی مرضی سے اس دنیا میں آسکتا ہے اور نا ہی جا سکتا ہے۔۔۔۔۔میں یہی بات اس جنازے کو دیکھ کر سوچنے لگی کہ ایک لڑکی اس جنازے کے پیچھے پیچھے چل کر صرف یہ نالے دے رہی تھی کہ ’’ابو دیکھو میں آگئی ہوں ۔آج میں نے اپنے آپ کو ہر اُس بندھن سے آزاد کر دیا جو ہم باپ بیٹی کو جدا کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔میں نے ہر مجبوری سے رشتہ توڑا۔اب میں آپ کے پاس رہوں گی ابو ۔۔۔۔آپ کی چھوٹی سی گڑیا بن کر ۔۔۔۔۔اب میں نے اپنے نام سے اُس نام کو بھی ہٹایا ہے جو میری مجبوری کی وجہ تھی۔۔۔۔۔اب میں صرف اور صرف آپ کے نام سے ہی جانی جاؤں گی۔اس لڑکی کی درد خیز داستان سُن کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے وہاں پر موجود ایک اور عورت سے اس کے بارے میں کا پوچھا۔سُنو بیٹا ’’یہ جو میت جارہی ہے اس لڑکی کے والد کی ہے ۔یہ لڑکی جو زارو قطار سے رو رہی ہے دراصل اس کی اکلوتی بیٹی ہے ۔اس کی شادی تین سال پہلے کر دی گئی پہلے پہلے اس لڑکی کو وہاں بڑے ناز ونعم کے ساتھ رکھا گیا لیکن جوں ہی وقت گزرتا گیا اس پر تشدد ہونے لگا ۔اسے کبھی میکے سے ایک چیز کو لانے کی فرمائش کی جاتی تو کبھی دوسری چیز ۔۔۔۔۔اسے یہ بات اچھے سے سمجھائی گئی کہ میکہ میکہ ہوتا ہے اور سسرال سسرال ۔۔۔۔۔اس لڑکی نے دو سال تک بہت برداشت کیا اوراس کے سسرال والوں کی زیادتوں میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا گیا  یہاں تک کچھ مہینوں پہلے اس کا میکے آنا بھی بند کر دیا گیا اور اس سے قیدیوں کی طرح رکھا گیا۔۔۔۔۔اپنی اکلوتی بیٹی کو دیکھے بغیراس کے والد نے اپنا دماغی توازن کھو دیا ۔۔۔۔۔اور ہر صبح وہ اسی راہ پے کھڑا ہر لڑکی کو اپنی اولاد سمجھ کر اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔۔آج جوں ہی اس کی بیٹی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور اس نے سسرال چھوڑ کر میکے کی راہ لی تو بہت دیر ہوگئی تھی۔۔۔۔وہ جوں ہی میکے پہنچی تو اس کے والد اس کے غم سے نڈھال ہو کر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تھے۔۔۔۔‘‘۔
اس عورت کے درد خیز الفاظ سُن کر مجھ پر جیسے لرزہ طاری ہوگیا اور میں یہ سوچنے لگی کہ کیا شادی کے بعد ایک لڑکی کے اپنے سارے اختیارات ختم ہو جاتے ہیں؟ کیا اُ س کے والدین اُسے بڑے نازو نعم سے صرف اس لیے پال پوس کر بڑا کرتے ہیں کہ کل کو کوئی اس کے پر کاٹ لے ۔۔کیسا سماج ہے ۔۔۔۔کیا اس معاشرے میں ابھی بھی کچھ ایسے افراد ہے جو لڑکیوں پر اس طرح کا جبرو استحصال کرتے ہیں ۔۔۔۔اس لڑکی کی آہ و فریاد سُن کر میں اپنے آنسوں نہ روک پائی اور میرے اشک میرے اختیار سے بے قابو ہوگئے۔یہ منظر دیکھ کر میں کالج نہ جا کر گھر ہی واپس چلی گئی اور پورا دن اپنے کمرے میں قید رہ کر میں شام کے وقت سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔ایک دو دن لگاتار اس واقعے کے بارے میں سوچ کر آخر میں اپنے کام میں مصروف ہو کر کافی حد تک اس واقعے کو بھولنے لگی ۔شاید یہ دنیا ہی ایسی ہے یہاں کچھ بھی اُجڑ جائے ،  کتنے ہی لوگ مر کیوں نہ جائے ،کتنی ہی بستیاں کیوں نہ اُجڑ جائیں دو دن آنسوں بہانے کے بعد لوگ سب بھول جاتے ہیں اور اپنے کام میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔اپنی یاداشت سے اس واقعے کا عکس مٹتے ہوئے  دیکھ مجھے نویں جمات میں ایک مضمون میں شامل ایک شعر بار بار یاد آرہا ہے ؎
نہ جانے کن حسین ہاتھوں نے رکھی ہے بِنا اس کی 
یہ دنیا لاکھ بگڑے اس کی رعنائی نہیں جاتیٌ
ٌٌٌٌٌ
ریسیرچ اسکالر شعبئہ اردو سینٹر ل یونی ور سٹی آف کشمیر
ای میل؛shaheenayusuf44@gmail.com

تازہ ترین