فیصلہ اقلیتوں کیلئے لمحۂ فکریہ: آغا حسن

تاریخ    2 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


سرینگر//بابری مسجد انہدام کیس کے تمام ملزمین کی رہائی اور انہیں کلین چٹ دینے کے فیصلے کو بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کیلئے لمحہ فکریہ قرارد یتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے صدرآغا سید حسن نے کہا کہ یہ فیصلہ سراسر ناانصافی پر مبنی ہے اوریہ فیصلہ بھارتی مسلمانوں کی مظلومیت اور بے بسی کا عکاس ہے۔ ایک بیان میں آغا حسن نے کہا کہ بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہوئے جب گزشتہ برس بابری مسجد کو رام جنم بھومی قرار دنے کے فیصلے کولیکر رام مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی، اُسی وقت اس مسماری کیس سے ملزمین کی رہائی کا راستہ ہموار ہوچکا تھا اور موجودہ فیصلہ بھارتی مسلمانوں کیلئے غیر متوقع نہیں تھا۔ آغا حسن نے کہا دنیا جانتی ہے کہ کس طرح بی جے پی لیڈروں کی طرف سے رتھ یاترا کا اہتمام کیا گیا اور یاترا میں شامل لاکھوں ہندؤں نے ایک منظم طریقے پر مسجد پر دھاوا بول دیا اور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ آغا حسن نے کہاکہ اس کے باوجود یہ استدلال مسجد کی انہدامی کا واقعہ اچانک پیش آیا اور کوئی پیشگی منصوبہ بندی نہ تھی ،مضحکہ خیز ہے۔ آغا حسن نے کہا کہ بھارتی مسلمان اس وقت تاریخ کے ایک انتہائی مشکل اور دشوار ترین دور سے گزر رہی ہے جہاں انہیں اپنا وجود اور تشخص کو محفوظ رکھنے کیلئے نہایت تدبر، اتفاق اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک سے اپیل کی کہ وہ بھارتی مسلمانوں کے درد و کرب کو محسوس کریں اور بھارتی مسلمانوں کے حق میں دین و انسانیت کے ناطے آواز بلند کریں۔ 
 

تازہ ترین